کرنل شیر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کرنل شیر خان
Karnal Sher Khan
1 جنوری 1970 – 5 جولائی 1999 (عمر 29 سال)
مقام پیدائش صوابی، صوبہ سرحد، پاکستان
مقام وفات وادی مشکوہ، جموں و کشمیر، بھارت
وابستگی Flag of Pakistan.svg پاکستان
نوکری/شاخ  پاک فوج
سالہائے کار 1994–1999
عہدہ کپتان
یونٹ 27 سندھ رجمنٹ
12 ناردرن لائٹ انفنٹری
جنگیں/محارب کارگل جنگ
اعزازات نشان حیدر


کیپٹن کرنل شیر خاں شہید


کیپٹن کرنل شیر خان شہید (19701999) پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع صوابی ایک گاؤں نواں کلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔


کیُٹن شیر خان چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اُنکی والدہ کا انتقال 1978 میں ہوا جب شیر خان کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اُنکی پرورش پھوپیوں اور چاچیوں نے کی ۔ اُنکا خاندان مکمل طور پر مذہبی ہے۔ جسکی وجہ سے شیر خان مکمل طور پر اسلامی تعلیمات اور افکار پر عمل کرت تھے

'تعلیمی سفر اور کیرئیر

گورنمنٹ کالج صوابی سے اپنا انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنی ٹریننگ مکمل کی اور رسالپور کے بنیادی فلائنگ ونگ میں الیکٹریکل فٹر(اییروناٹیکل) کے طور پر تعینات ہوئے۔ اسدوران انہیوں نے دو بار پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کی کوشش کی جسمیں دوسری دفعہ کامیابی حاصل کی۔اور1992 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی اور 1994 میں 90لانگ کورس سے گریجویشن مکمل کی۔ انکی پہلی تعیناتی ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے ساتھ اوکاڑہ میں ہوئی۔انکے چہرے پہ ہمیشہ ایک فوجی کی مسکراہٹ رہتی تھی جس کی وجہ سےشیراکے لقب سے مشہور تھے۔کیُٹن شیر خان اپنے آفیسرز اور ساتھیوں کے درمیان بھی بہت مشہور تھے۔۔ جنوری 1998 میں انہوں نے خود کولائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لئے پیش کیا جہاں وہ ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے طرف سے ناردرن لائن انفنٹری میں تعینات ہوئے


(نوٹ) یہ صرف انگلش والے حصے کا ترجمہ ہے۔ جسکی میں تصدیق نہیں کر سکتا


ابتدائی زندگی کیُٹن شیر خان چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اُنکی والدہ کا انتقال 1978 میں ہوا جب شیر خان کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اُنکی پرورش پھوپیوں اور چاچیوں نے کی ۔ اُنکا خاندان مکمل طور پر مذہبی ہے۔ جسکی وجہ سے شیر خان مکمل طور پر اسلامی تعلیمات اور افکار پر عمل کرت تھے

تعلیمی سفر اور کیرئیر

گورنمنٹ کالج صوابی سے اپنا انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنی ٹریننگ مکمل کی اور رسالپور کے بنیادی فلائنگ ونگ میں الیکٹریکل فٹر(اییروناٹیکل) کے طور پر تعینات ہوئے۔ اسدوران انہیوں نے دو بار پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کی کوشش کی جسمیں دوسری دفعہ کامیابی حاصل کی۔اور1992 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی اور 1994 میں 90لانگ کورس سے گریجویشن مکمل کی۔ انکی پہلی تعیناتی ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے ساتھ اوکاڑہ میں ہوئی۔انکے چہرے پہ ہمیشہ ایک فوجی کی مسکراہٹ رہتی تھی جس کی وجہ سےشیراکے لقب سے مشہور تھے۔کیُٹن شیر خان اپنے آفیسرز اور ساتھیوں کے درمیان بھی بہت مشہور تھے۔۔ جنوری 1998 میں انہوں نے خود کولائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لئے پیش کیا جہاں وہ ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے طرف سے ناردرن لائن انفنٹری میں تعینات ہوئے


(نوٹ) یہ صرف انگلش والے حصے کا ترجمہ ہے۔ جسکی میں تصدیق نہیں کر سکتا


مزید دیکھئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


دبیز متن