گجرات
| اس مضمون یا قطعہ کو وکیپیڈیا کے معیار کے مطابق از سر نو لکھنے کی ضرورت ہے۔ برائے مہربانی اسے بہتر بنائیں۔ |
| ہو سکتا ہے کہ اس مقالہ کی ویکائی کرنے کی ضرورت ہو تاکہ یہ وکیپیڈیا کے کیفیت معیار پر پورا اتر سکے۔ براہ کرم مقالہ میں اندرونی متعلقہ روابط ڈال کر یا مقالہ کے خاکہ میں بہتری لا کر مدد کریں۔ |
گجرات، صوبہ پنجاب کا ایک شہر اور ضلع گجرات کا صدر مقام ہے۔ گجرات پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شمال میں واقع ہے۔ اس ضلع کے مشرق میں گرداس پور خالصتان شمال مشرق میں جموں شمال میں بھمبر اور جہلم مغرب میں منڈی بہاؤالدین جنوب مغرب میں سرگودھا جنوب میں گوجرانوالہ اور جنوب مشرق میں سیالکوٹ واقع ہے۔ یہ شہر مشہور شاھرا جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ اس ضلع کے جنوب سے دریاۓ [[چناب]] اور شمال سے دریاۓ جہلم گزرتا ہے۔ اس ضلع کی تین تحصیلیں گجرات کھاریاں اور سراۓ عالمگیر ہیں۔ پاکستان کے مشہور سیاستدانوں چوہدری شجاعت حسین [سابق وزیراعظم،سربراہ مسلم لیگ ق] چوہدری پرویز الہی [سابق وزیر اعلے،مسلم لیگ ق] چوہدری احمد مختار[پی پی پی] چوہدری قمر زماں کائرہ[پی پی پی] کا تعلق اسی ضلع سے ہے.اس ضلع کے تین فوجی جوان نشان حیدر حاصل کر چکے ہیں.جن میں میجر عزیز بھٹی،میجر شبیر شریف اور میجر محمد اکرم شامل ہیں۔
فہرست |
محل وقوع
گُجرات دریائے چناب کے کنارے آباد ہے ۔ لاہور سے120 کلومیٹر جنوب میں ہے ۔ آس پاس کے مشہور شہروں میں وزیرآباد، گوجرانوالہ ، لالہ موسیٰ، جہلم، کوٹلا ، منڈی بہاالدین اور آزاد کشمیر شامل ہیں ۔ شہر سینکڑوں دیہاتوں میں گھِرا ہوا ہے۔ جہاں سے لوگ کام کاج کیلئے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ضلع گُجرات کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔
جغرافیہ
یہ قدیمی شہر دریاؤں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی زمین بہت ذرخیز ہے، زیادہ تر گندم ، گنے اور چاول کی کاشت کیلئے موزوں ہے۔ گجرات کے شمال مشرق میں جموں کشمیر اور شمال مغرب میں دریائے جہلم واقع ہے جو گجرات کو ضلع جہلم سے علیحدہ کرتا ہے۔ مشرق اور جنوب مشرق میں دریائے چناب جو ضلع گجرات کو ضلع گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے علیحدہ کرتا ہے اور جنوب میں منڈی بہاؤالدین واقع ہے- ضلع گجرات کا رقبہ تقریبا 3192 مربع کلومیٹر ہے اور یہ تین تحصیلوں،جن میں تحصیل گجرات، کھاریاں اور سرائے عالمگیر شامل ہیں۔
تاریخ
گجرات ایک قدیمی شہر ہے۔ برطانوی تاریخ دان Gen. Cunningham کے مطابق گجرات شہر 460 قبل مسیح میں راجہ بچن پال نے دریافت کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسکندر اعظم کی فوج کو ریاست کے راجہ پورس سے دریائے جہلم کے کنارے زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کے محکمانہ نظام کی بنیاد 1900میں برطانوی سامراج نے ڈالی، جو علاقہ کے چوہدری دسوندھی خان، جو محلہ دسوندھی پورہ کے رہنے والے تھے، کی مدد سے شروع کی گئی۔ مغلیہ دور میں، مغل بادشاہوں کا کشمیر جانے کا راستہ گجرات ہی تھا۔ شاہ جہانگیر کا انتقال کشمیر سے واپسی پر راستے میں ہی ہو گیا، ریاست میں بدامنی سے بچنے کیلئے انتقال کی خبر کو چھپایا گیا اور اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکال کر گجرات میں ہی دفنا دی گئی، جہاں اب ہر سال شاہ جہانگیر کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے۔ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دو بڑی لڑائیاں اسی ضلع میں لڑیں گئیں، جن میں چیلیانوالہ اور گجرات کی لڑائی شامل ہیں۔ اور گجرات کی لڑائی جیتنے کے فورا بعد انگریزوں نے 22فروری 1849 کو پنجاب کی جیت کا اعلان کر دیا۔ گجراتیوں کے بارے میں ایک کہاوت "جوتی چک" کے نام مشہور ہے۔ ہوا یوں کہ ایک ہندو اس راستے سے کہیں جا رہا تھا۔ گجرات سے آگے نکل کر اس کی بیوی گم ہو گئی، اس نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ اس کی جوتی چوری ہو گئی ہے۔ "اصل میں پرانی سنسکرت میں "جوتی" بیوی کو کہا جاتا تھا۔"
تاریخی باقیات
ایسی کئی تاریخی عمارتیں اور باقیات کھنڈروں کی شکل میں گجرات کے آس پاس موجود ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ جسے "جی ٹی روڈ" بھی کہا جاتا ہے، شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی جو گجرات کے پاس سے گزرتی ہے، ابھی تک جوں کی توں موجود ہے- یہاں کے زیادہ تر لوگ آرائیں مہر ،جٹ وڑائچ ہیں۔ قریبی قصبوں میں شادیوال، کالرہ کلاں، کنجاہ، ڈنگہ، کوٹلہ کری شریف, Karianwala اورجلالپور جٹاں شامل ہیں۔
وجہ شہرت
گجرات معروف رومانى داستان سوہنى ميہنوال كا شہر ہے جہاں غيرت مندوں نے عشق كے بخار ميں مبتلا سوہنى كو چناب ميں ڈبو كر مار ديا تها (اگر اس داستان میں کوئی حقیقت ہے تو یہ اسلامی انصاف سے متصادم ہے، یہ اور بات ہے کہ آج بھی لاتعداد جگہوں پر اسلامی انصاف کا گلا اسلام کے نام پر ہی گھوٹا جا رہا ہے) آج يه شہر جاٹوں كا شہر ہے ۔ شہر کے وہ لوگ جو کہ طاقتور ہیں جو کہ پرانی اقدار کے پیروکار اور تعلیم سے نابلد ہیں انکی وجہ سے آج تک علاقے کے عام افراد کی زندگی دشوار اور تنگ ہے۔
صعنت
گجرات بجلى كےپنكھوں اور جوتوں كي صعنت ميں ايك نام ركھتا ہے
ايكسپورٹ
گجرات جو آج بجلى كےپنكھوں اور جوتوں كي صعنت ميں ايك نام ركھتا ہے ليكن گجرات كى ايكـ بہت بڑى صعنت يورپ كو مزدور ايكسپورٹ كرنا ہے يورپ كے كسى بھى شہر ميں چلے جائيں آپ كو گجراتى مل جايں گے۔ پنجاب كا ايك شہر جہاں كے بہت سے لوگ يورپ ميں چھوٹے كام كرتے ہيں يورپ ميں جا كر گجراتى لوگ راج مزدور اور نائيوں كا كام كرتے ہيں کیونکہ ان میں سے اکثر غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں (جسکی وجوہات کسی اور جگہ اسلامی اور پاکستانی دنیا کی شرح خواندگی کے مضمون میں بیان کی جائیں گی) ۔ اس كے علاوہ ایک اور بات جو کہ یقنا تکلیف دہ تو ہے مگر چونکہ حقیقت ہے اس لیۓ ذکر نا کرنا بھی قلم سے ناانصافی ہوگی کہ ان اکثر غیر تعلیم یافتہ (اور بعض اوقات تعلیم یافتہ بھی) (یہ بات وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں جو کہ ان کو ان غیر ملکی ممالک میں دیکھـ چکے ہیں ۔ سونے پر سہاگہ کہ اکثر اپنی غیر اخلاقی حرکتوں پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے!!
|
||||||||||||||||||||||||||