گرہی بلائط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
An illustration of the Girih tiles
An illustration of patterned Girih tiles
An illustration of patterned Girih tiles (half and half)

گِرہی بلاط پانچ بلائط کا ایسا طاقم ہے جو قدیم اسلامی معماری میں عمارات کی تزئیں کے لیے بلاطی قرینے بنانے میں استعمال ہوتا تھا۔ یہ 1200ء سے پہلے سے زیر استعمال رہا ہے مگر ان ترتیبوں میں 1453ء میں اصفہان میں تعمیر ہونے والے مزار دربِ الاامام میں خاصی بہتری دیکھی گئی۔

بلائط کی پانچ اشکال یوں ہیں:

  • باقاعدہ دس اضلاع جس کے دس اندرونی زاویے 144° ہیں؛
  • لمبوترا (بےقاعدہ محدب) مسدس جس کے اندرونی زاویے 72°، 144°، 144°، 72°، 144°، 144° ہیں؛
  • کمانی-بندھن (بےقاعدہ محدب مسدس) جس کے اندرونی زاویے 72°، 72°، 216°، 72°، 72°، 216° ہیں؛
  • لوزی جس کے اندرونی زاویے 72°, 108°, 72°, 108° ہیں؛ اور
  • باقاعدہ مخمس جس کے اندرونی زاویے 108° ہیں۔

ان اشکال کی تمام اطراف برابر ہیں؛ اور تمام زاویے 36° کے مضرب ہیں۔ مخمس کے علاوہ تمام دو قائم الزاویہ لکیروں کے بیچ بالعکسی تناظر رکھتے ہیں۔ کچھ کے پاس مزید تناظر ہیں۔

اصطلاح term

گرہ
بلاط
قرینہ

knot
tile
pattern


گرہی ان لکیروں کو کہتے ہیں جو ان بلائط کی تزیئں کرتی ہیں۔ گرہی قرینے بنانے کے لیے بلائط استعمال ہوتی ہیں۔ یہ لفظ اردو گِرہ سے نکلا ہے۔[1] عموماً قرینوں میں بلائط کے محیط نظر نہیں آتے۔

گرہی بلائطوں کا ریاضی[ترمیم]

2007ء میں جامع ہارورڈ کے پیٹر لو نے مقالہ لکھا جس میں واضح کیا کہ گرہی بلائط کے خوائص خود مشابہ فریکٹل نیم قلمی بلائط سے ملتے جلتے ہیں جیسا کہ پینروز بلائط مگر یہ ان سے پانچ صدیاں پہلے کے ہیں۔[2][3]



نگار خانہ[ترمیم]