گرین لینڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گرین لینڈ
Greenland
Kalaallit Nunaat
قومی ترانہNunarput utoqqarsuanngoravit (کلالی سوت)
دارالحکومت
(اور عظیم ترین شہر)
نوک
64°10′N 51°44′W / 64.167°N 51.733°W / 64.167; -51.733
دفتری زبان(یں) گرین لینڈک[a]
دوسری زبانیں ڈینش[a]
نسلی گروہ 
  • 89% گرین لینڈک (اور یورپی مخلوط)
  • 11% یورپی[b]
نام آبادی گرین لینڈک
حکومت آئینی بادشاہت میں پارلیمانی جمہوریت
 -  ملکہ مارگریتھ دوم
 -  ہائی کمشنر Mikaela Engell
 -  وزیر اعظم Kuupik Kleist
مقننہ گرین لینڈ پارلیمنٹ
مملکت ڈنمارک کے تحت خود مختاری
 -  ناروے سے آزادی 1261 
 -  رابطہ دوبارہ قائم 1721 
 -  معاہدہ کیل 14 جنوری 1814 
 -  حیثیت 5 جون 1953 
 -  مقامی حکومت 1 مئی 1979 
 -  مزید خود مختاری اور مقامی حکومت 21 جون 2009[1][2] 
رقبہ
 -  کُل 2,166,086 مربع کلومیٹر (بارہواں)
836,109 مربع میل 
 -  پانی (%) 83.1[d]
آبادی
 -   تخمینہ 56,370[3] 
 -  کثافت 0.026 فی مربع کلومیٹر (242nd)
0.069 فی مربع میل
خام پیداوار (مساوی قوتِ خرید) 2012 تخمینہ
 -  کُل 11.3 بلین کرون.[4] (n/a)
انسانی ترقیاتی اشاریہ (1998) 0.927 (دستیاب نہیں)
کرنسی ڈینش کرون (DKK)
منطقۂ وقت (UTC+0 to −4)
گاڑی چلانے کہ سمت دائیں جانب
ملکی بلند ترین اسمِ ساحہ .gl
رمز بعید تکلم
 (کالنگ کوڈ)
+299

گرین لینڈ ڈینش زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب "لوگوں کی سرزمین" ہے۔ یہ خود مختار ملک ڈنمارک کی مملکت کا حصہ ہے اور بحرِ منجمد شمالی اور بحرِ اوقیانوس کے درمیان واقع ہے۔ اس کے مغرب میں کینیڈا کا کچھ علاقہ موجود ہے۔

1979 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو اندرونی خود مختاری دے دی تھی اور 2008 میں گرین لینڈ نے مقامی حکومت کو زیادہ اختیارات دینے کے لئے رائے دی ہے۔ اگلے سال سے یہ باقاعدہ عمل میں آ گیا تھا اور ڈنمارک کی بادشاہت کے پاس اب خارجہ، دفاع اور معاشی پالیسی ہی باقی رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈنمارک گرین لینڈ کو کل 11300 امریکی ڈالر فی باشندہ مہیا کرتا ہے۔

رقبے کے لحاظ سے گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو برِ اعظم کا درجہ نہیں رکھتا اور دنیا کا سب سے کم گنجان آباد ملک بھی گرین لینڈ ہی ہے۔گرین لینڈ کا مرکزی حصہ برف کے نیچے دبنے کی وجہ سے سمندر کی سطح سے نیچے دھنس گیا ہے اور اگر یہ برف پگھل جائے تو گرین لینڈ کا زیادہ تر وسطی علاقہ زیر آب آ جائے گا۔

تاریخ[ترمیم]

قبل از تاریخ گرین لینڈ میں لگاتار اسکیمو ثقافتیں موجود رہی تھیں جن کے ثبوت اب آثار قدیمہ کی صورت میں موجود ہیں۔2500 ق م سے لے کر 800 ق م تک جنوبی اور مغربی گرین لینڈ میں سقاق ثقافت کے لوگ بستے تھے۔ اس دور کی زیادہ تر نشانیاں ڈسکو کی خلیج کے آس پاس موجود ہیں۔ 2400 ق م سے لے کر 1300 ق م تک شمالی گرین لینڈ کی پہلی آزاد ثقافت قائم رہی تھی۔ یہ ثقافت آرکٹک کی چھوٹے اوزاروں کی صنعت کا حصہ تھی۔

800 ق م میں جب سقاق لوگ یہاں سے ناپید ہوئے تو ان کی جگہ ڈورسیٹ ثقافت نے لے لی جو مغربی گرین لینڈ میں آباد تھے اور شمال میں دوسری آزاد ثقافت آن بسی۔ ڈورسیٹ ثقافت پورے گرین لینڈ کے ساحلوں پر پھیلی ہوئی پہلی تہذیب تھی اور 15ویں صدی عیسوی میں یہ ختم ہوئی۔ ان کی جگہ ٹھل لوگ آئے۔ ڈورسیٹ لوگوں کا زیادہ تر انحصار وہیل کے شکار پر تھا۔ ٹھل لوگ گرین لینڈ کے موجودہ باشندوں کے آباؤ اجداد ہیں۔ یہ لوگ 1000 عیسوی میں الاسکا سے ادھر آنے لگے اور تیرہویں صدی عیسوی میں گرین لینڈ آن پہنچے۔ انہی لوگوں نے گرین لینڈ میں پہلی بار نئی جدتیں جیسا کہ کتا گاڑی اور رخ بدلتے ہارپون متعارف کرائے۔

986 عیسوی سے گرین لینڈ کا مغربی ساحل آئس لینڈ اور ناروے کے باشندوں نے آباد کرنا شروع کر دیا۔ یہ آبادیاں جزیرے کے انتہائی جنوب مغربی دو کھاڑیوں پر واقع تھیں۔ ان کے ساتھ ہی ڈورسیٹ لوگ شمالی اور مشرقی علاقوں میں آباد تھے۔ بعد ازاں ڈور سیٹ لوگوں کی جگہ ٹھل لوگ آ بسے۔ ان میں سے کچھ آبادیاں صدیوں تک قائم رہیں اور پندرہویں صدی میں ختم ہوئیں۔ شاید ان کے خاتمے کی وجہ مختصر برفانی دور تھا۔ برفانی تہوں کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ آٹھویں اور تیرہویں صدی کے درمیان یہاں کا موسم کافی مناسب تھا اور یہاں درخت بھی موجود تھے اور لوگ گلہ بانی کرتے تھے۔ تاہم یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ ایک لاکھ سالوں کے دوران گرین لینڈ میں درجہ حرارت میں ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

آئس لینڈ کی آبادیاں یہاں سے چودہویں اور پندرہویں صدی کے دوران ختم ہو گئیں جس کی ممکنہ وجہ قحط سالی یا انوئت لوگوں سے بڑھتے ہوئے لڑائی جھگڑے ہو سکتے ہیں۔ یہاں سے ملنے والی ہڈیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے نورس لوگ غذا کی کمی کا شکار تھے جس کی ممکنہ وجوہات کچھ ایسی ہو سکتی ہیں:

  • زمین کا کٹاؤ جو نورس لوگوں کی طرف سے جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے پیدا ہوا
  • مختصر برفانی دور کے دوران درجہ حرارت کی کمی
  • انوئت لوگوں کے ساتھ مسلح جھڑپیں

ہم جاء کے معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ گرین لینڈ میں سمندری جانور نورس باشندوں کی خوراک کا 50 سے 80 فیصد تک حصہ بن چکے تھے۔

1721 میں ایک بہت بڑی مہم بنائی گئی جس کے تحت ناروے کے مشنری اور دیگر افراد پر مشتمل افراد گرین لینڈ گئے۔ ان کی سربراہی ہینز ایگیڈ کر رہا تھا جو خود بھی مشنری تھا۔ یہ مہم امریکہ کے براعظم پر ڈنمارک کے قبضے کے منصوبے کا حصہ تھی۔ پندرہ سال تک گرین لینڈ میں رہنے کے بعد ہینس ایگیڈ اپنے بیٹے کو اپنا قائم مقام بنا کر خود ڈنمارک لوٹا۔ اس طرح گرین لینڈ کے لئے ڈنمارک کے تاجروں کے لئے کھلتا جبکہ دیگر ملکوں کے لئے بند ہوتا چلا گیا۔

جولائی 1931 میں ناروے نے مشرقی گرین لینڈ کے اس وقت کے غیر آباد علاقوں پر یہ کہہ کر اپنا قبضہ جما لیا کہ یہ علاقے کسی کی ملکیت نہیں۔1933 میں ناروے اور ڈنمارک نے اس مسئلے پر بین الاقوامی عدالت انصاف سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کا فیصلہ ناروے کے خلاف آیا۔

9 اپریل 1940 کو گرین لینڈ کا رابطہ ڈنمارک سے دوسری جنگ عظیم کے اوائل میں ختم ہو گیا جب ڈنمارک پر جرمنی کا قبضہ ہو گیا۔ تاہم گرین لینڈ پھر بھی امریکہ اور کینیڈا سے ایک مخصوص معدن کے تبادلے سے اشیاء خریدتا رہا۔ جنگ کے دوران حکومتی نظام بدل گیا اور گورنر نے ایک مخصوص قانون کے تحت جس کے مطابق انتہائی حالات میں گورنر عنانِ مملکت سنبھال سکتا ہے، ملکی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ گرین لینڈ 1940 تک الگ تھلگ اور محفوظ رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کی حکومت تھی جو یہ سمجھتی تھی کہ گرین لینڈ اگر دوسرے ملکوں کے لئے کھل گیا تو یہ اس کی اپنی ثقافت اور معاشرے کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوگا۔ تاہم جنگ کے دوران گرین لینڈ میں خود کفالت اور خود مختاری کا جذبہ بڑھا اور بیرونی دنیا سے آزادانہ رابطہ کرنے لگا۔

تاہم 1946 میں ایک کمیشن بنا جس نے دونوں اطراف کو صبر کرنے اور کسی قسم کی بڑی تبدیلی سے گریز کرنے کے لئے کہا۔ دو سال بعد حکومت کی تبدیلی کے لئے پہلا قدم اٹھایا گیا اور ایک بڑا کمیشن بنا۔ 1950 میں آخری رپورٹ آئی اور گرین لینڈ کو ایک جدید فلاحی ریاست کا درجہ دیا گیا اور ڈنمارک اس کے لئے رہنما اور معاون بنا۔ 1953 میں گرین لینڈ کو ڈنمارک کی سلطنت کے برابر کا درجہ دیا گیا۔ 1979 میں اندورنی خود مختاری عطا کر دی گئی۔

سیاست[ترمیم]

گرین لینڈ کی موجودہ سربراہ ملکہ مارگریٹ دوئم ہیں۔ ملکہ کی حکومت کی طرف سے ڈنمارک کی حکومت اور بادشاہت کی نمائندگی کے لئے گورنر جنرل مقرر کئے جاتے ہیں۔

گرین لینڈ کی اپنی منتخب کردہ پارلیمان ہے جس کے کل 31 اراکین ہوتے ہیں۔ حکومتی سربراہ وزیرِ اعظم ہوتا ہے جو بالعموم پارلیمان کی اکثریتی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم کُوپک کلیسٹ ہیں۔ ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہونے کے باعث گرین لینڈ سے دو نمائندے منتخب ہو کر ڈنمارک کی پارلیمان میں موجود ہوتے ہیں۔

1985 میں گرین لینڈ نے یورپی کمیونٹی سے علیحدگی اختیار کی جبکہ ڈنمارک بدستور رکن رہا۔ یہ کمیونٹی بعد ازاں 1992 میں تبدیل ہو کر یورپی یونین بنی۔ گرین لینڈ ڈنمارک کے ذریعے ابھی بھی یورپی یونین سے چند مراسم برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم یورپی یونین کے قوانین گرین لینڈ کے تجارتی حصوں کے علاوہ کہیں لاگو نہیں ہوتے۔

جغرافیہ اور موسم[ترمیم]

نُوک کا سالانہ اوسط درجہ حرارت منفی 9 ڈگری سے لے کر 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔

گرین لینڈ کے جنوب مشرق میں بحرِ اوقیانوس موجود ہے۔ مشرق میں بحرِ گرین لینڈ ہے۔ بحرِ منجمد شمالی اس کے شمال میں اور خلیج بیفن مغرب میں واقع ہے۔ اس کے نزدیک ترین ممالک کینیڈا اور آئس لینڈ ہیں۔ گرین لینڈ میں دنیا کا سب سے بڑا قومی پارک موجود ہے اور گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ بھی ہے اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی غیر آزاد ریاست ہے۔ تاہم 1950 سے سائنس دان اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا یہاں ایک سے زیادہ جزائر موجود ہوں جو برف کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔

گرین لینڈ کا کل رقبہ 21,66,086 مربع کلومیٹر ہے جس میں سے گرین لینڈ کی برفانی تہہ کا رقبہ 17,55,637 مربع کلومیٹر ہے جو کل رقبے کا 81 فیصد بنتا ہے۔ اس طرح یہاں برف کی کل مقدار 28,50,000 مکعب کلومیٹر بنتی ہے۔ گرین لینڈ کا ساحل 39,330 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ ساحلی رقبہ خطِ استوا پر زمین کے کل محور کے برابر ہے۔ گرین لینڈ کا بلند ترین مقام 3859 میٹر بلند ہے۔ تاہم گرین لینڈ کا زیادہ تر رقبہ 1,500میٹر سے کم بلند ہے۔

گرین لینڈ کی زیادہ تر آبادیاں برف سے پاک ساحلوں پر موجود ہیں اور مغربی ساحل پر ان کی کثرت ہے۔ شمال مشرقی علاقہ دنیا کے سب سے بڑے پارک پر مشتمل ہے۔

گرین لینڈ کے انتہائی شمال میں پیئری لینڈ ہے جہاں خشک ہوا کے سبب برف موجود نہیں۔ یہاں کی آب و ہوا اتنی خشک ہے کہ یہاں برف نہیں پیدا ہو سکتی۔ اگر گرین لینڈ کی پوری برف پگھل جائے تو دنیا بھر کے سمندروں کی سطح سات میٹر تک بلند ہو جائے گی جبکہ گرین لینڈ بذات خود جزائر کا مجموعہ بن کر رہ جائے گا۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

گرین لینڈ کا نام سکینڈے نیویا کے آباد کاروں نے متعارف کرایا۔

زمین[ترمیم]

گرین لینڈ کا اسی فیصد سے زیادہ رقبہ برف سے گھرا ہوا ہے۔

معیشت[ترمیم]

آج گرین لینڈ کی معیشت کا دارومدار ماہی گیری اور اس سے متعلق برآمدات پر ہے۔ اس وقت جھینگوں کی صنعت سے سب سے زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ حال ہی میں یہاں تیل اور گیس کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں تاہم انہیں قابلِ استعمال بنانے میں ابھی کئی سال لگیں گے۔ گرین لینڈ کی اپنی تیل کی کمپنی نونا آئل کو گرین لینڈ میں موجود تیل کی صنعت کی ترقی کے لئے بنایا گیا۔ اسی طرح دیگر معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے کام کے لئے نونا منرل نامی کمپنی بنائی گئی جسے کوپن ہیگن کی سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر کرایا گیا تاکہ حصص کی فروخت سے سونے کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔ 2007 میں ہی یاقوت کے ذخائر کو نکالنے کا کام بھی شروع ہوا۔ دیگر معدنیات کی پیداوار قیمتوں کے بڑھنے سے بہتر ہو رہی ہے۔ ان میں یورینئم، المونیم، نکل، پلاٹینیم، ٹنگسٹن، ٹائیٹینیم اور تانبا اہم ہیں۔ پبلک سیکٹر اور بلدیہ جات بھی گرین لینڈ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومتی وسائل کا نصف حصہ ڈنمارک کی حکومت دیتی ہے۔ فی کس آمدنی کے اعتبار سے گرین لینڈ یورپ کی کمزور معیشتوں میں سے ایک ہے۔

گرین لینڈ میں 1990 کی دہائی کے اوائل میں معیشت کے سکڑاؤ کا عمل شروع ہوا تاہم 1993 سے صورتحال بہتری کی طرف مائل ہے۔ 1990 میں گرین لینڈ کی بیرونی تجارت میں خسارہ واضح ہو گیا ہے کیونکہ گرین لینڈ میں زنک اور سیسے کی آخری کانیں بھی بند ہو گئی تھیں۔ تاہم اب یاقوت کی دریافت سے بہتری کی امید ہے۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

فضائی نقل و حمل گرین لینڈ کے اندر اور باہر کے لئے بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ بحری سفر کے لئے کشتیاں بھی باقاعدگی سے چلتی ہیں لیکن لمبے فاصلوں کے لئے زیادہ سہولیات نہیں۔ شہروں کے درمیان سڑکیں موجود نہیں کیونکہ ساحلوں پر ہر جگہ کھاڑیاں ہیں۔ اس لئے شہروں کو سڑکوں کے علاوہ کشتی بھی درکار ہوتی ہے۔

مغربی ساحل پر موجود کنگر لوساق ائیرپورٹ ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ اور ملکی پروازوں کا مرکز ہے۔ بین البراعظمی پروازیں زیادہ تر کوپن ہیگن کو جاتی ہیں۔ مئی 2007 سے موسمی بنیادوں پر ائیر گرین لینڈ نے امریکی شہر بالٹی مور کو پروازیں چلانا شروع کی تھیں لیکن 10 مارچ 2008 کو مالی خسارے کے باعث بند کر دی گئی تھیں۔ ائیر آئس لینڈ بھی ہفتہ میں دو پروازیں چلاتی ہے۔

بحری مسافروں اور سامان کی منتقلی کے لئے آرکٹک امیاق لائن موجود ہے۔ تاہم یہ ہفتے میں صرف ایک بار چکر لگاتی ہے اور تقریباً 80 گھنٹے ایک طرف کا سفر طے کرنے میں لگتے ہیں۔

آبادی[ترمیم]

گرین لینڈ کی کل آبادی 57٫600 افراد پر مشتمل ہے جس میں 88 فیصد انوئت یا انوئت اور ڈینش کے ملاپ سے پیدا ہوئے لوگ ہیں۔ باقی 12 فیصد افراد یورپی النسل بالخصوص ڈینش ہیں۔ آبادی کی اکثریت ایوینجلیکل لوتھیرین ہیں۔ تقریباً ساری ہی آبادی جنوب مغربی کنارے پر کھاڑیوں کے ساتھ آباد ہے۔ اس جگہ موسم نسبتاً متعدل رہتا ہے۔

زبانیں[ترمیم]

گرین لینڈک اور ڈینش دونوں ہی زبانیں سرکاری طور پر 1979 سے استعمال ہو رہی ہیں اور آبادی کی اکثریت دونوں زبانیں بول سکتی ہے۔ گرین لینڈک کو بولنے والے افراد 50٫000 ہیں۔ جون 2009 میں اسے واحد سرکاری زبان قرار دے دیا گیا۔ ایسے افراد جو ڈنمارک سے گرین لینڈ منتقل ہوئے ہیں اور جن کا انوئت لوگوں سے کوئی تعلق نہیں، کی مادری زبان ڈینش ہے۔ تاہم اعلٰی تعلیم کے لئے ڈینش ہی استعمال ہوتی ہے۔ انگریزی کو تیسری بڑی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ ملک میں شرحِ تعلیم 100 فیصد ہے۔

ثقافت[ترمیم]

گرین لینڈ کی ثقافت کا بہت بڑا حصہ انوئت قبائل سے جڑا ہوا ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت انوئت قبائل سے ہی نکلی ہے۔ یہاں لوگ آج بھی آئس فشنگ اور سالانہ کتا گاڑی کی دوڑ کے مقابلے منعقد کراتے ہیں۔ تاہم مچھلی کے شکار کے لئے پرانے طریقوں کی بجائے اب آتشین اسلحے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنا لیا گیا ہے۔

کھیل[ترمیم]

گرین لینڈ کا قومی کھیل فٹبال ہے۔ جنوری 2007 میں گرین لینڈ نے مردوں کے ہینڈ بال کے عالمی مقابلوں میں حصہ لیا تھا جہاں اسے 24 ٹیموں میں 22واں درجہ ملا۔

فہرست متعلقہ مضامین گرین لینڈ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام selvstyre کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ "Self-rule introduced in Greenland". BBC News. 21 June 2009. http://news.bbc.co.uk/2/hi/8111292.stm. Retrieved 2010-05-04.
  3. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Greenland_In_Figures کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  4. ^ "Key Figures of Greenland 2012". Stat.gl. http://www.stat.gl/dialog/main.asp?lang=en&theme=Greenland%20in%20Figures&link=GF. Retrieved 9 October 2012.


اطالیہ (ترینتینو جنوبی ٹائرول ۔ ساردینیا ۔ سسلیہ ۔ فریولی وینیزیا جولیا ۔ وادی آوستہ) | جارجیا (ادجارا) | فن لینڈ (جزائر ایلانڈ) | برطانیہ (ایکروتیری و دیکیلیا ۔ گرنزی ۔ آئل آف مین ۔ جرزی ۔ جبرالٹر) | پرتگال (آزورس ۔ مادیعیرا) | یوکرائن (کریمیا) | ڈنمارک (جزائر فروعے ۔ گرین لینڈ) | مالڈووا (گاگاؤزیا) | یونان (مونٹ آتھوس) | آذربائیجان (نخچیوان) | رشین فیڈریشن کی نیم خودمختار ریاستیں | رشین فیڈریشن کے نیم خودمختار اضلاع | رشین فیڈریشن کے نیم خودمختار صوبے | ناروے (سوالبارد) | سربیا (ووجوودینا)