گوپی چند نارنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

فروری گیارہ، سنہ انیس سو اکتیس کو ڈکی، زیریں پنجاب میں پیدا ہونے والے پروفیسر گوپی چند نارنگ کو عہد حاضر کا صف اول کا اردو نقاد، محقق، اور ادیب مانا جاتا ہے۔ گو کہ پروفیسر گوبی چند نارنگ دہلی میں مقیم ہیں مگر وہ باقاعدگی سے پاکستان میں اردو ادبی محافل میں شریک ہوتے ہیں جہاں ان کی علمیت کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔۔ اردو کے جلسوں اور مذاکروں میں شرکت کرنے کے لیے وہ ساری دنیاکا سفر کرتے رہتے ہیں او رانہیں سفیر اردو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں انہیں بھارت میں پدم بھوشن کا خطاب مل چکا ہے وہیں انہیں پاکستان میں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ چند ماہ قبل تک وہ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

سوانحی خاکہ اور تعلیم[ترمیم]

پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بچپن کوئٹہ میں گزارا۔ انہوں نے سنہ 1954 میں یونیورسٹی آف دہلی سے اردو میں ایم اے اور اسی جامعہ سے سنہ 1958 میں لسانیات میں پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ گوپی چند نارنگ نے سنہ 1957 میں سینٹ اسٹیفینس کالج، دہلی میں لیکچرر کے طور پہ پڑھانا شروع کیا اور 1995 تک دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر کے طور پہ تدریس سے وابستہ رہے۔ وہ آج بھی دہلی یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر، پروفیسر ای میریٹس، ہیں۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

پروفیسر گوپی چند نارنگ چونسٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کتابوں میں پینسالیس اردو میں، بارہ انگریزی میں، اور سات ہندی میں لکھی گئی ہیں۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

گوپی چند نارنگ کی کتاب "ساختیات، پس ساختیات، مشرقی شعریات" پر سرقہ ھونے کا الزام ھے۔ ان کی متعدد تحریروں کو سرقہ اور مشکوک قرار دیا جاچکا ھے۔

حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کے یہ حوالہ جات نارنگ کے مابعد جدید مفکروں کے براہِ راست مطالعے کا نتیجہ نہیں ہیں۔ قارئین آگے چل کر دیکھیں گے کہ سیلڈن کی جس کتاب سے نارنگ نے جن ابواب کا سرقہ کیا ہے، ان ابواب میں جو Quotations سیلڈن نے قاری کی افہام و ترسیل کے لیے مابعد جدید مفکروں کی کتابوں سے استعمال کیے ہیں، نارنگ نے بھی ان کو بالکل اسی طرح لکھ دیا ہے۔ یہ حوالہ جات سیلڈن یا دوسرے شارحین نے پیش کیے ہیں۔ نارنگ انٹرویو میں دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کے یہ حوالہ جات نارنگ کے مابعد جدید مفکروں کے براہِ راست مطالعے کا نتیجہ نہیں ہیں۔ قارئین آگے چل کر دیکھیں گے کہ سیلڈن کی جس کتاب سے نارنگ نے جن ابواب کا سرقہ کیا ہے، ان ابواب میں جو Quotations سیلڈن نے قاری کی افہام و ترسیل کے لیے مابعد جدید مفکروں کی کتابوں سے استعمال کیے ہیں، نارنگ نے بھی ان کو بالکل اسی طرح لکھ دیا ہے۔ یہ حوالہ جات سیلڈن یا دوسرے شارحین نے پیش کیے ہیں۔ نارنگ انٹرویو میں دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔