گوگل+

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گوگل+
Google+ logo.png
گوگل+ کا شارہ
گوگل+ کا سرورق
گوگل+ کا سرورق
یو آر ایل (URL) plus.google.com
نعرہ Real-life sharing rethought for the web.
تجارتی؟ ہاں
طرز سماجی جالکار / شناختی خدمت
اندراج گوگل کھاتہ کے حامل تمام افراد کیلئے
دستیاب زبان(یں) 40 سے زیادہ
ملکیت گوگل
آغاز 28 جون 2011ء
موجودہ حالت روئے خط

گوگل+ (Google+ / G+ː)، جس کا تلفّظ گوگل پلس (Google Plus) اور بعض اوقات اِسے اِسی طرح تحریر بھی کیا جاتا ہے، دراصل گوگل کے تحت کام کرنے والی ایک سماجی جالکاری (social networking) اور شناختی خدمت (identity service) ہے۔

اِس خدمت کو 28 جون 2011ء کو آزمائشی مرحلے میں شروع کیا گیا، یہ آزمائشی مرحلہ صرف دعوتی تھا یعنی فقط وہ لوگ اِس میں حصّہ لے سکتے تھے جن کو دعوت دی جاتی تھی۔ اگلے روز، اِس پر موجود تمام صارفین کو اپنے اٹھارہ سال سے زیادہ عمر والے دوستوں کو گوگل پلس پر دعوت دینے کی اجازت دی گئی۔ یہ اجازت بھی دوسرے روز منسوخ کردی گئی کیونکہ گوگل پلس کھاتوں کی مانگ بہت زیادہ ہوگئی تھی۔ 6 اگست کو ہر گوگل پلس رُکن کے پاس 150 لوگوں کو دعوت دینے کا اختیار تھا، تاہم 20 ستمبر 2011ء کے دِن اٹھارہ سال اور اِس سے زیادہ عمر والے افراد کیلئے خدمت بغیر دعوت کی ضرورت کے کھول دی گئی۔

گوگل پلس میں کچھ سماجی خدمات جیسے گوگل نمایہ جات (Google Profiles) اور گوگل بَز (Google Buzz) کو مندمج کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ کچھ نئی خدمات مثلاً حلقات، گپ گاہیں، اور شرارات وغیرہ کے نام سے متعارف کرائی گئی ہیں۔ گوگل پلس بطورِ موقع ویب اور محمول اطلاقہ (mobile application) کی شکل میں دستیاب ہے۔

بڑھوتری[ترمیم]

14 جولائی 2011ء کو، خدمت کے شروع ہونے کے صرف دو ہفتے بعد، گوگل نے اعلان کیا کہ گوگل پلس پر صارفین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ایک ماہ عمل میں رہنے کے بعد، اِس کے صارفین کی تعداد دو کروڑ پانچ لاکھ ہوگئی۔

خدوخال[ترمیم]

  • حلقات (Circles) کے ذریعے صارفین اپنے روابط کو گروہوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ اگرچہ دوسرے صارفین کسی صارف کے روابط کی فہرست دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ اِن حلقوں کے نام نہیں دیکھ سکتے۔ نجیّتی ترتیبات (privacy settings) اِس بات کی اِجازت دیتی ہیں کہ صارف اپنے حلقوں میں موجود روابط کے ساتھ ساتھ اُن صارفین کو جن کے پاس یہ صارف حلقے میں ہے، چھپاسکتا ہے۔ حلقات کی نظامت ایک گھسٹ و ٹپک (drag-and-drop) مواجہت کے ذریعے بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ نیز، صارف اپنے حلقوں کا دوسرے صارفین کے ساتھ اشتراک بھی کرسکتا ہے۔
  • گپ گاہیں (hangouts) ایسی جگہیں ہیں جہاں منظری گپ شپ (video chat) کی سہولت ہوتی ہے (بیک وقت ایک گپ گاہ میں زیادہ سے زیادہ 10 افراد شریک ہوسکتے ہیں)۔ گپ گاہ میں گپ شپ کے دوران یوٹیوب کی کوئی ویڈیو بھی تمام شریک افراد ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کسی گپ گاہ کے منظر کو بعد میں دیکھنے کیلئے محفوظ بھی کیاجاسکتا ہے۔ کچھ دِنوں بعد گپ گاہوں میں شرکاء ایک دوسرے کے ساتھ دستاویزات اور اپنا شمارندی پردہ (computer screen) بھی شریک کرنے کے قابل ہوں گے۔
  • شرارات (sparks) صارف کو اُس کی دلچسپی کے موضوعات کے بارے میں باخبر رکھتے ہیں۔ یہ دراصل گوگل تلاش کا ایک حصّہ ہے جس میں صارفین ایسے موضوعات داخل کرتے ہیں جن کو وہ دوسرے صارفین کے ساتھ شریک کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
  • سلسلہ (stream) میں صارف دوسرے صارفین کی طرف سے دی گئی خبروں یا اشاعتوں کو دیکھ سکتا ہے۔ ادخالی بکسہ (input box) میں صارف اپنی طرف سے خبریں، خیالات یا اشاعات کے ساتھ ساتھ تصویریں اور منظرات شامل کرکے دوسرے صارفین کے ساتھ شریک کرسکتا ہے۔ سلسلہ میں صرف مخصوص حلقوں کی طرف سے آنے والی خبروں اور موضوعات کو دیکھنے کیلئے اس کی تقطیر کی جاسکتی ہے۔
  • العاب (games) (سماجی لعبہ گری) میں پہلے 16 لعبہ جات شامل تھے جن کی تعداد اَب بڑھ کر 21 ہوگئی ہے۔ فیس بک کے برعکس گوگل پلس پر لعبہ جات ایک الگ لوحہ (tab) کے تحت ہیں، جس کے سبب ان سے متعلق اطلاعات صارف کی باقی ماندہ اطلاعات سے الگ ہوتی ہیں۔
  • +1 بٹن کے ذریعے کسی موقع یا اس کے کسی حصّہ کو دوسرے صارفین کے ساتھ شریک کیا جاسکتا ہے۔ گوگل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ متعارف ہونے کے بعد اِس بٹن کو دِن میں 5 ارب مرتبہ استعمال کیا جارہا ہے۔
  • معطیات خلاصی (data liberation) کے ذریعے کوئی بھی صارف اپنے سارے مشتملات (content) کو گوگل پلس سے اپنے شمارندہ پر اُتارسکتا ہے۔
  • گوگل+ صفحات (Google+ Pages) کی خدمت 7 نومبر 2011ء کو شروع کی گئی۔ اِس خدمت کو استعمال کرتے ہوئے کسی تنظیم کے بارے میں نمایہ (profile) مرتّب دیا جاسکتا ہے جہاں اُس تنظیم کے متعلق معلومات اور خبریں وغیرہ لگائی جاسکتی ہیں۔

زبانیں[ترمیم]

گوگل+ کا سطح البین (interface) فی الحال 60 زبانوں میں دستیاب ہے جن میں اُردو، عربی اور فارسی شامل ہیں۔

نیز دیکھئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]