گکھڑ منڈی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گکھڑ منڈی
—  قصبہ  —
گکھڑ منڈی is located in پاکستان
گکھڑ منڈی
متناسقات: 32°11′N 74°54′E / 32.18°N 74.9°E / 32.18; 74.9متناسقات: 32°11′N 74°54′E / 32.18°N 74.9°E / 32.18; 74.9
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
رقبہ
 - کُل 7 کلومیٹر2 (2.7 میل2)
بلندی 223 میٹر (732 فٹ)
آبادی
 - تخمینہ (2008) 130,000
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
رموز ہاتف 055
یونین کونسلوں کی تعداد 3
ویب سائٹ www.Ghakhar.com

یہ ضلع گوجرانوالہ کا ایک قصبہ ہے۔

یہ قصبہ جی ٹی روڈ پر واقع ہے جو اب شہر کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور گکھڑ منڈی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے قریبی دیہات کوٹ وارث، راہوالی، عادل گڑھ، نت کلآں، کوٹلی ساہیاں، بدوکی، نورا کوٹ، پیر کوٹ، بینکا چیمہ، فتح گڑھ اور ابن والی کلاں ہیں۔ اس کی مقامی زبان پنجابی ہے لیکن اردو اور انگریزی کاروباری اور سرکاری دفاتر میں استعمال ہوتی ہیں۔

یہاں پر لڑکوں کے دو ہائی سکول ہیں: گورنمنٹ ھائی سکول نمبر ۱ (جسے نارمل سکول بھی کہتے ہیں) اور گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۲ (جس کا پرانا نام ڈی سی سکول ہے)۔ یہاں پر لڑکیوں کا ایک ہائر سیکنڈری سکول ہے جہاں انٹرمیڈیٹ کلاسز بھی ہوتی ہیں۔ اس کے علآوہ یہاں کئی پرائیویٹ سکول بھی ہیں۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا ایک کیمپس کی بنیاد کالج آف ایلمنٹری ٹیچرز کی بلڈنگ میں رکھی گئی۔ اس یونیورسٹی میں بیچلرز اور ماسٹرز کی کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔

گکھڑ منڈی پنجاب میں چاول کی بڑی مارکیٹ ہے اور اس قصبے کی مشہور صعنت دری سازی ہے۔

معیشت[ترمیم]

گکھڑ کے دیہاتی علاقے کئی قسم کی زرعی اجناس پیدا کرتے ھیں۔ گکھڑ کی مشہور صعنت دری سازی ہے۔ یہاں پر ملک کا ایک بڑا گرڈ سٹیشن ہے جو کہ پنجاب کے بڑے شھروں کو بجلی سپلائی کرتا ہے۔ گکھڑ منڈی صنعتی شہر بنتا جا رہا ہے۔ اس کی دیگر صنعتوں میں سنگ مرم، مکئی، برتن، سرامکس اور فرنیچر شامل ہیں۔

یھاں پر صدیقی میموریل لآئبریری شھری کمیٹی میں ہے۔ یہ لائبریری شھر کے معروف تعلیم دان “احمد حسن صدیقی“ کے نام سے بنائی گئی ہے۔ ان کی خدمات تعلیمی معیار اور کھیلوں کے معیار کو بہتر کرنے میں بہت زیادہ ہیں۔ وہ کئی سال ڈی سی سکول کے ہیڈماسٹر رہے۔

تاریخ[ترمیم]

لفظ گکھڑ ایک قبیلے کے نام گکھڑز سے لیا گیا ہے جو کہ اس شہر کے آباءواجداد بھی ہیں۔ یہ قبیلہ دریائے جہلم کے شمالی کنارے رہتا تھا۔ یہ علاقہ سطح مرتفع پوٹھوہار بھی کہلاتا ہے۔ یہ قبیلہ اپنی جنگجوئی کے لئے مشہور تھا۔ گکھڑز اور خاص طور پر پوٹھوہاری علاقے نے ہندوستان پر بیرونی حکومت کی مخالفت کی۔ گکھڑز وحشی قبائل تھے جنھوں نے ماضی میں کئی حکمرانوں بشمول شیر شاہ سوری سے جنگیں لڑیں ۔ شیر شاہ سوری نے دریائے جھلم کنارے روہتاس قلعہ تعمیر کروایا تا کہ گکھڑز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ شیر شاہ سوری کی وفات کے بعد مغل بادشاہ ہمایوں نے دوبارہ سے فوج ترتیب دی تو گکھڑز قبائل سے ایک معائدہ کیا۔ معاہدہ یہ تھا کہ اگر ہمایوں فتحیاب ہوا اور دہلی فتح کر لیا تو وہ گکھڑز قبائل کو دریائے چناب کے جنوب میں دس میل کا علاقہ دے گا۔

اس لئے اپنی فتح کے بعد گکھڑ نے اپنی ریاست قائم کی۔ اس ریاست کی حدود متعین کرنے کے لئے ایک چوکی بنائی گئی جو کہ گرڈ سٹیشن کے قریب اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

گکھڑ پر کئی فاتح حملہ آور ہوئے اور شہر تباہ اور دوبارہ تعمیر ہوا۔ اس شہر کی اہمیت کی وجہ سے کئی حکمرانوں بشمول رنجیت سنگھ نے یہاں پر تین دفعہ حملہ کیا۔

اب گکھڑ شہر تقریباً دس میل کے علاقے پر مشتمل ہے۔ گکھڑ منڈی کی تحصیل وزیرآباد اور ضلع گوجرانوالہ ہے۔

نزدیکی دیہات[ترمیم]