ھود علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاء علیہ سلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ھود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعيب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سليمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

حضرت ھود علیہ السلام اللہ کے پیغمبر تھے۔ قرآن پاک کی گیارویں سورہ آپ علیہ السلام کے نام پر ہے۔

یمن اور عمان کے درمیان " احقاف " نامی سرزمین پر قوم عاد رہتے تھے اوروہاں پر نعمات کی فراوانی کے سبب خوشحال اور آرم دہ زندگي بسر کررہے تھے، آہستہ آہستہ توحید کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کی اور فسق و فجور میں غرق ہو گۓ اور انکے ظالم اور وڑیرے مستضعف لوگوں پر ستم ڑھاتے تھے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کے درمیان حضرت ھود علیہ السلام کو مبعوث بہ رسالت کیا۔

و اِلي عادٍ اَخا ہمْ ھوداً، قالَ يا قَومِ اعْبُدُو اللہ ما لَكُمْ مِنْ اِلہ غَيْرُ ہ… [1]

حضرت ھود علیہ السلام نے قوم کی ھدایت کے لۓ نہایت کوشش کی مگر چند افراد کو چھوڑ کر کسی نے انکی تصدیق نہیں کی اور انکی نصیحتوں پر یقین نہیں کیا اور اسے خود سے دور کیا۔ قوم عاد نے حضرت ھود(‏ع) کی نصیحتوں کو قبول کرنےکے بجاۓ بت پرستی اختیار کی اور خدا پرستی چھوڑ دی اور اس الھی پیغمبر کو نکارا اور ہر دن اسے اذیت آزار پہنچاتے تھے۔ یہاں تک کہ آسمان پر کالے بادل چھاگۓ اور قوم عاد کے جاھل لوگ کہنے لگے اس سے ہمارے لۓ مفید بارش برسے گی ۔ مگر ھود علیہ السلام نے ان سے کہا کہ : یہ بادل رحمت کے نہیں بلکہ غضب کے ہیں ۔مگر انہوں نے آنحضرت کی ایک بھی نہ سنی ۔ کچھ دیر بعد ھود علیہ السلام کا کہا سچائی میں بدلتا گيااور تیز ہوائيں چلنی لگی جن کی رفتار انتی زیادہ تھی کہ گھوڑوں ، مال مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دی مارتی تھی۔

سات دن رات یہ تیز ہوائيں چلتی رہی اور اس دوران ریت کاطوفان اٹھا اور تمام مکانوں اور انسانوں پر گرا اور سب لوگ ھلاک ہوگۓ صرف حضرت ھود اور انکےچنداصحاب جنہوں نے امن کی جگہ پناہ لی تھی بچ گۓ ۔

اس واقعے کے بعد حضرت ھود علیہ السلام سرزمین " حضرموت" چلے گۓ اور وہاں باقی عمر گذاری ۔[2] اس واقعہ کی تاریخ کے بارے میں مورخین کااتفاق ہےکہ یہ واقع شوال کے مہینے میں رونما ہوا البتہ اس کے دن کے بارے میں اختلاف ہے کہ کس دن رونما ہوا۔ بعض نے پہلی شوال اور بعض نے تیس شوال ذکر کیاہے ۔

جنہوں نے پہلی شوال اختیار کیاہے وہ شوال کے پہلے ھفتے کو " بردالعجوز " کہتے ہیں ۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ عجوزی اس مہینے میں ایک گھر میں چھپ گيا جو زیر زمین میں تھا اور ریت کے طوفان سے امان میں رہا ، یہاں تک کہ چھٹے دن طوفان نے اسکے گھر بھی متاثر کیا اور وہ بھی ہلاک ہوا۔[3]

مآخذ[ترمیم]

  1. ^ سورہ ھود (11)، آي ہ 50
  2. ^ قصہ ھاي قرآن (سيد محمد صحفي)، ص 49
  3. ^ وقايع الايام (شيخ عباس قمي)، ص 84 (اضافہ از طرف مجلس وحدت مسلمین میڈیا سنٹر)