ہمفر کی یادداشتیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Confessions of a British Spy and British Enmity Against Islam  
No-Book.svg
مصنف(ین) ایوب صابری پاشا
ملک سلطنت عثمانیہ
زبان ترکی
موضوع(ات) Anglophobia
Anti-وہابی تحریک
صنف پروپیگنڈا
ناشر وقف اخلاص پبلیکیشنز
تاریخ اشاعت 1868
تاریخ اشاعت
انگریزی
2001
آئی ایس بی این [[Special:Booksources/|]]
Confessions of a British Spy and British Enmity Against Islam
ہمفر کی یادداشتیں  
No-Book.svg
مصنف(ین) M. Sıddık Gümüş
زبان انگریزی اور تراجم
ناشر حقیقت کتابوی
تاریخ اشاعت 2001
صفحات 122 صفحات
آئی ایس بی این [[Special:Booksources/|]]

ہمفر کی یادداشتیں ایک برطانوی جاسوس ہمفر کی یادداشتوں کا ایک مجموعہ ہے۔ ہمفر ایک ایسا برطانوی جاسوس تھا جس نے لارنس آف عریبیا سے بھی پہلے خلافت عثمانیہ کو توڑنے میں راہ ہموار کی اور اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ یادداشتیں دنیا کی بیشتر زبانوں بشمول اردو میں چھپ چکی ہیں۔ ہمفر نے ایک مسلمان کا روپ دھارا، اپنی جاسوسیوں کی ابتداء ترکی سے شروع کی جس کے بعد وہ عربستان (موجودہ سعودی عرب) چلا گیا جہاں اس نے اسلام میں رخنے پیدا کرنے اور ترکی خلافت کے خلاف عربوں کو ہموار کرنے اور بغاوت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ [1] واضح رہے کہ ان یاداشتوں کے بیانات کی تصدیق ممکن نہیں، اس لیے سچ جھوٹ کی تمیز کرنا مشکل ہے۔

اشاعت[ترمیم]

پہلے پہل یہ یادداشتیں قسط وار جرمنی کے مشہور اخبار شپیگل (Spiegel) میں شائع ہوئیں۔ بعد میں یہ فرانسیسی اخبار لو موند (Le Monde) میں شائع ہوئیں جہاں سے لبنان کے ایک مترجم نےاس کا عربی میں ترجمہ کیا۔ کافی عرصہ بعد اس کا انگریزی ترجمہ بعنوان ایک برطانوی جاسوس کے اعترافات اور برطانیہ کی اسلام دشمنی (Confessions of a British spy and British enmity against Islam) ہزمت بکس (Hizmet Books) نے برطانیہ سے شائع کیا۔ ترکی میں ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں یہ کتاب وقف اخلاص پبلیکیشنز (Waqf Ikhlas Publications: Ihlas Gazetecilik A.Ş. Istanbul) نے استنبول، ترکی سے شائع کی ہے جس کے جملہ حقوق بمعہ حقوق ترجمہ محفوظ نہیں رکھے گئے یعنی اسے کوئی بھی ترجمہ کر کے چھاپ سکتا ہے۔[2]
فارسی میں اس کا ترجمہ بعنوان 'خاطرات مستر ھمفر، جاسوس بریتانیا در خاورمیانہ' تہران سے شائع ہوا۔ چونکہ اس کے جملہ حقوق آزاد رکھے گئے تھے اس لیے تہران ہی میں اسے 'اعتراف‌ھای یک جاسوس بریتانیایی ' کے نام سے بھی شائع کیا گیا۔ اردو میں اس کا ترجمہ' ہمفرے کی یادداشتیں' (جبکہ اصل نام ہمفر ہے) کے عنوان سے شائع ہوا جس کا ہر سال دو سال بعد کوئی نیا نسخہ چھپ جاتا ہے۔

مواد[ترمیم]

یہ یادداشتیں برطانوی ہمفر نے لکھی ہیں جو برطانیہ کی وزارتِ نوآبادیات (Ministry of Colonies ) کی طرف سے خلافت عثمانیہ کے زیرِ نگین علاقوں میں آیا۔ اس کا کام دو برطانوی مقاصد کو حاصل کرنا تھا۔ اول یہ کہ موجودہ نوآبادیات میں برطانوی قبضہ کو مستحکم کرنا اور دوم یہ کہ نئی نوآبادیات بنانا خصوصاً اسلامی ریاستوں پر قابض ہونا۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہمفر نے بظاہر اسلام قبول کیا اور ترکی میں رہائش رکھی۔ وہاں اس نے ترکی میں رہائش پذیر عربوں میں ترکوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کیا۔ یہ دور اٹھارویں صدی کا ابتدائی زمانہ ہے۔ خود ہمفر کے الفاظ میں وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اسلامی دنیا میں اس جیسے 5000 برطانوی جاسوس بھیجے گئے تھے جنہیں عربی و ترکی زبانوں کی تعلیم بھی دی گئی تھی۔ اولاً ان افراد کو 1710ء میں بھیجا گیا تھا۔ 1720ء اور 1730ء کی دہائی میں ہمفر نے اپنا کام جاری رکھا۔ اس کے اپنے الفاظ کے مطابق اس نے ایک انقلابی مسلمان کے طور پر محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ تعلقات بڑھائے اور اسے شیشے میں اتارا۔ ہمفر لکھتا ہے کہ اس نے محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر قرآن کی ایک تفسیر بھی لکھی۔ اس نے عرب سرداروں اور دیگر اہم افراد کے ساتھ بھی تعلقات بڑھائے۔ بعض وقتوں میں اس نے دو لاکھ برطانوی پونڈ فی مہینہ تک عربوں میں بانٹے۔ یہ وہ رقم تھی جو برطانیہ انہیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دیتا تھا۔ ہمفر نے 11 تربیت یافتہ برطانوی افراد کو جو صحرائی جنگ کے ماہر تھے، غلاموں کے روپ میں عربوں کو پیش کیا تاکہ وہ ترکوں کے خلاف کام آ سکیں۔ 1730ء سے 1750ء کی دہائی تک اس نے نہ صرف محمد بن عبدالوہاب کی مدد کی بلکہ محمد بن سعود کی بھی مدد کی۔ ہمفر نے یہ بھی لکھا کہ برطانیہ نے محمد بن سعود کو مال و دولت کے علاوہ اسلحہ بھی مہیا کیا۔ مجموعاً ہمفر نے کچھ ابتدائی وقت ترکی میں ، کچھ بصرہ میں اور باقی وقت جو بیس سال سے زیادہ ہے عرب علاقوں (موجودہ سعودی عرب) میں گذارا۔ اپنے ترکی میں قیام کے بارے میں اس نے ایک شرمناک واقعہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ اپنے مقصد کے حصول کے وقت ایک شخص نے مجھ سے فعل قومِ لوط کی فرمائش کی۔ اس وقت ہمفر نے اسے رد کر دیا مگر جب اس نے ایک خط میں برطانیہ کے ذمہ دار افراد کو یہ بات لکھی تو وہاں سے جواب آیا کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہ قبیح فعل بھی سرانجام دے دو۔[3]

کتاب کے مواد کے بارے میں اختلافات[ترمیم]

سعودی اور محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں کا خیال ہے کہ یہ کتاب کسی عراقی سنی مسلمان کی اختراع ہے جو ان کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے لکھی گئی تھی۔[4] ایک اور اعتراض بربارڈ ہیکل نے بھی کیا کہ یہ کتاب صرف وہابیت کے خلاف لکھی گئی تھی جسے ترکی زبان میں ایوب صابری پاشا نے لکھا۔ [5] مگر یہ اعتراض اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ کتاب پہلے عربی یا ترکی میں نہیں بلکہ آلمانی (جرمن) زبان میں ایک مشہور اخبار میں ان سے کافی عرصہ پہلے چھاپی گئی تھی۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بعض تاریخیں آپس میں نہیں ملتیں۔ کتاب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ جن تاریخوں میں ہمفر نے محمد بن عبدالوہاب سے ملاقات و تعلقات کا حال لکھا ہے ان تاریخوں میں یا تو محمد بن عبدالوہاب کی عمر کم تھی یا وہ اس زمانے میں بصرہ اور بعد میں دریہ میں موجود نہیں تھے۔ جبکہ کتاب پر یقین رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ خود محمد بن عبدالوہاب کے مختلف سفر کی تاریخیں واضح نہیں ہیں اور 1740ء سے پہلے محمد بن عبدالوہاب کے سفر اور زندگی کے بارے میں معلومات کم ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]