ہیسٹیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ہیسٹیہ
Hestia
علامت چولہا اور اِس میں لگی آگ
ساتھی کوئی نہیں
والدین کرونس (باپ) اور ریہہ (ماں)
بہن بھائی ڈیمیٹر، ہیرہ، ہادس، پوسائڈن اور زیوس
رومی مترادف ویسٹہ

ہیسٹیہ، ہیستیہ، ہیستیا یا ہستیا، قدیم یونانی علم الاساطیر میں ایک دوشيزہ دیوی تھی۔ ہیسٹیہ کو چُولہوں اور آتش دانوں کی دیوی مانا جاتا تھا اور چونکہ قربانی کی رسموں میں آتش دانوں کا اہم کردار ہوتا تھا، اِس لئے پہلی قربانی اِسی ہی کے نام چڑھائی جاتی تھی۔ اور جس طرح چُولہا ہر گھر کی زینت بھی ہوتا تھا، اِس کو خاندان اور عام گھریلو کیفیت میں سُدھار لانے کے لئے پُوجا جاتا تھا۔ یونانی اساطیر میں یہ کرونس اور ریہہ کی پہلی بیٹی تھی۔ اِس کے تین بھائی تھے جن کا نام پوسائڈن، ہادس اور زیوس تھا۔ اِس کی دو بہنیں بھی تھیں جن کا نام ڈیمیٹر اور ہیرہ تھا۔

اساطیر کے مطابق، ہیسٹیہ ایک لکڑی کے تخت پر اُون کا تکیہ لے کر بیٹھتی تھی اور اپنی آجزی میں اِس نے اپنے لئے کسی علامت کا امتیاز بھی نہیں کیا۔ چُنانچہ اِسے ایک رحَم دل، مہَربان اور عاجز دیوی سمجھا جاتا ہے۔ یونانی لوگ جہاں بھی ایک نئی بستی بساتے تھے وہاں اپنی سابقہ بستی کے عوامی آتش دان کے کچھ حصّوں سے سب سے پہلے ہیسٹیہ کے نام ایک قربان گاہ کھڑی کرتے تھے۔

زندگی[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

ہیسٹیہ، کرونس اور ریہہ کے ہاں پیدہ ہونے والی پہلی اولاد تھی۔ اِس کی پیدائش کے وقت، کرونس کو اِس بات کا علم ہو چلا تھا کہ اِس ہی کی اولاد میں سے ایک اِس کا تخت اُلٹ دے گی۔ اِسی وجہہ کو بُنیاد بنا کر کرونس نے یہ ٹھان لی کہ آئندہ پیدہ ہونے والی ہر اولاد کو وہ مار ڈالے گا۔ البتہ، کرونس نے یہ مُناسب سمجھا کہ وہ اپنے بچوں کو کھا جائے تاکہ یہ اُس کے پیٹ میں ہی ہمیشہ جیوت رہیں اور یوں عُمر بھر کی قید میں اپنی سزا کاٹیں۔

کرونس کے پیٹ سے رہائی[ترمیم]

قِسمت نے بازی تب پلٹی جب کرونس کی بیوی ریہہ نے زیوس کو اِس درندگی سے بچانے کے لئے اُسے ایک غار میں جنم دیا۔ زیوس نے بڑے ہو کر کرونس کو ایک ایسی عقِیق دَوا دے ڈالی جس سے اُس کے پیٹ میں پڑی ہر چیز باہر آ گئی۔ ہیسٹیہ کرونس کے پیٹ میں جانے والی پہلی اولاد تھی لیکن نکلنے والی آخری؛ اِس لحاض سے اِسے کرونس کی پہلی اولاد اور آخری اولاد بھی تصّور کیا جاتا ہے۔ پیٹ سے اُگلے جانے کے بعد کرونس کے تمام بچوں نے اپنے باپ سے اُس کی درندگی کا اِنتقام لیا۔ بدلہ لینے کے بعد ہیسٹیہ کو دو شادی کی درخواستیں آئیں، ایک پوسائڈن کی طرف سے اور ایک اپالو کی طرف سے؛ ہیسٹیہ نے اِن دونوں کو ہی ٹھُکرا کر رد کر دیا اور زیوس کے سر کی قسم کھا کر ہمیشہ دوشیزہ رہنے کا اعلان کیا۔

ہیسٹیہ کی اساطیری پہچان[ترمیم]

کرونس اور ریہہ کی پہلی (اور کرونس کے پیٹ سے اُگلے جانے کے اعتبار سے آخری) بیٹی ہونے کے ناتے، گھر کی ہر دعوت میں ہیسٹیہ کے نام شراب کا پہلا اور آخری پیالہ لیا جاتا تھا۔ ہر یونانی بستی میں ایک عوامی آتش گاہ ہوا کرتی تھی جو ہیسٹیہ کی نذر دی جاتی تھی۔ اِس مرکزی عوامی آتش گاہ کی یہ اہمیت تھی کہ بستی میں آنے والے تمام بیرونی سفیروں اور مہمانوں کو اِس کے گرد ہی دعوت دی جاتی تھی۔

ہیسٹیہ کی حمد میں، ہومر کا مناجاتی گیت نمبر 24، اِس دیوی کی اِستمداد کُچھ یوں کرتا ہے:

اے ہیسٹیہ، اپالو کے گھر کی نگہبان،
نیک پِتھو کی مُحافِظ دیوی،
جس کی زلفوں سے ہر دم تیل ٹپکتا ہے:
میرے گھر کا بھی رُخ کر، پاس آ؛
آ، زیوس کی پیروی میں: میرے گیت کو اپنا فضل بخش۔

بارہ اولمپوی دیوتاؤں میں شمار[ترمیم]

مزید دیکھئے: بارہ اولمپوی

ہیسٹیہ یونانی اساطیر کے بارہ عظیم اولمپوی دیوتاؤں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ البتہ، اِس کی جگہ اکثر دیونیسوس کو بارہواں دیوتا بھی تصّور کیا جاتا ہے۔ اِس تضاد کو حل کرنے کے لئے قدیم یونانی ماہر اساطیر یہ بتاتے ہیں کہ ہیسٹیہ نے اولمپوی دیوتاؤں میں اپنی نشست خُود دیونیسوس کے لئے چھوڑ دی اور اِسے بارہواں اولمپوی دیوتا بننے کا نصیب عطا کیا۔ اپنی یہ اہم نشست چھوڑنے کے بعد بھی ہیسٹیہ کا رتبہ ختم نہیں ہوا بلکہ اِس کی خاکساری اور عاجزی کا ہی چرچہ بُلند ہوتا چلا گیا۔ بَہَر حال، ہیسٹیہ کو اولمپوی دیوتاؤں میں سب سے عمر دراز ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔