ہیملٹن، انٹاریو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ہیملٹن کا شہر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کا ساحلی شہر ہے۔ جب جارج ہیملٹن نے ڈیورنڈ کا فارم 1812 کی جنگ کے فوراً بعد خریدا تو اس جگہ کا نام انہوں نے ہیملٹن رکھا۔ جلد ہی یہاں لوگ بہت بڑی تعداد میں آ کر بسنے لگے اور جھیل اونٹاریو کے مغرب میں گولڈن ہارس شو کے علاقے میں اسے صنعتی مرکز کا درجہ مل گیا۔ یکم جنوری 2001 کو ہیملٹن کے شہر اور دیگر مضافات کو ملا کر میونسپلٹی بنا دی گئی۔ یہاں کے باشندوں کو ہیملٹونین کہتے ہیں۔ 1981 سے یہ میٹروپولیٹن کا علاقہ کینیڈا میں 9ویں اور اونٹاریو میں تیسرے نمبر پر بڑا علاقہ ہے۔ روایتی طور پر مقامی معیشت پر سٹیل اور بھاری صنعتوں کا غلبہ رہا ہے۔ پچھلی دہائی میں البتہ یہ رحجان خدمات اور بالخصوص صحت کی سہولیات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہیملٹن ہیلتھ سائنسز میں تقریباً 10000 افراد کام کر رہے ہیں اور یہ تقریباً 22 لاکھ افراد کو صحت کی سہولیات مہیا کر رہا ہے۔ ہیملٹن میں رائل بوٹینیکل گارڈن، کینیڈین وار پلین ہیریٹیج میوزیم، بروس ٹریل، میک ماسٹر یونیورسٹی اور موہاک کالج موجود ہیں۔ اپنے محل وقوع کی وجہ سے ٹی وی کے بہت سارے ڈرامے اور فلمیں یہاں بنائی گئی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

نوآبادیاتی دور سے قبل یہاں غیر جانبدار مقامی باشندے یہاں کی زیادہ تر زمین کو استعمال کرتے تھے۔ ان قبائل نے برطانویوں اور فرانسیسی افراد کی حمایت ہرون قبائل کے خلاف کی تھی۔ 1784 میں امریکہ سے جان بچا کر بھاگنے والے تقریباً دس ہزار برطانوی وفادار افراد کی اکثریت بالائی کینیڈا (موجودہ دور کے جنوبی اونٹاریو) میں آن آباد ہوئی۔ ان کے فوراً بعد ہی دیگر امریکی آ کر یہاں آباد ہونے لگے جو تاج برطانیہ کے وفادار تو نہیں تھے لیکن یہاں کی سستی اور قابل کاشت زمین کا لالچ انہیں یہاں لے آیا۔ ابتداء میں گور کے ضلع میں ہیملٹن کو اتنی اہمیت حاصل نہ ہوسکی اور مستقل جیل بھی 1832 میں بنی۔ بعد ازاں 13 فروری 1833 میں ایک حکم نامے سے شہر کی حدود اور پہلے پولیس بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ 9 جون 1846 میں پارلیمان کے ایک حکم پر اسے شہر کا درجہ دے دیا گیا۔ جوں جوں شہر بڑھتا گیا، کئی اہم عمارات تعمیر ہوتی گئیں۔ کینیڈا میں پہلی تجارتی ٹیلی فون کی سروس، برطانوی سلطنت میں پہلی اور شمالی امریکہ کی دوسری ٹیلی فون ایکسچینج یہاں 1877 اور 1878 کے درمیان بنیں۔ 20ویں صدی کے اوائل میں یہاں کی آبادی بڑھتی گئی اور کئی صنعتیں یہاں قائم ہوئیں جن میں سٹیل بنانے کے کارخانے، پراکٹر اینڈ گیمبل، بیچ نٹ پیکنگ کمپنی وغیرہ اہم تھیں۔ 1929 میں فلک بوس عمارت کی تعمیر، 1960 تک آبادی میں مسلسل اضافے، ٹورنٹو سے میک ماسٹر یونیورسٹی کی ہیملٹن منتقلی، ائیرپورٹ کا قیام، سٹڈ بیکر کمپنی کے کار بنانے کے کارخاناے کا قیام وغیرہ سے شہر میں نہ صرف تجارتی بلکہ تعلیمی اور معاشی ترقی جاری رہی۔ یکم جنوری 2001 کو ہیملٹن اور اس کے مضافات کو ملا کر ایک نیا شہر بنا دیا گیا۔ پرانے شہر میں 331131 افراد جبکہ نئے بننے والے شہر میں 490268 افراد رہتے ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

ہیملٹن کا شہر جنوبی اونٹاریو کے مغربی سرے پر نیاگرا کے جزیرہ نما پر واقع ہے اور جھیل اونٹاریو کے مغربی کنارے پر پھیلا ہوا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ شہر گولڈن ہارس شو کے علاقے کے عین وسط اور ٹورنٹو اور بفیلو، نیویارک کے تقریباً درمیان میں ہے۔ شہر کے ایک طرف ہیملٹن کی بندرگاہ اور دوسری طرف نیاگرا ہے۔

موسم[ترمیم]

ہیملٹن کا موسم ہیومڈ کانٹی نینٹل نوعیت کا ہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ تاہم کینیڈا کے دیگر شہروں کی نسبت اس کا موسم زیادہ معتدل رہتا ہے۔ ائیرپورٹ کھلی اور نسبتاً بلند جگہ پر واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں نسبتاً کم درجہ حرارت اور زیادہ برف گرتی ہے۔

آبادی[ترمیم]

2006 کی مردم شماری کے مطابق شہر کی ۲۰ فیصد سے زیادہ آبادی کینیڈا سے باہر پیدا ہوئی تھی۔ ٹورنٹو اور وینکوور کے بعد یہ تیسری بلند ترین شرح ہے۔ تقریباً 78 فیصد افراد عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں تاہم دیگر مذاہب بھی یہاں موجود ہیں جن میں یہودی، بدھ مت، جین مت، ہندو مت وغیرہ اہم ہیں۔ غیر عیسائی مذاہب میں اسلام سب سے زیادہ پیروکار رکھتا ہے۔

معیشت[ترمیم]

اونٹاریو کے صوبے میں اہم ترین صنعت مینوفیکچرنگ کی ہے اور ٹورنٹو سے ہیملٹن کے علاقے میں بہت صنعتیں قائم ہیں۔ اونٹاریو میں اوشاوا کے علاقے سے جھیل اونٹاریو کے مغربی کنارے پر نیاگرا کی آبشار تک کا علاقہ گولڈن ہارس شو کہلاتا ہے اور ہیملٹن اس کے عین مرکز میں واقع ہے۔ گولڈن ہارس شو کے علاقے میں تقریباً 81 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ یہ علاقہ 150 میل لمبا اور 50 میل چوڑا ہے۔ کینیڈا کا 60 فیصد سٹیل ہیملٹن میں پیدا ہوا ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]

ہیملٹن کے مندرجہ ذیل جڑواں شہر ہیں:

  • فلنٹ، مشی گن، امریکہ
  • پٹز برگ، پنسلوانیا، امریکہ
  • فوکویاما، جاپان
  • ما آن شان، ان ہوئی، چین
  • منگلور، بھارت
  • مونٹیری، میکسیکو
  • راکل مٹو، سسلی، اٹلی
  • سراسوٹا، فلوریڈا، امریکہ
  • شانیگن، کیوبیک، کینیڈا
  • والی پیلگنا، ابروزو، اٹلی