یورینیئم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
92 neptunium uranium protactinium
Nd

U

(Uqb)
U-TableImage.png
عمومی خواص
نام، عدد، علامت U ،92 ،uranium
کیمیائی سلسلے actinides
گروہ, دور, خانہ n/a, 7, f
اظہار silvery gray metallic;
corrodes to a spalling
black oxide coat in air
Uranium
جوہری کمیت 238.02891(3)گ / مول
برقیہ ترتیب [Rn] 5f3 6d1 7s2
برقیے فی غلاف 2, 8, 18, 32, 21, 9, 2
طبیعیاتی خواص
حالت solid
کثافت (نزدیک د۔ ک۔) 19.1 گ / مک سم
مائع کثافت ن۔پ۔ پر 17.3 گ / مک سم
نقطۂ پگھلاؤ 1405.3 ک
(1132.2 س، 2070 ف)
نقطۂ ابال 4404 ک
(4131 س، 7468 ف)
حرارت ائتلاف 9.14  کلوجول/مول
حرارت تبخیر 417.1  کلوجول/مول
حرارت گنجائش (25 س) 27.665  جول/مول/کیلون
بخاری دباؤ
P / Pa 1 10 100 1 k 10 k 100 k
T / K پر 2325 2564 2859 3234 3727 4402
جوہری خواص
قلمی ساخت orthorhombic
تکسیدی حالتیں 3+,4+,5+,6+[1]
(weakly basic oxide)
برقی منفیت 1.38 (پالنگ پیمانہ)
آئنسازی توانائیاں اول: 597.6 کلوجول/مول
دوئم: 1420 کلوجول/مول
نصف قطر 175پیکومیٹر
وانڈروال نصف قطر 186 پیکومیٹر
متفرقات
مقناطیسی ترتیب paramagnetic
برقی مزاحمیت (0 س) 0.280 µΩ·m
حر ایصالیت (300 ک) 27.5  و / م / ک
حرپھیلاؤ (25 س) 13.9  µm / م / ک
رفتار آواز (باریک سلاخ) (20 س) 3155 م/سیکنڈ
ینگ معامل 208  گیگاپاسکل
معامل قص 111  گیگاپاسکل
معامل حجم 100  گیگاپاسکل
پوئسون نسبت 0.23
سی اے ایس عدد 7440-61-1
منتخب ہم جاء
مقالۂ رئیسہ: یورینیئم کے ہم جاء
ہم جاء کثرت نصف حیات تنزل ا تنزل ت (ب ولٹ) تنزل پ
232U syn 68.9 y α & SF 5.414 228Th
233U syn 159,200 y SF & α 4.909 229Th
234U 0.0058% 245,500 y SF & α 4.859 230Th
235U 0.72% 7.038×108 y SF & α 4.679 231Th
236U syn 2.342×107 y SF & α 4.572 232Th
238U 99.275% 4.468×109 y SF & α 4.270 234Th
حوالہ جات


ہیروشیما پر یورینیم سے بنے بہلے ایٹم بم 'Little Boy' گرنے کے فورا بعد کا منظر 1945
پچ بلنڈی, جس سے یورینیم نکالا جاتا ہے

یہ بہت سخت, بھاری اور چاندی جیسی دھات ہے جسکا ایٹمی نمبر 92 ہے. یہ 1789 میں Martin Klaproth نامی ایک جرمن کیمیا دان نے دریافت کی تھی. اس نے اسے پچ بلنڈی سے الگ کیا تھا. یہ پچ بلنڈی چیک ریپبلک کی Joachimsal کی چاندی کی کانوں سے حاصل کی گئی تھی. اس نے اس نئی دھات کا نام نئے دریافت شدہ سیارے یورینس کے نام پر Uran رکھا. یہ سیارہ محض آٹھ سال پہلے ہی دریافت ہوا تھا. یورینیم پچ بلنڈی کے علاوہ کارنوٹائٹ اور یرےنائٹ میں بھی ملتا ہے.

ہمارے نظام شمسی میں یورینیم بظاہر 6۔6 بلین سال پہلے ایک سوپر نوا supernova کے پھٹنے سے وجود میں آیا تھا. اگرچہ یہ سولر سسٹم solar system میں بہت وافر نہیں ہے پھر بھی اسکی تابکاری زمین کے اندر گرمی پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے. تابکاری کے باعث ایک ٹن یورینیم سے اعشاریہ ایک واٹ کی گرمی خود بخود نکلتی ہے جو کرہ ارض کو گرم کرنے کے لئے کافی ہے. اسی گرمی سے continental plates سرکتی ہیں زلزے آتے ہیں اور کرہ ارض کے بہت اندر convection کرنٹ بہتے ہیں. قدرتی یورینیم میں اتنی تابکاری ہوتی ہے کہ فوٹو گرافی کی فلم کو لگ بھگ ایک گھنٹے میں روشن expose کر دیتی ہے.

یورینیم نایاب نہیں[ترمیم]

سطح زمین کی قدرتی چٹانوں میں بہتات کے اعتبار سے یورینیم قدرتی عناصر میں اڑتالیسویں نمبر پر ہے. یعنی یہ اتنا بھی نایاب نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے. بہتات کے اعتبار سے یہ سونے کے مقابلے میں 500 گنا، چاندی سے 40 گنا، پارے سے 25 گنا، اور ٹن ( قلعی) سے دوگنا زیادہ ملتا ہے.

یورینیم جست (زنک)، بورون، اینٹیمنی اور کیڈمیم سے زیادہ وافر ہے. سمندر کے ایک ٹن پانی میں تقریباً 3 ملی گرام یورینیم موجود ہوتا ہے. زیادہ تر چٹانوں میں ایک ٹن میں دو سے چار گرام یورینیم موجود ہوتا ہے. یورینیم دنیا میں اتنا ہی ملتا ہے جتنا کہ آرسنک، ٹن، ٹنگسٹن اور مولبڈینیم. اگر یورینیم کی قیمت کچھ زیادہ بڑھ جاۓ تو سمندر کے پانی سے یورینیم نکالنا سودمند ہو سکتا ہے.

یہ کثافت اضافی میں تقریباً سونے کے برابر ہے یعنی تقریباً 19گرام فی مکعب سینٹی میٹر. اسطرح یہ سیسے(رصاص) سے 1.6 گنا زیادہ بھاری ہے اور یہ دنیا کی آٹھویں بھاری ترین شۓ ہے. یہ 1132 ڈگری سنٹی گریڈ پر پگھلتا ہے اور 3818 پر ابلتا ہے.

Yellowcake جو یورینیم آکسائڈ ہوتا ہے اور خالص یورینیم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے

استعمال[ترمیم]

صرف ایک ٹن قدرتی یورینیم سے چار کروڑ کلو واٹ آور بجلی پیدا کی جا سکتی ہے. اتنی ہی بجلی پیدا کرنے کے لئے سولہ ہزار ٹن کوئلہ یا 80 ہزار بیرل تیل جلانا پڑتا ہے. اسوقت دنیا میں تقریباً 442 جوہری بجلی گھر 59 ممالک میں کام کر رہے ہیں اور دنیا میں استعمال ہونے والی بجلی کا تقریباً23‎% ‎ پیدا کر رہے ہیں. ان میں سے 104 امریکہ میں ہیں اور امریکی ضرورت کا 20‎%‎ مہیا کر رہے ہیں. امریکی بجلی کا دس فیصد حصہ روس کے ان پرانے ایٹم بموں سے حاصل کردہ یورینیم سے بنتا ہے جنہیں معاہدے کے تحت ناکارہ کر دیا گیا تھا. ہر ایٹم بم میں تقریباً پندرہ کلو گرام یورینیم 235 ہوتا ہے جسکی افزودگی 90‎%‎ سے بھی زیادہ ہوتی ہے.

یورینیم افزودہ (enrichment) کرنے کے آلے جنہیں سنٹری فیوج کہتے ہیں

سطح زمین اور سمندر میں اتنا قدرتی یورینیم موجود ہے جو دنیا بھر کی بجلی کی ضرورت کو کئ صدیوں تک پورا کر سکتا ہے.

جوہری بجلی گھر کی بجلی کو “صاف ستھری” بجلی مانا جاتا ہے کیونکہ انکے استعمال سے امریکہ میں فضا میں کاربن کے اخراج میں 1981 سے 1994 کے دوران 90‎%‎ کمی واقع ہوئی ہے. اسکے برعکس fossil fuel مثلا کوئلہ تیل اور گیس جلانے سے ہر سال 25 بیلین ٹن کاربن ڈائ آکسائڈ پیدا ہوتی ہے جو فضا میں جا کر green house effect کے تحت دنیا کو گرم کرنے global warming کا بڑا سبب بنتی ہے.

ساری دنیا کے جوہری بجلی گھر مل کر جتنا فضلہ waste پیدا کرتے ہیں وہ ایک ایسی دو منزلہ عمارت میں محفوظ رکھا جا سکتا ہے جو ایک باسکٹ بال کے میدان کے برابر زمین پر بنی ہو.
جوہری بجلی گھر میں یورینیم کے ایک ٹکڑے کو تقریباً18 مہینوں تک بجلی پیدا کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے. اس دوران اسکا کچھ حصہ پلوٹونیم میں تبدیل ہو جاتا ہے. پلوٹونیم بھی ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے.

1945-2014 جوہری ہتھیاروں کے ذخائر

1967میں امریکی جوہری ہتھیاروں کی تعداد 32000 سے کچھ زیادہ تک پہنچ گئی تھی. اس کے جواب میں روس نے 1988 تک 45000 جوہری ہتھیار بناۓ تھے. آج ان کی تعداد بہت کم کی جا چکی ہے.

جوھری مرکزے کے تسلسل سے ٹوٹنے کا ایک خاکہ:؛ یورینیم 235 کےایک ایٹمی مرکزے سے ایک سست رفتار نیوٹرون کی ٹکر ہونے سے یورینیم 235 دو چھوٹے ایٹمی مرکزوں میں ٹوٹ جاتا ہے جس سے کثیر توانائ اور کچھ نۓ نیوٹرون خارج ہوتے ہیں جو مزید یورینیم 235 کے ایٹموں کو توڑتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔


بیرونی ربط[ترمیم]

مزید دیکھیئے[ترمیم]

Pie-graphs showing the relative proportions of uranium-238 (blue) and uranium-235 (red) at different levels of enrichment
Implosion bomb animated.gif


  1. ^ The Chemistry of the Actinide and Transactinide Elements: Third Edition by L.R. Morss, N.M. Edelstein, J. Fuger, eds. (Netherlands: Springer, 2006.)
قدرتی یورینیم کا ٹکڑا اور اس سے خارج ہونے والی گاما ریز کا طیف جس میں موجود درجن بھر عمودی لکیریں یورینیم کی شناخت حتمی بنا دیتی ہیں۔ یہ لکیریں تابکاری کے نتیجے میں بننے والے226Ra, 214Pb, اور 214Bi سے آتی ہیں۔
 Table top with various pieces of experimental equipment.
تجربہ گاہ کا وہ سامان جسکی مدد سے 1938 میں یہ ثابت کیا گیا کہ یورینیم کا ایٹم توڑا جا سکتا ہے۔

بیرونی ربط (انگریزی میں)[ترمیم]