یوسف خٹک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

محمد یوسف خان خٹک (18 نومبر 1917ء - 29 جولائی 1991ء) تحریک پاکستان کے فعال کارکن تھے۔ آپ حالیہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے مشہور و معروف خاندان کے چشم و چراغ تھے، آپ کے والد کا نام خان بہادر قلی خان خٹک تھا، جو سابق گورنر اسلم خان خٹک، لیفٹینٹ جنرل حبیب اللہ خان اور کلثوم سیف اللہ خان کے بھائی تھے۔ یوسف خٹک صوبہ سرحد (برطانوی سامراج) میں ڈاکٹر خان صاحب کی سربراہی میں قائم گانگریسی حکومت کے خلاف تحریک پاکستان کے انتہائی فعال کارکن رہے۔ خان لیاقت علی خان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بناء پر آپ کو تقسیم ہند کے بعد مسلم لیگ کا سیکرٹری جنرل نامزد کیا گیا۔ تاہم ان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ عبدالقیوم خان کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے پارٹی عہدہ سے مستعفیٰ ہو گئے۔ عبدالقیوم خان نے منظم طور پر یوسف خٹک اور ان کے حمایتی بیرسٹر سیف اللہ خان کے خلاف پارٹی میں تحریک چلائی۔
1949ء میں یوسف خٹک کو پارٹی کا صوبائی جنرل سیکرٹری نامزد کیا گیا اور بعد ازاں آپ خان لیاقت علی خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد مرکز میں آل پاکستان مسلم لیگ کے دوسرے سیکرٹری جنرل نامزد ہوئے۔
آپ پاکستان کے قیام کے بعد زیادہ تر عرصہ حزب اختلاف میں رہے، اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف بھی منتخب کیے گئے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی تحریک میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
خان عبدالغفار خان کے ساتھ شدید نظریاتی اختلافات کی بناء پر آپ نے عوامی نیشنل پارٹی کے اس موقف کہ وہ پشتونوں کی نمائندہ جماعت ہے، ہمیشہ سخت مخالفت کی۔
1971ء میں قیوم خان کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (قیوم) میں شمولیت اختیار کی اور قیوم خان کی جانب سے خالی کی جانے والی پشاور کی قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان مسلم لیگ (قیوم) کی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شراکت داری پر یوسف خٹک کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے ایندھن، توانائی اور قدرتی وسائل تعینات کیا گیا۔ 1977ء میں قیوم خان کے ساتھ اختلافات اور پارٹی سے علیحدگی کے باوجود آپ نے پشاور سے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی۔
1990ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے یوسف خٹک کو سیاست کے میدان میں گراں قدر خدمات کے صلے میں تمغہ سے نوازا اور پاکستان ڈاک کے ان کے نام پر اعزازی ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔[1]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]