یوہژی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Yuezhi
Yueh-ChihMigrations.jpg
The migrations of the Yuezhi through Central Asia, from around 176 BCE to 30 CE
کل آبادی
Some 100,000 to 200,000 horse archers, according to the Shiji, Chapter 123.[1] The Hanshu Chapter 96A records: 100,000 households, 400,000 people with 100,000 able to bear arms.[2]
علاقے جہاں یہ قبیلہ آباد ہے
Western China (pre-2nd century BCE)[3]
Central Asia (2nd century BCE-1st century CE)
شمالی ہند (1st century CE-4th century CE)
زبانیں

Bactrian[4]

مذاہب

Iranian deities (Nana), Buddhism, زرتشتیت, Hinduism

متعلقہ نسلی گروہ

کشان سلطنت

یوہژی یا روژی (چینی زبان:月氏) وسط ایشیا کا ایک قدیم گروہ جو مشرقی تاریم طاس کے علاقے کے بنجر چراگاہ میں آباد تھے اور شی انگنو کے حملوں کے باعث اپنے آبائی گھر (موجودہ چین کے سنکیانگ اور مغربی گانسو) کو چھوڑ کر پہلے شمالی وسط ایشیا (دریائے سیحوں اور دریائے جیحوں کے درمیان کا علاقہ) اور بعد میں باختر و سغد (یعنی سلطنت یونانی باختر) اور پھر شمالی بر صغیر میں مقیم پذیر ہوئے، جہاں وہ کشان سلطنت تشکیل دینے میں کامیاب رہے-

اشتقاقیات[ترمیم]

نام یوہژی یا روژی کے ماخذ کے بارے میں متعدد نظریات ہیں، اور کوئی بھی نظریہ ابھی تک عمومی طور پر منظوری نہیں حاصل کر سکا ہے- قدیم چینی زبان کی رو سے ”یوہ“ کے معنی ”چاند“ کے ہیں اور ”ژی“ کو ”شی“ پکارتے جس کا مطلب ”برادری“ ہے تو گویا شاید یوہژی کا مطلب ”چاند برادری“ ہے- مگر چین کے ہان خاندان کے دور میں لکھی جانی والی کتابوں میں ”ژی“ سے ختم ہونے والے لفظ غیر مہذب یا جنگلی مغربی قبائل کی نشاندہی کرتا تھا-

نژاد[ترمیم]

کانگشی لغت کے مطابق، یہ لوگ چین کی سرحدوں سے پرے ملک سے آئے تھے- انکا پہلا حوالہ تین قدیم چینی ذرائع سے ہم تک پہنچا ہے؛ ایک گوانژی مقرر، دوسرا بادشاہ منہ ژاؤ، جنت کے بیٹے کی کہانی اور تیسرا یی ژوشو ہے- یہ چین کو یشپ (Jade) فروخت کرتے تھے- سوویت اتحاد کے زمانے کے تاریخ دان زیوف کے مطالع کے مطابق یوہژی نسلی گروہ نے ایک وفاق قائم کی اور بعد میں ایک ”ملکہ“ کی حکمرانی کے دور میں تخار قوم پر تاریم طاس میں حاوی ہوئے- زیوف کے مطابق اس دور کے چینی سرگزشت میں انکو ”دا یوہژی“ یعنی یوہژی کبیر کہا جانے لگا جبکہ تخار قوم کو ”ژاؤ یوہژی“ یعنی یوہژی صغیر کے نام سے انہیں جاننے لگے- مشہور چینی تاریخی کتاب شیجی میں بھی انکے نژاد کا ذکر ہے-

نسل[ترمیم]

نسل کے بارے میں کچھ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ہے- یہ شاید سفید فام تھے یا منگول یا پھر ترک نسل سے تعلق رکھتے تھے، جیسا کہ ان کے بادشاہ کے سکوں پر انکی تصاویر سے معلوم پڑتا ہے- تاہم، یوہژی حکمرانوں کے نام کے لئے کوئی براہ راست ریکارڈ وجود میں نہیں ہیں،صرف چینی ذرائع میں انکے چینی نام کا ذکر ہے اور وہاں ان کے سکوں کی صداقت کے بارے میں کچھ شک بھی ہے- یوہژی کے وطن وجود میں آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق انکی ثقافتی خصوصیات موجودہ چین کے اندرونی منگولیا کی ایک ثقافت سے ملتی ہے- قدیم چینی ذرائع ”بائی“ یعنی سفید فام لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے ”سنہرے و لمبے بال“ تھے اور شمال مغربی سرحدوں کے پار رہتے تھے- اس بات کا بھی پکا ثبوت نہیں کہ آیا یہ قوم انڈو یورپی زبانیں بولنے والے تھے کہ تخاری زبانیں بولنے والے تھے-

قبائلی وفاق[ترمیم]

یوہژی ویسے کافی سارے قبیلوں کی ایک وفاق تھی لیکن طاقتور اور اثر و رسوخ والے قبیلے پانچ تھے، جن کے چینی زبان میں بذریعہ مشہور چینی تاریخی کتاب شیجی کے ہم تک پہنچے ہیں؛ مندرجہ ذیل وہ قبائل ہیں جنہیں موجودہ افغانستان کے خطہ میں آئے کچھ عرصہ گزر چکا تھا-

  1. ژیومی - واخان و زیباک‎ میں
  2. گوئی شووانگ (یعنی: کشان) - بدخشان اور دریائے جیحوں کے شمال میں
  3. شوآنگمی - شغنان‎ میں
  4. ژیدون - بلخ کے علاقے ميں
  5. دومی - ترمذ‎ کے علاقے ميں

یہ نام چینی زبان میں ہیں اور شاید انکے اصل ناموں سے ملتے ہوں مگر یوہژی سے اس بارے میں تاریخ دانوں کو براہ راست معلومات موصول نہیں ہوئیں ہیں -

ابتدائی تاریخ و یوہژی اِنخَلا[ترمیم]

یوہژی، شی انگنو کے پڑوسی تھے اور دشمن بھی تھے- وہ کبھی کبھی ایک دوسرے کے ساتھ یرغمالیوں کے تبادلے بھی کرتے- شی انگنو وفاق کے سردار طومان سانُک، یوہژی کے ساتھ کسی جھڑپ کے بعد امن قائم کرنے کے لئیے اسے اپنے خاندان سے کسی کو یرغمالی بننے کے لئیے بھیجنا تھا- دوسری بیوی کے بیٹے کی حمایت کی خواہش میں اس نے اپنے بڑے بیٹے مودو سانُک بہادر کو یرغمال کے طور پر یوہژی وفاق کے حوالے کر دیا- کچھ عرصے بعد اپنے بڑے بیٹے کی زندگی کی پروا کیۓ بغیر طومان سانُک نے یوہژی وفاق پر حملہ کر دیا- یوہژی بدلے کی خاطر مودو سانُک بہادر کو مارنا چاہتے تھے مگر وہ کسی طرح گھوڑا چرا کر بھاگا اور اپنی جان بچا کر اپنے باپ کے پاس آگیا-

مودو سانُک بہادر نے اپنے باپ کی بے پروائی کا بدلہ اس کی جان لے کر لیا اور شی انگنو وفاق کا نیا سردار بنا- مودو سانُک بہادر نے اپنے علاقے کو وسیع کرنے کی غرض سے اور اپنے بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر، یوہژی پر حملہ کیا- اس کے تیر اندازوں کے آگے یوہژی نہ ٹک سکے- شی انگنو کے خاص تیر تھے جو ہوا میں اڑتے ہوئے سیٹی جیسی آواز نکالتے اور جنگ کے شور و غل میں مزید الجھن و حیبت تاری کرتے- یوہژی کو رفتہ رفتہ تاریم طاس سے دھکیل دیا گیا اور وہ پہلے موجودہ چین کے شمال مغربی علاقے کے دریائے عیلی کی وادی میں جا بسے اور بعد میں تانگڑی تاغ پہاڑی سلسلہ کی طرف آگۓ-

تانگڑی تاغ میں یوہژی کا واسطہ ساکا لوگوں سے پڑا جن کو وسط ایشیا کے دریائے سیحوں اور دریائے جیحوں کے درمیان کے علاقے کی طرف بذریعہ حملوں کے منتقل کر دیا- بعد میں ساکا خود جنوب کی جانب بڑھے اور کچھ بذریعہ درہ خنجرب کے کشمیر پر حملہ آور ہوئے- وقت کے ساتھ ساتھ ووسون خانہ بدوش نے 155 قبل مسیح میں شی انگنو کے ساتھ مل کر یوہژی پر حملہ کیا اور پھر سے انہیں بری طرح سے شکست دے کر مزید جنوب میں دھکیل دیا اور وسط ایشیا کے فرغانہ میں دایوان کی شہری تہذیب کے علاقے کو عبور کرکے دریائے جیحوں کے شمالی کنارے پر آباد ہوۓ- اب وہ وسط ایشیا کے دریائے سیحوں اور دریائے جیحوں کے درمیان کے علاقے میں ساکا کی جگہ بسنے لگے جنکو مزید جنوب میں سلطنت یونانی باختر کی طرف دھکیل دیا گیا-

ساکا، سلطنت یونانی باختر میں، مملکت يونانی ہند میں اور سیستان‎ طاس میں آباد ہوئے- سیستان‎ طاس کا نام ساکاستان تھا- جہاں یہ مقیم تھے وہاں ساکا، کمبوہ ، يونانی، پہلاوا اور دیگر قوموں کے درمیان وسیع پیمانے پر معاشرتی اور ثقافتی ملاپ واقع ہوا، حتی کہ ان میں بہت کم فرق رہ گیا- شروع میں ساکا انہی علاقوں کے حکمرانوں کے زیر اثر رہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مملکت يونانی ہند کے اور ایران کے پارت کے خلاف کامیاب جنگیں لڑیں اور آخر کار خود کی سلطنت قائم کی جسکا نام سلطنت ساکائے ہند تھا-

عروج[ترمیم]

یوہژی کی نئی سرحدوں کے مطابق مغرب میں فرغانہ میں دایوان تھے؛ مشرق میں پارثی سلطنت؛ شمال میں کنگ اور جنوب میں یونانیوں کی سلطنت یونانی باختر تھی-

پارثی سلطنت - یوہژی جنگیں[ترمیم]

پارثی سلطنت کے شہنشاہ اردوان دوئم کے ساتھ 124 قبل مسیح میں جنگ چڑھی جس میں یوہژی قدرت کی مدد سے سرخرو ہوئے- بمطابق تروگ پمپائی (رومی سلطنت کا ایک نامور تاریخ دان)، اردوان دوئم کو لڑائی کے دوران ایک لاوارث تیر آکر بازو میں لگا جس کے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ مر گیا- مگر اس کے بیٹے مھرداد دوئم نے یوہژی کے خلاف جنگ جاری رکھی اور انہیں جنوب جانے پر مجبور کیا جہاں وہ سلطنت یونانی باختر کے آمنے سامنے ہوئے-

سلطنت یونانی باختر - یوہژی جنگیں[ترمیم]

باختر کو یونانیوں نے 330 قبل مسیح میں اسکندر اعظم کے زیر نگرانی میں فتح کیا- جب یوہژی اس علاقے کے منظر عام میں آئے تو اس بات کو دو سو سال گزر چکے تھے-

یونانیوں سے وسائل کی خاطر جھڑپیں شروع ہوئیں، جن میں سے ایک میں یوہژی، سلطنت یونانی باختر کے شہر آئی خانم کو 145 قبل مسیح میں جلا کر راکھ کرنے میں کامیاب ہوئے- اس دوران پارثی - یوہژی جنگیں لڑی گئیں جن کے بعد یوہژی نے یونانیوں پر زیادہ توجہ دی-

125 قبل از مسیح میں سلطنت یونانی باختر کا آخری بادشاہ ہلی‌اکل یوہژی حملے کے دوران شاید مارا گیا- اس دوران کچھ پڑوسی علاقوں کی عام زبان میں یوہژی فتح شدہ زمینوں کو تخارستان بھی کہا جانے لگا- نامور یونانی تاریخ دان استرابون نے بھی یوہژی حملے اور فتح کا ذکر کیا ہے جس میں اس نے یونانی زبان میں، چینی زبان سے مختلف نام قبیلوں کے بتائے ہیں؛

"معروف قبائل جنہوں نے یونانیوں کو باختر سے محروم کیا، آسی، پاسیانی، تخاری اور ساکارؤلی ہیں جو دریائے سیحوں کے دوسری طرف ملک سے آۓ، سکائے اور سغدیانی کے الٹی جانب سے-"

چنانچہ یوہژی نے سلطنت یونانی باختر قلمرو پر مکمل قبضہ کرکے آخری بادشاہ کے اہل خانہ اور اس کے کئی ساتھی اور قوم کے لوگ ہندوکش کے پار، شمال مغربی ہندوستان کے پاروپامیز يونانی ریاست، منتقل ہوگئے-

چانگ چیان, چین کی طرف سے بطور ایلچی باختر آیا، جب یوہژی اسے فتح کر چکے تھے، اور اس کا کہنا تھا کہ؛

”باختر دراصل دایوان کے جنوب مغرب اور دریائے جیحوں کے جنوب میں واقع ہے- یہاں کے لوگ زمین پر کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور انکے کئی شہر بھی ہیں جہاں لوگ تعمیر شدہ گھروں میں رہتے ہیں- ان کے رسوم و رواج دایوان کے لوگوں کی طرح ہیں- انکا کوئی بڑا حکمران نہیں، بلکہ یہ کئی سرداروں کے ذریعے شہروں میں حکومت کرتے ہیں- انکی فوجی صلاحیتیں کمزور ہیں اور یہ اب لڑنے سے گھبراتے ہیں، مگر تجارت و اقتصادی معاملات میں چلاک ہیں- جب یوہژی کبیر مغرب ہجرت کر گئے اور ان علاقوں پر حملہ آور ہوۓ تو پورا ملک ان کے زیر اثر آگیا- یہاں کے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تقریباً 10 لاکھ سے بھی زائد افراد یہاں رہائش پذیر ہیں- ان کے دارالخلافہ کا نام لانشی (بلخ) ہے جہاں ایک بہت بڑا بازار ہے جس میں ہر طرح کی چیز کا خرید و فروخت ہوتا ہے-“

مملکت يونانی ہند - یوہژی جنگیں[ترمیم]

مملکت يونانی ہند کا قیام ہندوستان کے نازک سیاسی منظر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوا تھا- موريا سلطنت کے بادشاہ اشوک اعظم 232 قبل مسیح میں وفات پاگئے، اس کے چالیس سال کے بعد موریا خاندان کا بھی خاتمہ ہوا اور شنگا شاہی خاندان کے پشيمتر شنگا نے شنگا سلطنت کی بنیاد رکھی- مملکت يونانی ہند نے ہندوستان میں کئی بار حملے کئے اور ایک بار تو شنگا سلطنت کے دارالحکومت پاٹلپتر پر بھی قبضہ کیا- حتی کہ مہا بھارت میں بھی ذکر ہے کہ متھرا ، ”کمبوہ“ اور ”یونا“ کے مشترکہ کنٹرول کے تحت تھا- مگر مملکت يونانی ہند کی اپنی سیاسی بنیادیں کمزور تھیں اور چونکہ کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی، اس لئے خانہ جنگی کا شکار رہتی- شنگا سلطنت کو بھی مشکلوں کا سامنہ تھا؛ وہ بھی پڑوسی قوم جیسے کلنگ، ساتواھن سلطنت، پانچال اور متھرا کے خلاف جنگوں میں مصروف تھے- اس وجہ سے مملکت يونانی ہند اور شنگا سلطنت نے آپس میں معمول کے سفارتی تعلقات قائم کئے اور امن معاہدہ طے پایا- اس کی تصدیق ہیلوڈورس منار کی صورت میں مدھیہ پردیش کے شہر ودیشا میں موجود ہے جس پر یونانی بادشاہ آنطی الکیداس نقفور اور شنگا بادشاہ بھاگابھدرا کے آپس کا معاہدہ کندہ ہے جس کو 110 قبل مسیح میں کھڑا کیا گیا-

ان حالات میں ”یوہژی“ نے پہلے سلطنت یونانی باختر فتح کیا اور پھر وہ مملکت يونانی ہند کے سب سے مغربی يونانی ریاست پاروپامیز پر حملہ آور ہوئے- سری لنکن-فرانسیسی تاریخ دان اوزمنڈ بوپیاراچی کے مطابق پاروپامیز کے آخری بادشاہ حرمیاس سوتر کو 70 قبل مسیح میں ”یوہژی“ نے ہی شکست دے کر اس علاقے پر قبضہ کر لیا- اس کے برعکس تاریخ دان آر.سی.سینیور کا کہنا تھا کہ پاروپامیز پر ساکا نے قبضہ کیا تھا- لیکن اوزمنڈ بوپیاراچی کا کہنا ہے کہ ساکا قبائل کا وہاں مقیم ہونے کا واضع ثبوت، خاص کر سکوں کی شکل میں، موجود نہیں ہے-

یونانی ریاستوں کو فتح کرنے کے عواقب و نتائج[ترمیم]

یوہژی“ ایک صدی سے زائد عرصے تک فتح شدہ علاقوں میں رہے حتی کہ یونانی ثقافت و ملبوسات اور رسم و رواج اپنا لیے- انہوں نے اپنی زبان کو یونانی رسم الخط میں لکھنا شروع کر دیا- اور یونانی سکوں میں چھوٹی موٹی تبدیلیاں کرکے، خام انداز میں، انکا استعمال بھی جاری رکھا- شروع کے سکوں میں تو یونانی ریاستوں کے آخری بادشاہوں کی تصویریں بھی قائم رہیں- تقریباً 12 قبل مسیح ”یوہژی“ پھر شمالی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے اور ایک نئی سلطنت، جسکا نام کشان سلطنت رکھا، قائم کرنے میں کامیاب رہے-

کشان سلطنت کی بنیاد[ترمیم]

تفصیل کے لئے مزید پڑھیں، کشان سلطنت

1 صدی قبل مسیح کے آخری حصے میں، یوہژی کے پانچ بڑے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ، ”کشان“ (چینی زبان:گوئی شووانگ) یوہژی وفاق کی سربراہی کرنے لگی اور انہی کی زیر قیادت شمالی ہندوستان میں کشان سلطنت بنانے میں کامیاب بھی رہے- مغربی تہذیب میں انکو ”کشان“ نام سے ہی پکارا جاتا جبکہ چینی انہیں مستقبل میں بھی ”یوہژی“ ہی کہتے رہے-

یوہژی قبائل کی اتحاد اور کشان سلطنت کی بنیاد کے متعلق چینی تاریخی سرگزشت ھاؤ ھانشو دستاویز میں یہ کہا گیا ہے کہ؛

"سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ایک شہزادہ، گوئی شووانگ (کشان) کے قبیلے کا سردار ہوا جو بدخشان اور دریائے جیحوں کے شمال میں واقع تھے- اس کا نام کوجولا کادفیس تھا، جس نے باقی چار طاقتور قبیلوں کے سرداروں کو شکست دے کر یوہژی وفاق کو کشان سلطنت میں تبدیل کرکے خود اسکا پہلا بادشاہ مقرر ہوا- اس نے پھر پارثی سلطنت پر حملہ کیا اور کابل کی وادی پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا- اس نے کاپيسا اور گندھارا کو بھی شکست دی- اس کی اسی (80) سال سے زیادہ عمر تھی جب وہ مرا-"

ھاؤ ھانشو دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ؛

"اس کا بیٹا ویما ٹکٹو اس کی جگہ بادشاہ بنا- لوٹ کر اس نے تیانژو (قدیم چینی زبان میں شمالی ہندوستان کا نام) پر حملہ کیا اور بعد میں ایک سپہ سالار کو وہاں قیادت اور نگرانی کرنے کے لیے چھوڑ دیا- یوہژی پھر بےتحاشا امیر ہوگئے- تمام ریاستیں [ان کے بادشاہ] کو گوئی شووانگ بادشاہ یعنی کشان بادشاہ کہتے ہیں-لیکن ہان چین انہیں آج بھی انکے پرانے نام سے پکارتے ہیں، ”دا یوہژی“ یعنی یوہژی کبیر "-

زوال[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

مغربی حوالہ جات[ترمیم]

  • Beckwith, Christopher. (2009). Empires of the Silk Road: A History of Central Eurasia from the Bronze Age to the Present. Princeton and Oxford: Princeton University Press. ISBN 978-0-691-13589-2.
  • Dorn'eich, Chris M. (2008). Chinese sources on the History of the Niusi-Wusi-Asi(oi)-Rishi(ka)-Arsi-Arshi-Ruzhi and their Kueishuang-Kushan Dynasty. Shiji 110/Hanshu 94A: The Xiongnu: Synopsis of Chinese original Text and several Western Translations with Extant Annotations. Berlin. To read or download go to: [1]
  • Hill, John E. 2003. The Peoples of the West from the Weilüe 魏略 by Yu Huan 魚豢: A Third Century Chinese Account Composed between 239 and 265 CE. Draft annotated English translation. [2]
  • Hill, John E. (2009) Through the Jade Gate to Rome: A Study of the Silk Routes during the Later Han Dynasty, 1st to 2nd Centuries CE. John E. Hill. BookSurge, Charleston, South Carolina. ISBN 978-1-4392-2134-1.
  • Liu, Xinru: Migration and Settlement of the Yuezhi-Kushan. Interaction and Interdependence of Nomadic and Sedentary Societies in: Journal of World History, 12 (No. 2) 2001, p. 261-292. See [3]
  • "Records of the Great Historian, Han Dynasty II", Sima Qian, translated by Burton Watson, Revised edition (1993) Columbia University Press, ISBN 0-231-08167-7
  • RICKET,W.A.(1998) Guanzi -Political, Economic, and Philosophic Essays from Early China. Vol.II. Princeton: Princeton University Press.
  • The Tarim Mummies: Ancient China and the Mystery of the Earliest Peoples from the West. J. P. Mallory and Victor H. Mair. Thames & Hudson. London. (2000), ISBN 0-500-05101-1
  • Roux, Jean-Paul, L'Asie Centrale, Histoire et Civilization (French), Fayard, 1997, ISBN 978-2-213-59894-9
  • Yap, Joseph P. Wars With The Xiongnu, A Translation From Zizhi tongjian Chapters 2 & 4, AuthorHouse (2009) ISBN 978-1-4490-0604-4

انگریزی بیرونی روابط[ترمیم]

  • ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Watson.2C_Burton_1993._p._234 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  • ^ Hulsewé, A.F.P. and Loewe, M.A.N. China in Central Asia: The Early Stage: 125 B.C.-A.D. 23: An Annotated Translation of Chapters 61 and 96 of the History of the Former Han Dynasty. Leiden. E. J. Birll. 1979. ISBN 90-04-05884-2, pp. 119-120.
  • ^ Watson, Burton. Trans. 1993. Records of the Grand Historian of China: Han Dynasty II. Translated from the Shiji of Sima Qian. Chapter 123: "The Account of Dayuan," Columbia University Press. Revised Edition. ISBN 0-231-08166-9; ISBN 0-231-08167-7 (pbk.), p. 234.
  • ^ Hansen, Valerie (2012). The Silk Road: A New History. Oxford University Press. p. 72. ISBN 978-0-19-993921-3.