سانحہ گیارہ ستمبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
National Park Service 9-11 Statue of Liberty and WTC fire.jpg

11 ستمبر 2001ء دنیا کی تاریخ کا وہ افسوس ناک سنگ میل تھا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ امریکہ میں چار فضائی مسافر بردار طیارے اغوا ہو کر خودکش انداز میں امریکی سرمایہ دارانہ برتری کی علامتوں سے ٹکرا دیئے گئے ۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں انسان ہلاک ہوئے اور پوری دنیا میں خوف کا عالم طاری رہا ۔ خبروں کے مطابق یہ جہاز القاعدہ کے ارکان نے اغوا کر لیے تھے جس کا بعد میں ثبوت و اعتراف بھی ملا ۔ اس دہشت گردی واقعہ کو امریکیوں نے 9/11(نائن الیون) کا نام دیا۔


سانحہ[ترمیم]

11 سمتبر 2001 ء صبح قریباً آٹھ بجے یہ حادثات پے در پے رونما ہوئے ۔ پہلے ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا اس کے اٹھارہ منٹ بعد ہی دوسرا بوئنگ 757 بھی دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا ۔ دو مسافر ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئے جن سے یہ عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اس کےٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک اور اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 بھی امریکی محکہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گان پر گرایا گیا جس سے پینٹا گان جزوی طور پر تباہ ہو گیا ۔ ۔ آدھے گھنٹے بعد ایک اور جہاز کے متعلق خبر آئی کہ جسے اغوا کر کے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جایا جا رہا تھا یہ بھی بوئنگ 757 تھا جسے پنسلوانیا کے مقام پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا ۔

واقعات[ترمیم]

پہلے صبح 8 بج کر 46 منٹ پر سب سے پہلے 5 دہشت گردوں نے امریکن ہوابازی کا مسافر طیارہ فلائٹ -11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور -1 سے ٹکرا دیا ۔ اور اس کے کچھ دیر بعد 9 بج کر 30 منٹ پر ایک دوسرا طیارہ یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 175 کو بھی جنوبی ٹاور -2 سے ٹکرا دیا ۔ اور اسی وقت 9 بج کر 37 منٹ پر پینٹاگان کی عمارت سے بھی پانچ ہائی جیکروں کے ہاتھوں اغواہ شدہ طیارہ امریکن ایئر لائن فلائٹ -77 گرایا گیا ۔ مزید تھوڑی دیر بعد تیسرا طیارہ جو کہ یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 93 تھا اس کو 4 ہائی جیکروں نے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جانے کی کوشش کی ۔ مگر شانکس ولی ، پنسلوانیا کے قریب لڑاکا طیاروں کے ذریعے اسے مار گرایا گیا ۔ یہ وقت تھا 10 بج کر 30 منٹ ۔ ان تمام حملوں میں جہازوں میں موجود تمام مسافر مارے گئے ۔ ختم ہونے سے پہلے کئی مسافروں نے اپنے اپنے موبائل سیل کے ذریعے اپنے مختلف جگہوں پر فون کر کے اطلاعات دیں ۔ ان تمام اطلاعات کو بعد میں منظم کیا گیا تا کہ اس حادثے میں ہونے والے اندرونی واقعات کو تفصیل سے جوڑا جا سکے ۔

بعد از سانحہ[ترمیم]

طیاروں کے ٹکرائے جانے کے بعد جو دو ٹاور نشانہ بنے وہ چند ہی منٹوں بعد زمین بوس ہوگئے اور ساتھ ہی اپنے ایک تیسرے ٹاور کو بھی تباہ کر چلے ۔ حادثے کے وقت اس بلڈنگ میں دس ہزار افراد تھے ۔

ان واقعات کے بعد پورے امریکہ میں ریڈ الرٹ کر دیا گیا ۔ امریکہ نے اپنے میکسکو اور کینیڈا سے ملنے والے سرحد کو بند کر دیا ۔

امریکی  فضاؤں میں جنگی طیاروں نے پروازیں شروع کردیں ۔ امریکی بحری  بیڑے حرکت میں آ گئے ۔ تمام ایئر پورٹس بند کر دیئے گئے اور کسی عام طیارے کو پرواز کی اجازت نہيں دی گئی ۔ تمام سرکاری عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا وار سرکاری تنصیابت پر فوج متعین کر دی گئی۔ جنرل سروسز  ایڈمنسٹریشن نے ہدایت جاری کر دی کہ ورجینیا ، میری لینڈ ، پنسلوانیا اور مغربی ورجینیا مین تمام عدالتیں اور دفاتر  تا حکم ثانی بند رہيں گے ۔ اسی طرح کانگریس کی عمارت خالی کرالی گئی ۔ وہ تمام 19 عمارتیں جو پولیس کے کنٹرول میں  تھیں بند کر دی گئی ۔ اسی طرح تمام ضلعی حکومتوں کے دفاتر بند کرا دیئے گئے۔  ورجینیا ریلوے ایکسپریس کو معطل کر دیا گیا ۔ اور یونین اسٹیشن سے تمام ٹرینوں کی آمد و رفت بند ہوگئی ۔ بسوں کے ساتھ پینٹا گون میٹرو ریل اسٹیشن بھی بند کر دیا گیا ۔ ریاست میری لینڈ کے تمام اسکولوں میں چھٹی کر دی گئی اور جارج ٹاؤن  یونی ورسٹی میں  کلاسز معطل کر دی گئیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی  تجارتی شاہراہ وال اسٹریٹ پر سناٹا چھا گیا ۔

نقصانات[ترمیم]

اس حملے میں  انسانی جانوں کا ایک عظیم نقصان ہوا  ۔

اس کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کے  حامیوں کو مالی بحران کا شکا رہونا پڑا ۔ عالمی مارکیٹ کریش ہونا شروع ہو گئی ۔ جو کہ چوبیس گھنٹوں بعد کسی حد تک سنبھلنے لگی تھی ۔ 

حملوں کی اطلاع عام ہوتے ہی  عالمی منڈی میں تیل وار سونے کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو گیا وار یورپی کرنسی یورو کے مقابلے میں ڈالر کر نقصان پہنچا ۔ لندن کی مارکیٹ مین آلکے ماہ یعنی اکتوبر کے لیے تیل کی قیمتيں 27۔26 ڈاٹر سے بڑھ کر 30 اعشاریہ دس ڈالر تک جا پہنچیں جب کہ نیو یارک میں تیل کی ماریکٹ  حملوں کی اطلاع کے ساتھ ہی بند ہوگغی ۔

اسی طرح سونے کی قیمت میں لگ بھگ 19 ڈالر فی اونس کا اضافہ ہو گیا۔ 

دنیا بھر کی مالیاتی منڈیاں افراتفری کا شکار ہوگئیں ۔ دنیا کا سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج نیویارک بند کر دیا گیا ۔ برطانیہ  میں لندن اسٹاک ایکسچینج کو خالی کرا لیا گیا ۔  جرمنی ، پیرس ، ٹوکیو ، بون  اور ماسکو وغیرہ کی مارکیٹوں میں بھاری خسارہ ہوا ۔ 

تباہی کے نتیجے میں انشورنس کمپنیوں نے نقصان کا تخمینہ 15 ارب ڈالر تک لگایا ۔  

[1]  

امدادی کام[ترمیم]

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں عمارت میں  سینکڑوں تجارتی دفاتر ، سرکاری ، نیم سرکاری ایجنسیں کے مراکز اور عالمی تنظیموں کے دفاتر تھے ۔ ہر ایک ٹاور میں 21 ہزار شیشے کی کھڑکیاں ۔ ہر ٹاور میں 95 لفٹس تھیں۔ تیس سال پہلے تعمیر ہونے والی یہ عمارت اسٹیل اور کنکریٹ کا ایک بے پناہ اسٹرکچر تھا ۔ جس کا ملبہ صاف کرنے اور بچ جانے والوں کو باہر نکالنے میں کئی دن اور بے پناہ کوشش صرف ہوئی ۔

سانحے کا پس منظر[ترمیم]

القاعدہ کے جہادی اراکین نے یہ حملہ مسلم دنیا پر امریکہ کی جارحیت و اسلام مخالف پالیسیوں کی مخالفت میں کیا ۔ جس سے ان کا خیال تھا کہ اس سے امریکہ کی کمر ٹوٹ جائے گی ۔[حوالہ درکار] مگر خلاف توقع امریکہ نے پوری دنیا سے اپنے لیے ہمدردی سمیٹ کر مسلم امہ پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی شروعات کر ڈالی ۔[حوالہ درکار] ایک خیال کے مطابق یہ حملہ اور اس کی منصوبہ بندی تو القاعدہ ارکان نے کی مگر جتنا زیادہ فائدہ امریکیوں کو ہوا اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ حملہ خود امریکیوں کی خواہش و منصوبہ بندی پر ہی کیا گیا ۔[متنازع ]

القاعدہ[ترمیم]

القاعدہ تنظیم ، جس کی بنیادی شروعات روس افغانستان جنگ کے بعد ہونے والے افغان خانہ جنگی کے دوران ہوئی ۔

اسامہ بن لادن[ترمیم]

مشہور اسلامی شدت پسند تنظیم القاعدہ کا سربراہ جس کی سربراہی و قیادت میں اس حملے کے سر انجام دیا گیا ۔

خالد شیخ[ترمیم]

اس سانحے کا ماسٹر مائنڈ ۔ جیسے بعد میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا ۔

القاعدہ مجاہدین[ترمیم]

القاعدہ ارکان جنہيں القاعدہ مجاہدین بھی کہا جاتا ہے ، گیارہ ستمبر کے حملوں کے لیے انتہائی شدت و جوش خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا بلکہ واقعے کے بعد امریکیوں کو مزید حقارت و طنز کا نشانہ بنایا [حوالہ درکار]۔ جب کہ چھوٹے موٹے حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جس میں سات جولائی لندن حملہ ، میڈرڈ بم دھماکہ اور بالی بم دھماکے قابل ذکر ہيں ۔

سرمایہ دارانہ نظام و امریکیوں کے خلاف نفرت[ترمیم]

القاعدہ تنظیم نے اسلامی شدت پسندی کو ہوا دینے کے لیے یہود نصاری کے جس برائی کو نمایاں کیا اس میں سرمایہ دارانہ نظام خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام ، جس کے نتیجے میں ساری دنیا کی دولت محض چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں محدود ہو جاتی ہے[حوالہ درکار] اور وہ باقی پسماندہ اور ترقی پذری دنیا کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہيں[توضیح درکار] ۔ اس کے مقابلے پر اسلام کے معیشتی نظام کی اہمیت مختلف سطحوں اور مکتبۂ فکر پر پیش کی جاتی رہی ۔ جس کے نتیجے میں یورپی اور امریکی اقوام کے لیے مسلم عوام میں کافی نفرت پایا جاتا تھا ۔

محرکات[ترمیم]

افغانستان خانہ جنگی کے اثرات کسی حد تک کم ہو جانے کے نتیجے میں القاعدہ تنظیم نے اپنے مقاصد کا رخ اب امریکہ کی طرف کر لیا تھا ۔ جس کے لیے اسے کسی بڑے ہلچل کی ضرورت تھی ۔ اس مقصد کے لیے چھوٹے موٹے حملے تو جاری تھے مگر اس بڑے حملے کی بھی تیاری انتہائی خفیہ طریقے سے جاری تھی ۔ کیوں کہ آج تک امریکہ نے اپنے خطے سے باہر نکل کر دوسرے ممالک پر جارحیت[توضیح درکار] کی تھی لیکن کسی نے یہ نہيں سنا کہ امریکہ پر کسی نے حملہ کیا ہو[حوالہ درکار] اور یہ انوکھا کارنامہ کر دکھایا القاعدہ نے ۔ اس کارنامے کا القاعدہ کو دنیا بھر شدت پسند مسلمانوں کی نظروں میں اسلامی غلبے کی امیدوں کا مرکز بنا دیا اور اسامہ بن لادن کو دیوتا سمان ۔

قبل از سانحہ[ترمیم]

حملے کے لیے القاعدہ نے کئی سال پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔ جس کا نتیجہ بالآخر گیارہ سمتبر 2001 کو نظر آیا ۔

حملے کی منصوبہ بندی[ترمیم]

طیاروں کا مقام اغوا اور جائے حادثات

القاعدہ کی طرف سے حملے کی منصوبہ بندی میں انتہائی رازداری برتا گیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے لیے طیاروں کی اڑان کی تربیت جن دہشت گردوں نے لی ۔ ان کو بھی آخر تک پتہ نہيں تھا کہ یہ ٹریننگ کس حملے کے منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔ [حوالہ درکار]

طیاروں کا اغوا[ترمیم]

اس حملے کے لیے کل چار طیاروں کو اغوا کیا گیا ۔

لیری سلور اسٹیون[ترمیم]

ایک یہودی سرمایہ کار جس نے اس سانحے سے چند ماہ پہلے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نجکاری کے ذریعے لیز پر خریدا اور سانحے کے نتیجے میں اس نے جو انشورنس کلیم کیا وہ 3 اعشاریہ 55 بلین ڈالر کا تھا مگر اس میں اس کا موقف تھا کہ اس کو دوگنا معاوضہ دیا جائے یعنی 7 اعشاریہ 1 بلین ڈالر کیوں کہ اس سانحے میں دو جہاز ٹکرائے تھے ۔

فوری اثرات بعد از سانحہ[ترمیم]

اس سانحے کے بعد پوری دنیا کی ہمدردی اس وقت امریکہ کے ساتھ ہوگئیں ۔

مذمت[ترمیم]

دنیا کے تمام ممالک اور تنظیموں کی طرف سے اس حملے کی مذمت کی گئی ۔ جس میں مسلمان عرب ممالک قابل ذکر ہيں ۔

اعتراف جرم[ترمیم]

پہلے تو اس واقعے کا الزام امریکی صدر بش جونیئر نے القاعدہ پر لگایا۔ بعد ازاں افغانستان پر حملے کے بعد اسامہ بن لادن کے اعتراف گفتگو پر مبنی ویڈیو ٹیپ سے اس بات کا ثبوت بھی مل گیا ۔

مسلمانوں کے ساتھ رویہ[ترمیم]

سانحے کے نتیجے میں بعد پوری دنیا بالخصوص امریکہ و یورپ میں مسلمان دہشت کی علامت بن گئے ۔[حوالہ درکار] اور حکومتی مشنریوں نے بے گناہ مسلمانوں پر بھی ظلم و ستم[توضیح درکار] کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے[متنازع ]

دہشت گردی کے خلاف امریکہ میں سختی[ترمیم]

امریکی مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ان کا ہر قسم کا بائیکاٹ کیا جاتا رہا [حوالہ درکار] اور رہی سہی جگہوں پر غیر مسلم ان سے خوف زدہ ہر کر الگ ہو جاتے[حوالہ درکار] ۔ جب کہ القاعدہ اور شدت مسلمانوں کی تلاش میں امریکی ایجنسیوں کی طرف بے گناہ مسلمان شہریوں کو تفتشی مقاصد کے تحت اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا جسے بعد ازاں قانون سازی کے ذریعے مزيد تقویت دی گئی ۔ جس کے بعد مسلمان اپنی پہچان سے بد ظن ہونے لگے ۔ [حوالہ درکار]

دیر پا اثرات بعد از سانحہ[ترمیم]

مسلمانوں کا جو تاثر پوری دنیا میں خراب ہوا اس کو درست کرنے میں کافی عرصہ لگا ۔[توضیح درکار]

جنگ[ترمیم]

ان اندوہناک ہلاکتوں نے امریکہ کو پوری دنیا پر جنگ مسلط کرنے کا بہترین موقع دیا[توضیح درکار] جس کے لیے سب سے پہلے نشانہ بنا افغانستان

افغانستان امریکہ جنگ[ترمیم]

سانحے کے مرکزی ذمہ دار اسامہ بن لادن جو کہ ان دنوں افغانستان میں نو تعمیر شدہ طالبان حکومت کے سائے میں رہ رہے تھے ۔ ان کی گرفتاری کے لیے امریکہ نے افغانستان کا رخ کیا ۔ اولین طور پر گرفتاری کا اصولی مطالبہ کیا گیا[کب؟] ۔ جو کہ حسب توقع [کس کے مطابق؟] مسترد کر دیا گیا ۔ جس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا اور چند ہی دنوں میں افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ کر ڈالا ۔ مگر طالبان سربراہ ملا عمر اور القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن پھر بھی ہاتھ نہيں آئے ۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان[ترمیم]

اوپر مذکور افغانستان حملے کے لیے سب سے زیادہ قربانی کا بکرا[توضیح درکار] پاکستان کو بنایا گیا ۔ اس وقت کے پاکستان کے سربراہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو امریکی حکام نے ایک فون کیا اور افغانستان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین مانگی اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ تعاون نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا ۔ وہ دن ہے اور آج کا دن امریکہ کے دہشت گردی کے جنگ کی قیمت پاکستان ادا کر رہا ہے[توضیح درکار] ۔

عراق امریکہ جنگ[ترمیم]

افغانستان پر حملے کے بعد امریکہ کے ہاتھ کھل گئے تھے جس کے بعد اس نے امریکہ کو آنکھیں دکھانے والے[توضیح درکار] مسلم عراق کے خلاف جارحیت[توضیح درکار] کا آغاز کیا اور صدر صدام پر ایٹمی ہتھیاروں رکھنے کا الزام کی آڑ میں عراق پر قبضہ کیا اور عراقی تیل پر خوب عیش[توضیح درکار] اڑائی ۔

بھارتی پارلیمنٹ حملہ[ترمیم]

سانحہ گیارہ سمتبر اور اس کی آڑ میں افغانستان پر حملے کے بعد بھارت نے بھی اپنے پارلیمنٹ پر حملے کا ڈرامہ کیا اور امریکہ کی طرح پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کے سر پر امریکہ کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوئی اور بھارت کو خاموش بیٹھنا پڑا ۔ [حوالہ درکار]

تہذیبوں کا تصادم[ترمیم]

سانحہ گیارہ سمتبر کو بعض دانشوروں اور تجزیہ کاروں نے تہذیبوں کا تصادم قرار دیا ۔ جس کی بنیاد صدر بش کا وہ بیان تھا کہ جس میں انہوں نے سانحہ گیارہ سمتبر اور اس کے جواب میں کيے گئے افغانستان حملوں کو صلیبی جنگوں کا تسلسل قرار دیا ۔

عالمی طاقتوں کا توازن[ترمیم]

اسی کی دہائی میں سوویت اتحاد کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکہ کو دنیا کا سپر پاور مانا جا رہا تھا مگر سانحہ گیارہ سمتبر نے امریکہ کے بھی طاقت اور حفاظتی قوانین کا بھرم کھول دیا اور ساتھ ہی دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اس دنیا میں پسے ہوئے مسلمان بھی ایک طاقت کا جذبہ لیے ہوئے ہیں ۔

تفتیشی مراحل[ترمیم]

گیارہ سمتبر یعنی نائن الیون بعد جتنے منہ اتنی باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ جس میں بعض افواہیں بھی شامل رہيں اور بعض پیشنگوئیوں کی تحقیق کا کام تازہ کیا گیا ۔ سب سے زيادہ شہرت مشہور قدیم یونانی فلسفی ناسٹر ڈیم کی پیش گوئیوں کو ملی ۔ اس کے علاوہ اس واقعے سے پہلے ہونے والے بعض چھوٹے چھوٹے واقعات بھی میڈیا تفتیش کی زد میں آئے ۔ جیسے 1981 میں پاکستان ایئر لائن نے اپنا ایک اشتہار چھپوایا تھا جس میں ایک طیارے کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے تقریباً ٹکراتے دکھایا گیا ۔ [1]اس کے علاوہ 1995 ء میں بننے والے بچوں کے مشہور کارٹون "جانی براوو" کا ایک سین بھی زیر بحث آیا جس میں مرکزی کردار کے پیچھے ایک دکان پر پوسٹر لگا ہوا تھا اس پوسٹر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا وہی بعد از سانحہ منظر کا خاکہ بنا تھا اور لکھا تھا Comming Soon یعنی جلد آ رہا ہے ۔

ایف بی آئی تفتیش[ترمیم]

پنچایت برائے سانحہ گیارہ سمتبر[ترمیم]

متاثرہ عمارتوں کے انہدام میں شبہ[ترمیم]

سی آئی اے[ترمیم]

تعمیر نو[ترمیم]

یادگار و آثار[ترمیم]

سانحے کے بعد بلڈنگ کا ملبہ صاف کرنے بعد اس جگہ گراؤنڈ زیرو کے نام سے یادگار بنایا گیا ۔ اس کے علاوہ اس بلڈنگ کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنانے پر تنازعہ ہوا[حوالہ درکار] ۔ کیوں کہ امریکی اسلام سے سخت خوف زدہ ہو گئے تھے[متنازع ] ۔



مزید[ترمیم]


  1. ^ 1.0 1.1 طاہر جاوید مغل (2001)، "امریکہ میں قیامت صغری"، تاریخی حادثات، اول، ص: 11