2008ء-2009ء غزہ پر اسرائیلی حملے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Suspected hoax اس مضمون کی غیرجانبداری اور/ یا اس میں شامل معلومات کی صحت شکوک سے بالاتر نہیں.


Current event marker.png یہ مضمون عہد حاضر کے واقعات سے تعلق رکھتا ہے

اس میں درج معلومات تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہیں

-

2008ء-2009ء غزہ پر اسرائیلی حملے
سلسلہ تنازعۂ فلسطین
Gaza Strip map2.svg
غزہ کا نقشہ
تاریخ 27 دسمبر 2008ء تاحال
مقام غزہ اور جنوبی اسرائیل
نتیجہ جاری
خطۂ اراضی فلسطین
متحارب
Flag of Israel.svg اسرائیل (IDF) Flag of Hamas.svg حماس
قائدین
Flag of Israel.svg  ایہود باراک
(وزارت دفاع)
Flag of Israel.svg  گبی اشکنازی
(رئیسِ عملۂ جامع)
Flag of Israel.svg  یاو گلانت
(امیر جنوبی کمان)
Flag of Hamas.svg اسماعیل ھنیہ
Flag of Hamas.svg محمود الزھار
Flag of Hamas.svg احمد الجباری (؟)
Flag of Hamas.svg اسامہ المزینی (؟)
قوت
176,500 (10,000 صف آرا[1] توپخانے، دبابات اور جنگی بیڑوں کی پشت پناہی[2]) 10,000 تا 20,000 حماس مجاہدین [3][4]
نقصانات
ہلاک: 13 (10 فوجی 3 شہری)[5][6][7]

زخمی: تقریباً 64 فوجی 119 شہری[8][9][10]

ہلاک: 765 (350 شہری[11])[12]
زخمی: 2,600 (زیادہ تر شہری)[13]
1 مصری سرحدی محافظ ہلاک اور ایک زخمی۔[14]

2008ء-2009ء غزہ پر اسرائیلی حملے اسرائیل اور فلسطین کے اسلامی گروپ حماس و دیگر چھوٹے بڑے اسلامی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ہے، جس کا آغاز 27 دسمبر، 2008ء کو اسرائیلی فضائی حملوں سے ہوا، جس کو اسرائیل نے آپریشن کاسٹ لیڈ (Operation Cast Lead) کا نام دیا، جس کے نتیجے میں 19 دسمبر، 2008ء کو چھ ماہ سے جاری عارضی جنگ بندی کا خاتمہ ہوگیا۔ اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اسرائیل پر کئے جانے والے راکٹ حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ردِعمل ہیں، اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرسمس سے ایک دن پہلے یعنی 24 دسمبر، 2008ء کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر 98 راکٹ داغے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جنگی قابلیت اور طاقت کے ختم ہونے تک جاری رہینگے تاکہ مستقبل قریب یا بعید میں حماس دوبارہ اسرائیل پر حملے نہ کرسکے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے خاتمہ کا ذمہ دار اسرائیل ہے، اب دوبارہ جنگ بندی کا معاہدہ اُس وقت تک نہیں کیا جاسکتا، جب تک اسرائیل غزہ کو دوبارہ کھول نہیں دیتا کیونکہ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد اس تنازع کا آغاز نومبر، 2008ء میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپے میں 6 فلسطینی مسلمانوں کی شہادت سے ہوا۔ [15] 2006ء میں فلسطین میں حماس کی اتحادی حکومت کے قیام کے بعد یہ وحشیانہ ترین حملے ہیں، اس تنازع میں اب تک 550 سے زائد فلسطینی مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ [16][17][18][19][20][21] اب تک ہلاک ہونے والے 550 فلسطینیوں میں سے 25 فیصد عورتیں اور بچے ہیں جبکہ زخمیوں میں ان کا تناسب 45 فیصد ہے۔ [22] حملوں کے نتیجے میں غزہ میں صورتحال مزید بگڑ چکی ہے اور اشیائے خورد و نوش اور طبی امدادی سامان کی سخت قلت ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں پینے کا صاف پانی اور ایندھن بھی نایاب ہے۔ شہر کے تمام ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمی دم توڑ رہے ہیں۔ علاقے کی بجلی پہلے ہی سے معطل ہے اور لاکھوں لوگ ایک بدترین انسانی المیہ سے دوچار ہیں۔ [23] غزہ سے ملنے والی اطلاعات بھی انتہائی محدود ہیں کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں صحافیوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے اس لیے حقیقی صورتحال کا درست اندازہ نہیں ہو پارہا۔ [24] اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن شام تک 225 افراد شہید ہوئے جوکہ اب تک فلسطین اور اسرائیل مابین ہونے والی جھڑپوں میں سب بڑا جانی نقصان ہے۔[25] حملوں کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی دفاعی افواج کے طیاروں چار دقیقوں تک حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی (جن میں تھانے، قید خانے و دیگر حکومتی دفاتر شامل ہیں)۔ اسرائیل نے اس کے علاوہ حماس کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لئے غزہ کے مرکزی قصبوں، غزہ شہر، شمال میں واقع بيت حانون، خان یونس اور جنوب میں واقع رفح پر بھی حملے کئے۔[26] ظلم و بربریت کی داستان یہی پر ختم نہیں ہوئی، اسرائیلی بحریہ نے بھی غزہ کو اسی وقت نشانہ بنایا اور غزہ کی پٹی پر بحری حدود کو بھی تاراج کردیا، جس میں عام شہری کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ [27][28][29][30]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ BARZAK, Ibrahim; Josef FEDERMAN (2009-01-03). "اسرائیل نے حماس کے ٹھکانوں کو اُڑا دیا، سفارتی کوششیں دھواں ہوگئیں". مشترکہ ناشر. گوگل. http://www.google.com/hostednews/ap/article/ALeqM5ioi_0jtO9RjMwPNRoXNCndRPRq3gD95FLO9O0. Retrieved 2009-01-03. 
  2. ^ "اسرائیل نے یورپی اتحاد کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی۔". http://www.radionetherlands.nl/news/international/6122316/Israel-rejects-EU-calls-for-immediate-ceasefire. 
  3. ^ http://www.ynetnews.com/articles/0,7340,L-3360655,00.html
  4. ^ ABC News
  5. ^ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 375 افراد جاں بحق[1] سی این این
  6. ^ http://ca.news.yahoo.com/s/capress/090105/world/israel_palestiniansname="haaretz_2nd_israeli_soldier_casualty"/>
  7. ^ http://www.ynetnews.com/articles/0,7340,L-3651164,00.html
  8. ^ "ایک فوجی ہلاک، چالیس زخمی، اسرائیلی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں". Haaretz. 2009-01-05. http://www.haaretz.com/hasen/spages/1052609.html. Retrieved 2009-01-05. 
  9. ^ یروشلم پوسٹ
  10. ^ اسرائیلی وزارتِ خارجہ
  11. ^
  12. ^ "اسرائیلی جارحیت پورے غزہ میں پھیل گئے، جنگ بندی کے لئے سفارتی دباؤ مسترد کردیا" (انگریزی میں). New York Times. 2008-01-06. http://www.nytimes.com/2009/01/06/world/middleeast/06mideast.html?_r=1&partner=rss&emc=rss. Retrieved 2009-01-06. 
  13. ^ "سرکردہ حماس کے رہنماؤں کا راکٹ حملے جاری رکھنے کا اعلان". سی این این. 2009-01-05. http://www.cnn.com/2009/WORLD/meast/01/05/israel.gaza/?iref=mpstoryview. 
  14. ^ סוכנויות הידיעות. "קצין מצרי נהרג מירי אנשי חמאס סמוך למעבר רפיח" (عبرانی میں). nana10.co.il. http://news.nana10.co.il/Article/?ArticleID=605368&sid=126. Retrieved 2009-01-01. 
  15. ^ "اسرائیلی جنگ غزہ تک کیسے پہنچی؟". http://www.guardian.co.uk/world/2009/jan/04/israel-gaza-hamas-hidden-agenda. 
  16. ^ "اسرائیل کا حماس کو منہ توڑ جواب". بی بی سی. 2009-1-02. http://news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/7807564.stm. 
  17. ^ "غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا چوتھا دن". لندن، برطانیہ: بی بی سی. 2008-12-30. http://news.bbc.co.uk/1/hi/world/middle_east/7804051.stm. 
  18. ^ "حماس پر جنگی حملوں کا اسرائیلی عزم". بی بی سی. December 30, 2008. Archived from the original on December 30, 2008. http://www.webcitation.org/5dRPr1hq5. 
  19. ^ "اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کو نشانہ بنالیا". بی بی سی نیوز. http://news.bbc.co.uk/2/hi/middle_east/7801662.stm. 
  20. ^ ہاریl, ایموس (December 27, 2008). "تجزیہ/غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے". ہاریٹز. http://www.haaretz.com/hasen/spages/1050405.html. Retrieved December 27, 2008. 
  21. ^ اسرائیل اور حماس کی عارضی جنگ بندی ختم۔نشریاتی ادارے
  22. ^ غزہ حملے: ہلاک شدگان میں پچیس فیصد بچے، بی بی سی
  23. ^ غزہ حملے: ہلاک شدگان میں پچیس فیصد بچے، بی بی سی
  24. ^ غزہ حملے: ہلاک شدگان میں پچیس فیصد بچے، بی بی سی
  25. ^ [http://www.alarabiya.net/articles/2008/12/27/62895.html غزہ پر اسرائیلی حملے 205 افراد ہلاک، العریبیہ 27 دسمبر، 2008ء
  26. ^ الخودری تغرید (28 دسمبر، 2008ء accessdate=December 30, 2008). "غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے دوسرے دن بھی جاری". نیو یارک ٹائمز. Archived on 30 دسمبر، 2008ء. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://www.webcitation.org/5dSmuUgCK. 
  27. ^ "غزہ میں امدادی کشتی اسرائیلی بحریہ کے حملے میں تباہ، سی این این ڈاٹ کام". سی این این ڈاٹ کام. http://edition.cnn.com/2008/WORLD/meast/12/30/gaza.aid.boat/index.html?eref=rss_topstories. Retrieved 2008-12-30. 
  28. ^ "غزہ کے ساحل میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر اسرائیلی بحریہ کی فائرنگ". ہاریٹز/نشریاتی ادارے. 2008-12-30. http://www.haaretz.com/hasen/spages/1051224.html. Retrieved 2008-12-30. 
  29. ^ "اسرائیلی فضائیہ اور بحریہ کی حماس کے مزید ٹھکانوں پر گولہ باری، کاروائی جاری". Israel: اسرائیلی دفاعی افواج. 2009-01-01. http://dover.idf.il/IDF/English/News/the_Front/09/01/0101.htm. Retrieved 2009-01-04. 
  30. ^ "מבצע "עופרת יצוקה": תקיפת חיל הים ברצועת עזה: כך זה נראה" (عبرانی میں). ہاریٹز. 2008-12-29. http://www.haaretz.co.il/hasite/spages/1051000.html. Retrieved 2009-01-04.