6 روزہ جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
6 روزہ جنگ
عرب اسرائیل جنگیں
Soldiers Western Wall 1967.jpg
سقوط بیت المقدس کے بعد اسرائیلی فوجی مغربی دیوار کے ساتھ
تاریخ 5 تا 10 جون 1967ء
مقام مشرق وسطی
نتیجہ اسرائیل کی فیصلہ کن فتح
متحارب
Flag of Israel.svg اسرائیل باقاعدہ:
Flag of Egypt.svg مصر
Flag of Syria.svg شام
Flag of Jordan.svg اردن
امداد:
Flag of Iraq.svg عراق
Flag of Kuwait.svg کویت
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
Flag of Sudan.svg سوڈان
Flag of Algeria (bordered).svg الجزائر
قائدین
اسحاق رابن
موشے دایان
ایریل شیرون
عبدالحکیم عامر
عبدالمنیم ریاض
زید ابن شاکر
حافظ الاسد
قوت
2 لاکھ 64 ہزار، 197 لڑاکا طیارے مصر ایک لاکھ 50 ہزار، شام 75 ہزار، اردن 55 ہزار، سعودی عرب 20 ہزار؛ 812 لڑاکا طیارے
نقصانات
779 ہلاکتیں، 2563 زخمی، 15 قیدی 21 ہزار ہلاکتیں، 45 ہزار زخمی، 6 ہزار قیدی، 400 سے زائد طیارے تباہ

6 روزہ جنگ (عربی: حرب الأيام الستة ) جسے عرب اسرائیل جنگ 1967ء، تیسری عرب اسرائیل جنگ اور جنگ جون بھی کہا جاتا ہے مصر، عراق، اردن اور شام کے اتحاد اور اسرائیل کے درمیان لڑی گئی جس میں اسرائیل نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔

پس منظر[ترمیم]

عرب اسرائیل تنازع
عرب اسرائیل جنگ 1948سوئز بحران6 روزہ جنگجنگ استنزافجنگ یوم کپورجنوبی لبنان تنازعہ 1978جنگ لبنان 1982جنوبی لبنان تنازعہ 1982-2000انتفاضہ اولجنگ خلیجالاقصی انتفاضہ2006 اسرائیل لبنان تنازعہ

مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی جانب سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سب سے نمایاں مثال یمن کی ہے۔ یہاں انہوں نے پہلے تو یمنی حریت پسندوں کے ایک گروہ سے سازش کرکے ستمبر 1965ء میں امام یمن کا تختہ الٹ دیا اور جب اس کے نتیجے میں شاہ پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ چھڑگئی تو صدر ناصر نے اپنے حامیوں کی مدد کے لئے وسیع پیمانے پر فوج اور اسلحہ یمن بھیجنا شرع کردیا اور چند ماہ کے اندر یمن میں مصری فوجوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ بلاشبہ صدر ناصر کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے عرب کے ایک انتہائی پسماندہ ملک یمن میں بادشاہت کا قدیم اور فرسودہ نظام ختم ہوگیا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈال دی گئی لیکن یہ اقدام خود مصر کے لئے تباہ کن ثابت ہوا۔ہمیشہ کی طرح یہاں بھی جمہوریت نے تباہی پھیلانا شروع کر دی 

صدر ناصر کی غلط فہمی[ترمیم]

صدر ناصر یمن کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ اسرائیل کے مقابلے میں روس پر مکمل بھروسہ کرسکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے لئے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ اقوام متحدہ کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور آبنائے عقبہ کو جہاز رانی کے لئے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔

واقعات جنگ[ترمیم]

جزیرہ نما سینا پر اسرائیلی قبضہ 1967ء


اسرائیل نے جو جنگ کے لئے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسہ تھا مصر کی کمزوری کا اندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑہ ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کرلیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہوگیا۔

ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ سعودی عرب اور اردن سے مفاہمت پیدا کی اور شاہ فیصل سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔

اسرائیل کا امریکی بحری جہاز پر حملہ[ترمیم]

مصری سمندر کے قریب اسرائیلی جہازوں نے امریکی بحریہ کے جہاز لبرٹی پر حملہ کیا، جس میں 34 امریکی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل اور امریکہ نے بعد میں اسے غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا مگر اس کی امریکہ نے باقاعدہ تحقیقات سے گریز کیا۔ بعض محققین نے دعوٰی کیا ہے کہ حملہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔ ارادہ یہ تھا کہ جہاز ڈوبنے کے بعد ملبہ مصر پر ڈال کر امریکہ کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹ لیا جائے۔ مگر جہاز ڈوبا نہیں اور اس لیے مصر پر الزام نہیں لگایا جا سکا۔[1]

پاک فضائیہ[ترمیم]

پاک فضائیہ پر مضمون کے لئے دیکھئے پاک فضائیہ

6 روزہ جنگ میں پاک فضائیہ کے ہوا بازوں (پائلٹوں) نے بھی حصہ لیا [2]۔ پاکستانی ہوا باز اردن، مصر اور عراق کی فضائیہ کی جانب سے لڑے اور اسرائیلی فضائیہ کے 3 جہازوں کو مار گرایا جبکہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کی پیش قدمی رکنے کی سب سے بڑی وجہ جنگ   میں پاک فوج کی شمولیت تھی گو کہ پاکستان کی صرف فضائیہ نے حصہ لیا تھا

نتائج[ترمیم]

لائف میگزین کا سرورق، ایک اسرائیلی فوجی (بعد ازاں میجر یوسی بن حنان) نہر سوئز پر اسرائیلی قبضے کے بعد، ہاتھ میں کلاشنکوف جو کسی عربی سپاہی سے چھینی گئی ہے

اس جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زحمی اور 6 ہزار قیدی بنالئے گئے جبکہ اندازا 400 سے زائد طیارے تباہ ہوئے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے 779 فوجی مارے گئےجبکہ 2563 زخمی اور 15 قیدی بنالئے گئے۔

جون 1967ء کی جنگ میں شکست کے نتیجے میں غزہ (فلسطین) اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، نہر سوئز بند ہوگئی اور مصر جزیرہ نمائے سینا کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ان کا استعفی واپس لینے کے لئے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔

مصر کو معاشی نقصانات[ترمیم]

1967ء کی جنگ نے مصر کی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ مصر کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ نہر سوئز تھی جس کی وجہ سے مصر کو ہر سال ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ نہر کے مشرقی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ ہوجانے کے بعد نہر سوئز میں جہاز رانی بند ہوگئی۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ مصر کو اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے سرمائے کی ضرورت تھی نہر سوئز کی آمدنی کا بند ہونا بڑا تباہ کن ثابت ہوتا لیکن سعودی عرب، کویت اور لیبیا آڑے آئے اور تینوں نے مل کر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد فراہم کرکے نہر سوئز کی بندش سے ہونے والے نقصان کی تلافی کردی۔

جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔

مغربی زرائع ابلاغ[ترمیم]

اگرچہ جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا تھا، مگر دوسرے دن یورپ کی کئی معزز اخبارات نے چیختی ہوئی سرخیاں لگائیں جس میں عربوں کو جارح بتایا گیا تھا۔میڈیا پر کنٹرول کا فائدہ ہمیشہ کی طرح مغرب نے اٹھایا[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ بی بی سی، 8 جون 2007ء Why did Israel attack USS Liberty‭?‬
  2. ^ اسکریمبل ڈاٹ این ایل
  3. ^ انڈیپنڈنٹ، برطانیہ، 9 جون 2007ء Robert Fisk: Lies and outrages... would you believe it‭?‬