Ahlesunet

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

What is sofism ردعملِ دنیا پرستی حضرت عمر کے زمانے سے تیزرفتاری سے وسعت اختیار کرنے والی اسلامی حکومت میں نومسلمین (غیرعرب) کی کثیر تعداد شامل ہوتی جارہی تھی جس بارے میں صحابہ اور علماء ہمیشہ فکرمند بھی رہتے تھے کہ اچانک اسلام سے آشنا ہونے والے نومسلمین کی تربیت کا مقصد کس طرح حاصل کیا جاۓ کہ اسلامی افکار میں ان علاقوں کے قبل از اسلام کے افکار شامل نا ہونے پائیں جو نۓ فتح ہوۓ تھے۔ 661ء میں حضرت علی کی شہادت کے بعد، امت کے افکار میں افتراق وسیع ہونے لگے۔ خلافت راشدہ کے بعد آنے والے حکمران اپنے پیشروؤں جیسی اسلامی حکومت کی مثال قائم نا رکھ سکے اور متعدد علماء ان سے بدظن ہونے لگے۔ یہ علماء ، مسلمانوں میں آنے والی دولت و آسائش طلب زندگی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور ابتدائی اسلام کی سادہ گذربسر کی تعلیمات پر زور دیتے تھے؛ ان میں حسن البصری[8] اور ابو ھاشم جیسے علماء شامل ہیں اور علماء کی دنیاداری سے دور رہتے ہوۓ زاہدانہ زندگی کا اختیار کرنا آگے چل کر تصوف کی صورت میں نمو پایا؛ ابو ھاشم کو وہ پہلا شخص کہا جاتا ہے کہ جن کو ان کے بعد آنے والوں نے صوفی کا لقب دیا[9]۔ 2

لفظ، تصوف تو اصل میں خود اس پر عمل کرنے والے (یعنی صوفی) کے نام سے مشتق ہے، گویا صوفی کا لفظ تصوف سے قدیم ہے[12]۔ رہی بات تصوف کی تعریف کی، تو مختلف نقطہ ہاۓ نظر رکھنے والے افراد کی جانب سے تصوف کی مختلف تعریفیں بیان کی جاتی ہیں۔ سیدھے سادھے لفاظ میں تو تصوف کی تعریف یوں بیان کرسکتے ہیں کہ تصوف ، اس طریقۂ کار کو کہا جاتا ہے کہ جس پر صوفی عمل پیرا ہوتے ہیں۔ 3 جبکہ خود صوفیا، تصوف کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں کہ؛ تصوف ، اسلام کی ایک ایسی شاخ ہے کہ جس میں روحانی نشونما پر توجہ دی جاتی ہے[13]۔ صوفیا، تصوف کی متعدد جہتوں میں؛ اللہ کی ذات کا شعور حاصل کرنا، روحانی کیفیات اور ذکر (رسماً و جسماً) اور شریعت بیان کرتے ہیں۔ 4 ایک اور دیوبندی عالم قاری محمد طیب کے الفاظ میں؛ مذہبی طور پر علماۓ دیوبند مسلم ہیں، تفرقاتی طور پر یہ اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں، بطور مقلد یہ حنفی ہیں، طریقت میں صوفی ہیں، مدرسی طور پر یہ ماتریدی اور سلوک میں چشتی ہیں[15]۔

5 • برصغیر میں دیوبندیوں کے ساتھ ساتھ بریلوی بھی تصوف میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور اس فرقے کے بانی احمد رضا خان کو، قادریہ سمیت تصوف کے تیرہ دیگر فرقہ جات کی جانب سے خلافت حاصل تھی[16]۔ یہاں ایک دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے تصوف پر عمل پیرا دونوں (بریلوی اور دیوبندی) امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں اور تصوف میں بلند درجے پر تسلیم کیۓ جانے والے ایک صوفی جلال الدین رومی نے خود اس بات کا تذکرہ کیا کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں[17]۔ 6 زمانۂ جاہلیت میں ’’صوفہ ‘‘ نام سے ایک قوم تھی اس قوم کے خانہ کعبہ کے مجاور تھے اور جن لوگوں نے ان سے مشابہت اختیار کی وہ صوفیہ کہلائے۔ گو عربی قواعد کی رو سے لفظ ’’صوفہ‘‘ سے ’’صوفی ‘‘ نہیں بلکہ ’’صوفانی‘‘ بنتا ہے لیکن بعض ماہرین اس اشتقاق کو درست مانتے ہیں اور اس سلسلہ میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر ’’کوفہ‘‘ سے’’کوفانی‘‘ کے بجاۓ ’’کوفی‘‘ بن سکتا ہے تو ’’صوفہ‘‘ سے’’صوفی‘‘ کا اشتقاق بھی ممکن ہے[21]۔ اس دلیل کے باوجود اس اصل الکلمہ کے خلاف متعدد دیگر وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں[23]

7 صوفیا کے نزدیک اسلامی علوم کی دو قسمیں ہیں ایک ظاہری اور دوسری باطنی[14]۔ ظاہری علوم سے مراد شریعت ہے، جو عوام کے لیے ہے۔ اور باطنی علم وہ ہے جو ان کے کہنے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند صحابہ حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت علی ، اور حضرت ابوذر کو تعلیم کیا۔ حضرت ابوبکر سے حضرت سلیمان فارسی اور حضرت علی سے حضرت حسن بصری فیضیاب ہوئے۔ صوفیا کے نزدیک تصوف کے چاردرجے ہیں۔ • شریعت • طریقت • حقیقت • معرفت