Atracurium
یہ عارضی طور پر مفلوج کرنے والی دوا ہے یعنی muscle relaxant ہے۔ ان دواؤں کا اثر NMJ) neuro muscular junction) پر ہوتا ہے جہاں یہ دماغ سے آنے والے احکامات کو عضلات muscle تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ یہ دوائیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔
|
Atracurium
|
|
| نظامی (آئیوپی ایسی) نـام | |
| 2,2'-{1,5-Pentanediylbis[oxy(3-oxo-3,1-
propanediyl)]}bis[1-(3,4-dimethoxybenzyl) -6,7-dimethoxy-2-methyl-1,2,3,4- tetrahydroisoquinolinium] |
|
| شناختساز | |
| کـاس عدد | |
| تمک رمز | M03 |
| پبکیم | |
| مصرف ادویہ | |
| کیمیائی معطیات | |
| صیغہ | C53H72N2O12+2
|
| سالمی کمیت | 929.145 g/mol |
| معطیات ادویاتی نقلیات | |
| حیوی فراہمی | 100% (IV) |
| Protein binding | 82% |
| استقلاب | Hoffman elimination (retro-Michael addition) and ester hydrolysis |
| نصف حیات | 17-21 minutes |
| اخراج | ? |
| معالجاتی غور و تفکر | |
| زمرۂ حمل |
? |
| قانونی حیثیت |
POM (UK)and worldwide |
| راستے | IV |
- Depolarizer ۔ یہ پہلے fasciculation کرتی ہیں پھر paralysis ۔ مثلاً suxamethonium ان کو reverse نہیں کرنا پڑتا۔
- Non depolarizer ۔ یہ fasciculation کے بغیر ہی paralysis کرتی ہیں مثلاً Tubocurarine , Atracurium, Pancuronium, Gallamine وغیرہ۔
atracurium کی ایجاد 1974 میں ہوئی تھی۔ یہ دوائیں بے ہوشی اور ICU کے علاوہ کہیں اور استعمال نہیں ہوتیں۔ اس دوا کے لگتے ہی مریض کے سارے straited muscles فالج زدہ paralyse ہو جاتے ہیں۔ البتہ دل دھڑکتا رہتا ہے۔ اسی طرح آنتوں، مثانے، رحم uterus اور آنکھوں کی پتلی pupils کی حرکت جاری رہتی ہے کیونکہ یہ smooth muscles سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ دوا لگتے ہی مریض کو مصنوعی سانس دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ ویسے تو مصنوعی سانس Face mask کے ذریعے بھی دیا جاسکتا ہے مگر endotracheal tube کا استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے اس لئے anesthesia اورICU میں یہ ہی طریقہ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
Atrecurium کا عام طور پر ڈوز 0.5mg/kg ہوتا ہے جس کا اثر تقریباً 25-35 منٹ تک رہتا ہے اس کے استعمال سے پیٹ کے عضلات بھی ڈھیلے ہو جاتے ہیں اس طرح سرجن کو پیٹ کے اندر آپریشن میں آسانی ہوتی ہے۔ سرجری کے اختتام پر atracurium کا اثر ختم کرنے کے لیے neostigmine لگائی جاتی ہے (atropine کے ساتھ ) ۔ اس طریقہ کو عام طور پر reversal کہتے ہیں۔
atracurium لگانے سے جسم کے اندر histamine خارج ہوتی ہے اس لیے دمہ اور الرجی کے مریضوں میں اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ Atracurium گردوں یا جگر Liver سے خارج نہیں ہوتی بلکہ بغیر کسی انزائم کے Hoffmann degradation کے عمل سے ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ اس لیے جگر اور گردوں کے مریضوں میں بھی باآسانی استعمال کی جا سکتی ہے۔