دالہ (ریاضیات)
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
دالہ |
function |
ریاضیات میں دالہ یہ تصور ہے کہ ایک قدر (دالہ کا استدلال، یا ادخال) سے دوسری قدر (دالہ کا اخراج، یا قدر) مکمل طور پر معلوم ہو جاتی ہے۔ دالہ ہر ادخال کو صرف ایک اخراج قدر تفویض کرتی ہے۔ استدلال اور دالہ کی قدر حقیقی عدد ہو سکتے ہیں یا کسی مجموعہ کے ارکان۔ حقیقی عدد کی صورت میں اکثر اوقات دالہ کا کلیہ لکھا جا سکتا ہے، اور اس کے مخطط کی کارتیسی متناسق میں خاکہ کشی کی جا سکتی ہے۔ تصویر میں دالہ f کا کلیہ 
ہے، جہاں x افقی محور پر ہے، اور y عمودی محور پر۔ اس دالہ کے لیے استدلال x کوئی بھی حقیقی عدد ہو سکتا ہے۔ تصویر سے ظاہر ہے کہ اس دالہ کا اخراج y غیر منفی حقیقی عدد ہوتا ہے۔
فہرست |
[ترمیم] ریاضیاتی تعریف
|
رسمی تعریف: ریاضیات میں دالہ f ایک قاعدہ ہے جو مجموعہ X کے ہر رکن x کو مجموعہ Y کا صرف ایک رکن f(x) تفویض کرتا ہے۔
تصویر سے ظاہر ہے کہ X کے ایک سے زیادہ ارکان کو Y کا ایک ہی رکن تفویض کیا جا سکتا ہے (مگر X کے ایک رکن کو Y کے دو ارکان تفویض کرنے کی اجازت نہیں)۔ مجموعہ X کو دالہ کا ساحہ کہا جاتا ہے۔ مجموعہ Y کے رکن f(x) کو دالہ f کی x پر قدر بولتے ہیں۔ رکن x کو دالہ f کا استدلال کہا جاتا ہے۔ ساحہ پر x کی تمام اقدار پر دالہ f سے ملنے والی مجموعہ Y پر تمام اقدار f(x) کو دالہ کا حیطہ کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ عام طور پر دالہ کا حیطہ، مجموعہ Y کا ذیلی مجموعہ ہو گا۔ علامتی طور پر لکھتے ہیں
یعنی f دالہ X کو Y میں لے جاتا ہے، اور
x کو f(x) نقش کرتا ہے۔
[ترمیم] جائزہ
دالہ کا علم میں کثرت استعمال کی وجہ سے کچھ رواج راہ پا گئے ہیں۔ دالہ کے ادخال کی علامت کو اکثر"ناتابع متغیر" یا استدلال کہتے ہیں، اور حرف x کی علامت سے لکھتے ہیں، یا اگر وقت کا دالہ ہو، تو حرف t کی علامت۔ اخراج کی علامت کو "تابع متغیر" یا "دالہ کی قدر" کہتے ہیں، اور اکثر حرف y کی علامت سے لکھتے ہیں۔ دالہ خود کو عموماً f کہتے ہیں، اور اسطرح علامت y=f(x) سے مراد ہے کہ دالہ f کی ادخال کا نام x ہے، اور اخراج y نامی ہے۔
دالہ کو آلہ کے طور پر دیکھنا مفید رہتا ہے۔ آلہ میں x داخل ہو، تو آلہ اسے بطور ادخال منظور کرے گا، اور دالہ f کے قاعدہ کے مطابق f(x) پیدا کرے گا، جو آلہ میں سے اخراج ہو گا۔ اس لیے ہم تخیل کر سکتے ہیں کہ ساحہ تمام ممکنہ ادخال ہیں، اور حیطہ تمام ممکنہ اخراج۔
عام زندگی میں بیشتر اوقات دالہ کا ساحہ اور حیطہ اعداد کا ذیلی مجموعہ ہوتے ہیں، اور اکثر حقیقی اعداد۔ اس صورت میں دالہ کا مخطط بنا کر تصور کرنا آسان رہتا ہے۔
[ترمیم] دالہات کی ترکیب
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
سِرک |
shift |
دو دالہات کی ترکیب سے نئی دالہ وجود میں آ سکتی ہے جسے ترکیب دالہ کہیں گے۔ دو دالہ f اور g ہوں، ہم f کے ساحہ میں جُز x سے f کے حیطہ میں جُز y=f(x) تک پہنچتے ہیں۔ اب اگر جُز y دالہ g کے ساحہ میں ہو تو ہم اس پر دالہ g کے استعمال سے دالہ g کے حیطہ میں جُز z=g(y) تک پہنچتے ہیں۔ نتیجہ نئی دالہ h(x)=g(f(x)) ہے، جو دالہ f کو دالہ g میں ڈالنے سے بنی ہے۔ اسے f اور g کی ترکیب کہتے ہیں اور
لکھتے ہیں۔ دالہ f کے ساحہ کو X ، دالہ f کے حیط اور دالہ g کے ساحہ کو Y ، اور دالہ g کے حیطہ کو Z، کہتے ہوئے ہم علامتی طور پر یوں لکھ سکتے ہیں:
خیال رہے کہ ترکیبِ دالہ
میں ترتیب اہم ہے، پہلے دالہ f استعمال ہوئی اور اس کے اخراج پر دالہ g استعمال کی گئی۔ آلاتی طور پر ترکیب کو تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ دالہ
کا ساحہ وہ تمام
ہیں جن کے لیے y=f(x) دالہ g کے ساحہ میں ہیں۔ خیال رہے کہ عام طور پر 
[ترمیم] مقلوب دالہ
تعریف: کسی دالہ کو واحد الواحد دالہ کہا جائے گا اگر یہ کوئی قدر دو بار اختیار نہ کرے، یعنی
جب بھی
اگر دالہ کا ساحہ اور حیطہ حقیقی عدد ہوں، تو واحد الواحد دالہ افقی لکیر اختبار پر پورا اترے گی۔
اگر f واحد الواحد دالہ ہے جس کا ساحہ X اور حیطہ Y ہے، تو اس کی مقلوب دالہ
کا ساحہ Y اور حیطہ X ہو گا، اور درج ذیل خاصے سے تعریف ہو گی
کسی بھی
کے لیے۔ (یاد رہے کہ
سے مراد
ہرگز نہیں۔
کے لیے
کی علامت استعمال ہوتی ہے۔)
[ترمیم] شناخت دالہ
ایسی دالہ جو مجموعہ X کے رکن x کو x ہی تفویض کرے کو شناخت دالہ کہتے ہیں، اور عموماً
لکھتے ہیں:
واحد الواحد دالہ f جس کا ساحہ X ہو، کے لیے
[ترمیم] دالہ کا استحالہ
اگر دالہ کا ساحہ اور حیطہ دونوں حقیقی اعداد ہوں، یعنی
، تو پھر دالہ کا مخطط بنایا جا سکتا ہے اور اس کی استحالہ خصوصیت پڑھی جا سکتی ہیں۔ ذیل میں c حقیقی عدد ہے:
[ترمیم] افقی سرکنا
- اگر
c>0ہو، تو دالہf(x-c)، دالہf(x)کی دائیں سرکی صورت ہے۔ - اگر
c>0ہو، تو دالہf(x+c)، دالہf(x)کی بائیں سرکی صورت ہے۔
[ترمیم] منعکس
- دالہ
f(x)کو عمودی دھرا کے حوالہ سے منعکس کرنے سے دالہf(-x)بنتا ہے۔
[ترمیم] کھینچنا اور دابنا
- اگر
c>1ہو، تو دالہf(cx)، دالہf(x)کی اُفقی دابی صورت ہے۔ - اگر
c>1ہو، تو دالہ
، دالہ f(x)کی اُفقی کھینچی صورت ہے۔
E=mc2 اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے ریاضی علامات
![\begin{align}&\scriptstyle f \colon [-1,1.5] \to [-1,1.5] \\ &\textstyle x \mapsto \frac{(4x^3-6x^2+1)\sqrt{x+1}}{3-x}\end{align}](http://upload.wikimedia.org/wikipedia/ur/math/5/5/e/55ecbb104124c17699f758a715f2b6a5.png)



جب بھی



، دالہ