گروہ (ریاضی)
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
گروہ |
group |
گروہ عناصر کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے، جس میں ایک عالج متعرف ہوتا ہے، کہ کسی بھی دو عناصر کو عالج سے گزار کر اسی مجموعہ کا عنصر حاصل ہوتا ہے۔ گروہ کے لیے کچھ مسلمات پورے ہونا ضروری ہوتا ہے، جو مشارکی، شناخت عنصر، اور اُلٹ عنصر کے متعلق ہوتے ہیں۔ صحیح اعداد کا مجموعہ، جمع کے عالج کے ساتھ، ایک گروہ ہے، کہ کسی بھی دو اعداد کو جمع کر کے صحیح عدد ملتا ہے، صفر (شناخت عنصر) کو کسی بھی عدد میں جمع کرنے سے اس عدد میں کوئ تبدیلی نہیں ہوتی، کسی عدد کے منفی (اُلٹ عنصر) کو اس میں جمع کرنے سے صفر ملتا ہے، اور جمع مشارکی خصوصیت رکھتی ہے۔
تعریف: عناصر کا غیرخالی مجموعہ G ایک ثنائ عالج
کے ساتھ، گروہ کہلاتا ہے اگر نیچے دی شرائط پوری ہوں:
- اگر
اور
، تو پھر 
- مجموعہ میں ایسا عنصر I ہو کہ تمام
کے لیے
عنصر I کو شناخت عنصر کہتے ہیں۔
- ہر عنصر
کے لیے، ایسا عنصر
موجود ہو (جسے a کا اُلٹ کہتے ہیں)، کہ
- مجموعہ G میں عناصر a، b، c، کے لیے مشارکی خصوصیت پوری ہو
فہرست |
متناظر گروہ (تبدل کامل) [ترمیم]
- تفصیلی مضمون: تبدل کامل گروہ
اعداد کے مجموعہ
کے کسی خاص تبدل کامل کو ایک دالہ کے زریعہ لکھا جا سکتا ہے، یعنی
| 1 | 2 | 3 | .... | n |
| f(1) | f(2) | f(3) | .... | f(n) |
مثلاً n=4 کے لیے یہ ہو سکتی ہے
| 1 | 2 | 3 | 4 |
| 4 | 2 | 1 | 3 |
اگر f(.) اور g(.) کوئ دو دالہ تبدل کامل ہوں اعداد
پر، تو ان دالہ کی ترکیب
بھی ان اعداد کی تبدل کامل ہو گی۔ اسطرح گروہ کا پہلا مسلمہ پورا ہوتا ہے، عناصر f اور g کے لیے۔
شناخت عنصر کے لیے ہم دالہ تعریف کرتے ہیں
، یعنی:
| 1 | 2 | 3 | .... | n |
| 1 | 2 | 3 | .... | n |
اور یہ دوسرے مسلمہ پر پوری اترتی ہے۔
اگر دالہ f(.) کوئ خاص تبدل کامل تعریف کرتی ہے
| 1 | 2 | 3 | .... | n |
| f(1) | f(2) | f(3) | .... | f(n) |
تو یہ تبدل کامل
| f(1) | f(2) | f(3) | .... | f(n) |
| 1 | 2 | 3 | .... | n |
اس کا اُلٹ ہے، اور اسے
کہہ سکتے ہیں،
یعنی تیسرا مسلمہ پورا ہوتا ہے۔
اگر g، f، اور h ، کوئ تبدل کامل دالہ ہوں، تو چوتھا مسلمہ بھی پورا ہونے کی تصدیق کی جا سکتی ہے
پس ثابت ہوا کہ مجموعہ
کے تمام تبدلکامل ایک گروہ بناتے ہیں۔ خیال رہے کہ ان تبادلکامل کی تعداد
ہے، یعنی اس گروہ کے عناصر کی تعداد
ہے۔ اس گروہ کی اہمیت نیچے دیے "متشاکل کیلے مسلئہ اثباتی" کی بدولت ہے۔ اس گروہ کو متناظر گروہ کہا جاتا ہے، اور
کی علامت سے لکھا جاتا ہے۔
خوائص [ترمیم]
گروہ کے عناصر a، b، کے لیے
- (r دفعہ)




مبدلی گروہ [ترمیم]
گروہ کو ایبلین (Abelian) یا مبدلی گروہ کہیں گے اگر مبدلی کی خصوصیت موجود ہو:
تمام عناصر
کے لیے۔
مثال کے طور پر صحیح اعداد کا گروہ، جمع عالج، اور صفر شناخت، کے ساتھ مبدلی ہے۔
تبدل کامل کی دالہ f یوں تعریف کرو
| 1 | 2 | 3 | 4 |
![]() |
f | ||
| 4 | 2 | 1 | 3 |
تبدل کامل کی دالہ g یوں تعریف کرو
| 1 | 2 | 3 | 4 |
![]() |
g | ||
| 3 | 1 | 2 | 4 |
اب واضح ہے کہ
اور
اسلیے
اور تبدل کامل کا گروہ مبدلی نہیں۔
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
ذیلی گروہ |
subgroup |
ذیلی گروہ [ترمیم]
اگر مجموعہ G کے عناصر عالجہ
کے لحاظ سے گروہ بنائیں، اور مجموعہ G کا ذیلی مجموعہ H ہو، اسطرح کہ H کے عناصر بھی عالجہ
کے لحاظ سے گروہ بنائیں، تو ہم کہیں گے کہ H ذیلی گروہ ہے گروہ G کا۔ غیرخالی ذیلی مجموعہ H ذیلیگروہ ہو گا اگر نیچے دی شرائط پوری ہوں:
- اگر
، تو 
- اگر
اور
، تو 
قضیہ [ترمیم]
اگر G متناہی گروہ ہو، تو "G کا غیرخالی ذیلی مجموعہ H ذیلیگروہ ہو گا، اگر
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
متشاکل |
isomorphic |
متشاکل [ترمیم]
دو گروہوں G اور H کو متشاکل کہیں گے اگر ان کے عناصر کے درمیان ارتباط واحد الواحد قائم کیا جا سکے اسطرح کہ یہ ارتباط عناصر کے عالجہ سے گزارنے کے بعد بھی قائم رہے۔ اگر
اور
، تو ان عناصر کے درمیان ارتباط کو
لکھا جاتا ہے۔ اب اگر
اور
، تو متشاکل کی شرط ہے کہ
دوسرے الفاظ میں گروہ G اور H دراصل ایک ہی ہیں، صرف ان کے عناصر کے نام مختلف رکھے ہوئے ہیں۔
مسلئہ اثباتی [ترمیم]
ہر متناہی G گروہ متشاکل ہو گا تبدلکامل کے کسی ذیلیگروہ کے۔
یہ مسلئہ کیلے گروہ متشاکل ملسئہ اثباتی کہلاتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ تبدلکامل کا ذیلیگروہ کیسا ہو گا، G کے عناصر کا
نام رکھ دو۔ عنصر k کے ہمشکل تبدلکامل دالہ
یوں تعریف کرو
تبدلکامل کا یہ گروہ
ہو گا، اور
، یعنی
اور
کی ترکیب۔
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
رُتبہ |
order |
رُتبہ اور دَوری گروہ [ترمیم]
کسی گروہ میں عناصر کی تعداد کو اس گروہ کا رتبہ کہا جاتا ہے۔ اگر g عنصر ہو گروہ G کا (
)، تو
گروہ G کا ذیلی گروہ ہو گا۔ اگر r چھوٹا ترین صحیح عدد ہو جس کے لیے
(جہاں I شناخت عنصر ہے) تو یہ ذیلیگروہ
ہو گا، اور اس گروہ کو g سے تولید شدہ دوری ذیلیگروہ کہا جاتا ہے۔ اس دوری ذیلیگروہ میں عناصر کی تعداد r ہے، اور اس گروہ کا رتبہ r ہے۔ چونکہ یہ گروہ عنصر g سے تولید شدہ ہے، اس لیے r کو عنصر g کا رتبہ بھی کہا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ اُوپر
مثال [ترمیم]
مجموعہ
کی چھ تبدلکامل ہیں:
| f1=I | 1, 2, 3 |
| f2 | 1, 3, 2 |
| f3 | 2, 1, 3 |
| f4 | 2, 3, 1 |
| f5 | 3, 1, 2 |
| f6 | 3, 2, 1 |
جو گروہ
بناتی ہیں۔ عنصر
یہ دوری ذیلیگروہ
تولید کرتا ہے، اور عنصر
کا رتبہ 3 ہے۔
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
ہممجموعہ |
coset |
coset [ترمیم]
گروہ G کا ذیلیگروہ H ہو۔ G کے کسی عنصر g کے لیے، مجموعہ تعریف کرو
مجموعہ
کو گروہ G کا ایک بائیں ہممجموعہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح
کو گروہ G کا ایک "دائیں ہممجموعہ" کہا جاتا ہے۔
معمول ذیلی گروہ [ترمیم]
گروہ G کے ذیلیگروہ H کو معمول ذیلیگروہ کہا جائے گا اگر کسی بھی
کے لیے
قضیہ [ترمیم]
اگر متناہی گروہ G کا ذیلیگروہ H ہو، تو تمام
کے لیے
جہاں علامت
سے مراد مجموعہ S میں عناصر کی تعداد ہے۔
قضیہ [ترمیم]
اگر متناہی گروہ G کا ذیلیگروہ H ہو، تو ہممجموعہ
اور ہممجموعہ
یا تو برابر (identical) ہیں یا بےجوڑ ہیں۔
مسلئہ اثباتی [ترمیم]
اگر متناہی گروہ G کا ذیلیگروہ H ہو، تو صحیح عدد
کو صحیح عدد
(پورا) تقسیم کرتا ہے۔ یعنی ذیلیگروہ H کا مرتبہ تقسیم کرتا ہے گروہ G کے مرتبہ کو۔ اسے لاگرانج مسلئہ اثباتی کہتے ہیں۔
- اگر G متناہی گروہ ہو جس کا مرتبہ n ہو، تو اس گروہ کے کسی بھی عنصر
کے لیے 
- اگر G متناہی گروہ ہو جس کا مرتبہ n ہو، اور n مفرد عدد ہو، تو گروہ G دَوری ہو گا، اور نتیجتاً مبدلی۔
اور دیکھو [ترمیم]
E=mc2 اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے ریاضی علامات
اور
، تو پھر 

موجود ہو (جسے a کا اُلٹ کہتے ہیں)، کہ










، تو 
، تو 








