آیوڈین (Iodine) ایک کیمیائی عنصر ہے جو دوری جدول (Periodic table) میں ہیلوجن گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسکا ایٹمی نمبر 53 ہے یعنی اس کے ہر ایٹم میں 53 پروٹون ہوتے ہیں۔ آیوڈین کا صرف ایک ہی ہمجاء (isotope) پائیدار ہوتا ہے اور وہ 74 نیوٹرون کے ساتھ آیوڈین127 ہے۔
گیس کی حالت میں آیوڈین کا رنگ جامنی ہوتا ہے۔.
آیوڈین کی کمی سے گلہڑ (goitre) کی بیماری ہو جاتی ہے۔
آیوڈین ایک ٹھوس عنصر ہے۔ گیس کی حالت میں آیوڈین کا رنگ جامنی ہوتا ہے۔ گندھک کی طرح آیوڈین بھی غیر دھاتی عنصر ہے۔
|
|
| اظہار |
lustrous metallic gray, violet as a gas
 |
| عمومی خصوصیات |
| نام ، علامت ، عدد |
آیوڈین ، I ، 53 |
| عنصری زمرہ |
halogen |
| گروہ ، دور ، احصار |
17, 5 p |
| معیاری جوہری کمیت |
126.90447 گ/مول |
| برقی تشکیل |
[Kr] 4d10 5s2 5p5 |
| برقات فی خول |
2, 8, 18, 18, 7 (Image) |
| طبعی خصوصیات |
| حالت |
ٹھوس |
| کثافت (قریباً د ح ک) |
4.933 گ/سم3 |
| نقطۂ پگھلاؤ |
386.85 ک، 113.7 °س، 236.66 °ف |
| نقطہ کھولاؤ |
457.4 ک، 184.3 °س، 363.7 °ف |
| نقطۂ ثلاثہ |
386.65 ک (113°س), 12.1 کلوپاسکل |
| Critical point |
819 ک, 11.7 میگاپاسکل |
| حرارت ائتلاف |
(I2) 15.52 کلوجول/مول |
| حرارت تبخیر |
(I2) 41.57 کلوجول/مول |
| حرارت اضافی |
(25 °س) (I2) 54.44 جول/(مول.کیلون) |
| بخاری دباؤ (rhombic) |
| P/Pa |
1 |
10 |
100 |
1 k |
10 k |
100 k |
| at T/K |
260 |
282 |
309 |
342 |
381 |
457 |
|
| جوہری خصوصیات |
| تکسیدی حالتیں |
7, 5, 3, 1, -1
(strongly acidic oxide) |
| برقی منفیت |
2.66 (Pauling scale) |
| آئنسازی توانائیاں |
پہلی: 1008.4 کلوجول/مول |
| دوسری: 1845.9 کلوجول/مول |
| تیسری: 3180 کلوجول/مول |
| جوہری رداس |
140 پیکومیٹر |
| کوویلینٹ رداس |
139±3 پیکومیٹر |
| وانڈروال رداس |
198 پیکومیٹر |
| متفرق |
| قلمی ساخت |
orthorhombic |
| مقناطیسی ترتیب |
diamagnetic[1] |
| برقی مزاحمیت |
(0 °C) 1.3×107Ω·m |
| حر ایصالیت |
(300 ک) 0.449 واٹ/(میٹر.کیلون) |
| جثہ مطبقی |
7.7 GPa |
| کاس عدد |
7553-56-2 |
| مستحکم ہمجاء |
| اصل مقالہ: آیوڈین کے ہمجاء |
|
|
|
|
حیاتیاتی استعمال [ترمیم]
- آیوڈین انسان اور اکثر جانوروں کے لیئے خوراک کا لازمی جز ہے کیونکہ یہ thyroid کے ہارمون thyroxine کا مرکزی حصہ ہے۔ اسکی کمی سے گلہڑ (goitre) کی بیماری ہو جاتی ہے جس میں دماغ اور جسم سست ہو جاتا ہے۔ روزانہ چند چمچ سمندر کا پانی پینے سے جسم میں آیوڈین کی کمی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ سمندری پانی میں آیوڈین کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ آیوڈین ملا نمک اسی بیماری کو روکنے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ایک چائے کے چمچ بھر نمک میں 0.4 ملی گرام آیوڈین ہوتی ہے۔
- انسانی جسم میں پایا جانے والا یہ بھاری ترین عنصر ہے۔ انسانی جسم میں 20 سے 30 ملی گرام آیوڈین ہوتی ہے۔ انسان کو ایک سال میں صرف 50 ملی گرام آیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ آیوڈین کی زیادتی بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔
- سارے بھاری عنصر ایکس رے جذب کرتے ہیں۔ آیوڈین بھی ان میں سے ایک ہے۔ اگر ایکسرے کرنے سے پہلے آیوڈین کا کوئی نامیاتی مرکب انجکشن کے ذریعہ جسم میں داخل کر دیا جائے تو گردوں کی بڑی واضح تصاویر حاصل ہوتی ہیں اور یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کونسا گردہ کام نہیں کر رہا ہے۔
- آیوڈین کے مرکبات طاقتور تکسیدی عامل ہوتے ہیں اور جراثیموں کی تکسید کر کے انہیں مار ڈالتے ہیں۔ اس وجہ سے ہسپتالوں اور کلنک میں اسکے مرکبات (مثلاً پائیوڈین) بطور جراثیم کش اور ضد عفونت کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔ محلول کی حالت میں آیوڈین کا رنگ بھورا ہوتا ہے۔
- اگر کسی کو thyroid کا سرطان (کینسر) ہو جائے تو علاج کے لیئے اسے آیوڈین131 ملا پانی پلاتے ہیں۔ یہ آیوڈین قدرتی طور پر نہیں پائی جاتی اور نیوکلیئر ری ایکٹر میں قدرتی آیوڈین پر نیوٹرون کی بمباری کر کے حاصل کی جاتی ہے۔ اسکی نصف حیات صرف آٹھ دن ہوتی ہے۔ انسانی جسم میں داخل ہونے والی ہر آیوڈین thyroid گلینڈ میں مرتکز ہوتی ہے۔ یہ چونکہ تابکار ہوتی ہے اس لیئے thyroid کے کینسر کو جلا دیتی ہے۔
- ^ Magnetic susceptibility of the elements and inorganic compounds, in Handbook of Chemistry and Physics 81st edition, CRC press.