مستلف
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
بیان |
statement |
منطق میں مستلف ایسے بیان یا جملہ کو کہتے جو یا تو سچ ہو یا پھر جھوٹ ہو، مگر دونوں نہیں۔ مستلف کے لیے بیان کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال:
- "زمین سورج کے گرد گھومتی ہے" مستلف ہے جو کہ سچ ہے۔
- "2+2=6" مستلف ہے جو کہ جھوٹ ہے۔
- "آج کیا پکا ہے؟" مستلف نہیں ہے۔
مستلف کو ریاضی میں حروف کی علامت سے لکھا جاتا ہے، مثلاً p="آج جمعہ کا دن ہے"۔ مستلف کی "سچائی قدر" کو T لکھا جاتا ہے اگر مستلف سچ ہو، اور اسے F لکھا جاتا ہے اگر مستلف جھوٹ ہو ۔
| p | ![]() |
| T | F |
| F | T |
فہرست |
نفیت [ترمیم]
منطقی عالجہ کے استعمال سے مستلفات سے مرکب مستلف بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک ایسا عالجہ "منفی" ہے جسے
کی علامت سے ظاہر کرتے ہیں۔
- تعریف: اگر p ایک مستلف ہے، تو اس کی منفی مستلف p
یہ ہو گی: - "ایسا معاملہ نہیں ہے کہ p"
مستلف p
کو "نہیں p" پڑھا جاتا ہے۔ مثلاً p="آج جمعہ کا دن ہے"، تو p
="یہ معاملہ نہیں کہ آج جمعہ کا دن ہے" یا سادہ الفاظ میں p
="آج جمعہ کا دن نہیں"۔ سچائی جدول مستلفات کی سچائی قدر کے درمیان نسبت دکھاتا ہے۔ مثلاً مستلف اور اس کے منفی مستلف کا سچائی جدول یہ ہے۔
| p | q | ![]() |
| F | F | F |
| T | F | F |
| F | T | F |
| T | T | T |
آسانی کے لیے عام طور پر
کو "نہیں p " پڑھا جاتا ہے۔
انتطباق [ترمیم]
- تعریف:انتطباق: چلو p اور q دو مستلف ہوں۔ مستلف "p اور q" جسے
لکھا جاتا ہے، اس وقت سچ ہو گی جب دونوں p اور q سچ ہوں، ورنہ جھوٹ ہو گی۔ مرکب مستلف
کو مستلف p اور مستلف q کا انتطباق کہا جاتا ہے۔
مثلاً p="آج جمعہ کا دن ہے"، q="آج دوکان کھلی ہے"، تو
= آج جمعہ کا دن ہے اور آج دکان کھلی ہے"۔ انتطباق مستلف
جمعہ کے دن اور جب دوکان کھلی ہو سچ ہو گی۔ اگر دن جمعہ کا نہ ہو، یا دکان بند ہو تو انتطباق مستلف جھوٹ ہو گی۔
آسانی کے لیے عام طور پر
کو "p اور q" پڑھا جاتا ہے۔
| p | q | ![]() |
| F | F | F |
| T | F | T |
| F | T | T |
| T | T | T |
انفصال [ترمیم]
- تعریف:انفصال: چلو p اور q دو مستلف ہوں۔ مستلف "p یا q" جسے
لکھا جاتا ہے، اس وقت جھوٹ ہو گی جب دونوں p اور q جھوٹ ہوں، ورنہ سچ ہو گی۔ مرکب مستلف
کو مستلف p اور مستلف q کا انفصال کہا جاتا ہے۔
مثلاً p="آج جمعہ کا دن ہے"، q="آج دوکان کھلی ہے"، تو
= آج جمعہ کا دن ہے یا آج دکان کھلی ہے"۔ انفصال مستلف
جمعہ کے دن سچ ہو گی، اور ہفتے کے ہر دن جب دوکان کھلی ہو سچ ہو گی۔ اگر دن جمعہ کا نہ ہو اور دکان بند ہو تو انفصال مستلف جھوٹ ہو گی۔
آسانی کے لیے عام طور پر
کو "p یا q" پڑھا جاتا ہے۔
| p | q | ![]() |
| F | F | F |
| T | F | T |
| F | T | T |
| T | T | F |
استشنائی یا [ترمیم]
- تعریف:استشنائی یا : چلو p اور q دو مستلف ہوں۔ مستلف "p اشتشنائ یا q" جسے
لکھا جاتا ہے، اس وقت سچ ہو گی جب p اور q میں سے صرف ایک سچ ہو، ورنہ جھوٹ ہو گی۔ مرکب مستلف
کو مستلف p اور مستلف q کا استشنائی یا کہا جاتا ہے۔ اسے "استشنائی انفصال" بھی کہا جاتا ہے۔
مثلاً p="آج جمعہ کا دن ہے"، q="آج دوکان کھلی ہے"، تو
=یا تو آج جمعہ کا دن ہے یا پھر آج دکان کھلی ہے"۔ استشنائی مستلف
جمعہ کے دن سچ ہو گی اگر دوکان بند ہو، اور جمعہ کے علاوہ ہر دن جب دوکان کھلی ہو سچ ہو گی۔
| p | q | ![]() |
| F | F | T |
| T | F | F |
| F | T | T |
| T | T | T |
مقتض [ترمیم]
- تعریف:متقض: چلو p اور q دو مستلف ہوں۔ مستلف "p متقضی q" جسے
لکھا جاتا ہے، اس وقت جھوٹ ہو گی جب p سچ ہو مگر qجھوٹ ہو، ورنہ سچ ہو گی۔ متقض مستلف
میں مستلف p کو مفروضہ اور مستلف q کو نتیجہ کہا جاتا ہے۔
مثلاً p="آج جمعہ کا دن ہے"، q="آج دوکان کھلی ہے"، تو
= آج جمعہ کا دن ہے تو آج دکان کھلی ہے"۔ مقتض مستلف
جمعہ کے دن جھوٹ ہو گی اگر دوکان بند ہو، ورنہ سچ ہو گی۔ اور جمعہ کے علاوہ بھی ہر دن سچ ہو گی گاہے دوکان کھلی ہو یا بند۔
مثال: p="آج جمعہ کا دن ہے"، q="1+2=3"، تو
ہمیشہ سچ ہو گی، کیونکہ نتیجہ q، مفروضہ p سے آزاد ہے۔ مثال: p="آج جمعہ کا دن ہے"، q="1+2=4"، تو
جمعہ کے علاوہ تمام دن سچ ہو گی۔ ان دو مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ریاضی میں متقضی کی تعریف عام اردو بول چال سے زیادہ جامع معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔
ریاضی میں
کو نیچے دیے جملوں سے بھی بولا جاتا ہے:
|
اگر p تو q |
if p, then q | |
|
p متقضی q |
p implies q | |
|
p بشرط اگر q |
p only if q | |
|
q کے لیے p کافی ہے |
p is sufficient for q |
|
|
q اگر p |
q if p | |
|
q جب بھی p |
q whenever p | |
|
p کے لیے q ضروری ہے |
q is necessary for p |
|
"p متقضی q" (علامت
) کا اُلٹ "q مقتضی p" (علامت
) ہے۔ "اگر آج جمعہ کا دن ہے تو آج دکان کھلی ہے" کا اُلٹ "اگر آج دوکان کھلی ہے تو آج جمعہ کا دن ہے" ہو گا۔
| p | q | ![]() |
| F | F | T |
| T | F | F |
| F | T | F |
| T | T | T |
- تعریف:دو رویہ متقض: چلو p اور q دو مستلف ہوں۔ مستلف "p دو رویہ متقضی q" جسے
لکھا جاتا ہے، اس وقت سچ ہو گی جب p اور qکی سچائی اقدار برابر ہوں، ورنہ جھوٹ ہو گی۔ دو رویہ مقتض کو اگر بشرط اگر بھی کہا جاتا ہے۔
اسی وقت سچ ہو گی جب دونوں
اور
سچ ہوں۔
بول چال کا منطقی ترجمہ [ترمیم]
اردو زبان کے جملوں کو منطقی مستلف میں ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے حاصل کلام کا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
مثال:جملہ: "تم گاڑی چلانے کا اجازہ حاصل کر سکتے ہو بشرط اگر تمہاری عمر سولہ سال سے زیادہ ہے اور تمہاری نظر ٹھیک ہے۔" اس جملے کے اجزا کو ہم مستلفات کے بطور یوں لکھتے ہیں: p="تم گاڑی چلانے کا اجازہ حاصل کر سکتے ہو"، q="تمہاری عمر سولہ سال سے زیادہ ہے"، r="تمہاری نظر ٹھیک ہے"۔ تو اصل جملہ یوں لکھا جا سکتا ہے:
مثال:جملہ: "تم ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں اگر تمہاری عمر اٹھارہ سال سے کم ہے یا تم پاکستان کے شہری نہیں۔" اس جملے کے اجزا کو ہم مستلفات کے بطور یوں لکھتے ہیں: a="تم ووٹ ڈالنے کے اہل ہو"، b="تمہاری عمر اٹھارہ سال سے کم ہے"، c="تم پاکستان کے شہری ہو"۔ تو اصل جملہ یوں لکھا جا سکتا ہے:
| اصطلاح | term |
|---|---|
|
معادلہ |
equivalence |
| p | q | ![]() |
![]() |
| F | F | T | T |
| T | F | T | T |
| F | T | T | T |
| T | T | F | F |
منطقی معادلہ [ترمیم]
دو مرکب مستلف کو معادل (برابر) کہا جاتا ہے اگر ان کے سچائی جدول تمام معاملات میں برابر ہوں۔ مستلف p اور مستلف q کو منطقی معادل کہا جائے گا اگر
تطویل ہو۔ منطقی معادلہ کو
کی علامت سے لکھا جاتا ہے، یعنی 
مثال کے طور پر مستلف
اور مستلف
معادل ہیں، یعنی علامتی طور پر
جیسا کہ سچائی جدول کے تیسرے اور چوتھے ستونوں کے برابر ہونے سے ثابت ہے۔
|
شناختی قوانین | identity laws |
|
غلبہ قوانین | domination laws |
|
ایضاً قوانین | idempotent laws |
![]() |
دوہری منفیت قوانین | double negation law |
|
مبدلی قوانین | commutative laws |
|
مشارکی قوانین | associative laws |
|
توزیعی قوانین | distributive laws |
|
ڈی مارگن قوانین | DeMorgan's laws |
اور دیکھو [ترمیم]
حوالہ جات [ترمیم]
E=mc2 اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے ریاضی علامات











