آئین پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پاکستانی آئین میں اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی پاکستان نے پاس کی۔ اس وقت آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔ اٹھارویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایکزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیے، چونکہ وزیر اعظم قائدِ ایوان (Leader of the House) ہوتا ہے لہذا زیادہ اختیارات وزیر اعظم کے پاس بھی آئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی مغربی سرحد صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا گیا۔ وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دیے گئے۔

ترامیم[ترمیم]

اس ترمیم کے تحت 1973 کے آئین میں تقریبا 100 کے قریب تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آئین کے 83 آرٹیکلز پر اثر انداز ہوتی ہیں ، متاثرہ آرٹیکلز میں 1، 6، 10، 17، 19، 25.27، 29، 38، 41، 46، 48، 51، 58، 62، 63، 70، 71، 73، 75، 89، 90، 91، 92، 99، 100، 101، 104، 105، 112، 114، 122، 129، 130، 131، 132، 139، 140، 142، 143، 144، 147، 149، 153، 154، 155، 156، 157، 160، 167، 168، 170، 171، 172، 175، 177، 193، 194، 198، 199، 200، 203، 209، 213، 215، 216، 218، 219، 221، 224، 226، 228، 232، 233، 234، 242، 243، 246، 260، 267، 268، 269 اور 270 شامل ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے دور کی گئی ترامیم کو تقریبا ختم کر دیا گیا ہے، جنرل ضیا کے دور میں 8ویں ترمیم کے تحت 1973 کے وفاقی آئین میں 90 سے زیادہ آرٹیکلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ اسی ترمیم کے تحت ایک اور فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں کی گئی 17ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کو بھی قریب قریب ختم کر دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت 1. شمال مغربی سرحدی صوبہ (صوبہ سرحد) کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ 2. دو صوبہ جات کے نام کے انگریزی ناموں کے سپیلنگز میں تبدیلی کے تحت Baluchistan کو تبدیل کر کے Balochestan اور Sind کو Sindh کیا گیا ہے۔ گو کہ اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی البتہ آئینی ترمیم کے لیے قائم کمیٹی کے صوبہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین نے کہا کہ اس تبدیلی کا مقصد برطانوی راج کے دور میں استعمال شدہ ناموں سے چھٹکارا پانا تھا۔ 3. 1973 کے آئین میں شامل آرٹیکل 6 ریاست اور آئین سے غداری میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھی، 18ویں ترمیم کے تحت اس میں مزید تبدیلی کر کے آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کر سکتی ، جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ آرمی ڈکٹیٹروں نے مارشل لا لگانے کے بعد اپنے اقدامات کو عدالتی تحفظ فراہم کیا اور بعد میں آنے والی اسمبلیوں سے اپنے دور میں کیے جانے والے اقدامات سے استثنا حاصل کیا۔ لہٰذا آئینی طور پر مستقبل میں کسی بھی مارشل لا کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ 4. آرٹیکل 25 الف کا اضافہ کر کے 5 سے 16 برس کی عمر تک تعلیم کی لازمی اور مفت فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ 5. آرٹیکل 38 کے تحت صوبائی اکائیوں کے درمیان موجود وسائل اور دیگر خدمات کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ 6. بدنام زمانہ آرٹیکل 58 (2) بی جو فوجی آمر ضیا الحق نے متعارف کروائی تھی اور بعد ازاں ایک اور آمر پرویز مشرف کے دور میں اس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اس بد نیتی پر مبنی آرٹیکل کے تحت صدر کو پارلیمان تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جس سے پارلیمانی نظام حکومت صدارتی نظام حکومت میں تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ بالاآخر دور آمریت کی بھونڈی ترمیم کو مکمل طور پر ختم کر کے چور دروازے سے پارلیمان تحلیل کرنے کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ 7. ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، پہلے یہ اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل تھا، اب اس کا اختیار جیوڈیشل کمشن اور پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ (گو کہ بعد میں 19ویں ترمیم کے تحت اس میں تبدیلی کی گئی ہے کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعض حصوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں 17 رکنی بینچ نے ججوں کی تعیناتی کے اختیار میں بہت حد تک تبدیلی کر دی گئی ہے، جو بعد میں 19ویں آئینی ترمیم میں شامل کی گئی ہے) 8. اس ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت آرٹیکل 70، 142، 143، 144، 149، 158، 160، 161، 167، 172، 232، 233 اور 234 کو جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ a. اس میں بجلی کی پیداوار کا معاملہ مکمل طور پر صوبائی اختیار میں دیا گیا ہے b. قومی فنائنس کمیشن ، قدرتی گیس، صوبائی قرضہ جات، ہنگامی صورت حال کا نفاذ اور دیگر قانون سازی جیسے معاملات کو صوبائی اختیار میں دے دیا گیا ہے۔ i. اس میں سب سے اہم معاملہ ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کے متعلق ہے۔ اب ہنگامی صورت حال کا نفاذ صدر اور گورنر سے لے کر صوبائی اسمبلی کو دے دیا گیا ہے۔ ii. ایک اور بہت بڑی تبدیلی یہ کی گئی کہ آرٹیکل 142 ب اور ج کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو کریمینل قوانین، طریقہ کار اور ثبوت اور شہادت جیسے قوانین کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 280 الف الف کے تحت موجودہ قوانین اس وقت تک نافذ العمل رہیں گے جب تک کہ متعلقہ صوبائی اسمبلیاں ان قوانین کے بدلے میں نئے قوانین پاس نہیں کرتیں۔ 9. اس ترمیم کا ایک اور بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت کو واپس لاگو کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 46، 48، 75، 90، 91، 99، 101، 105، 116، 129، 130، 131، 139، 231 اور 243 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مختلف تبدیلیوں کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات میں خاطرخواہ تبدیلی کی گئی ہے۔ اب صدارتی اختیارات، عوام کے منتخب و نمائندہ وزیر اعظم، پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا کیا اثر پڑا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ پہلے وزیر اعظم پر یہ فرض تھا کہ وہ کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے صدر کو آگاہ کرے اور ضرورت پڑنے پر صدر کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ ان فیصلوں پر نظر ثانی کے لیے انہیں جزوی یا کلی طور پر منسوخ کر دے، اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس سے قبل اہم عوامی أمور کے لیے ریفرنڈم کے انعقاد کا اختیار صرف صدر مملکت کے پاس تھا، اب یہ اختیار صدر سے واپس لے کر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے وزیر اعظم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ 10. اس ترمیم کے تحت آئین سے آمر ضیاالحق کے لیے “صدر” کے لفظ کو نکال دیا گیا ہے۔

رد عمل[ترمیم]

2007 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ “جو افراد یا ادارے جمہوریت سے فرار حاصل کرنا بہت آسان سمجھتے ہیں ، وہ جان لیں کہ میری والدہ نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے”۔ میری ذاتی رائے میں 18ویں ترمیم کے تحت بہت حد تک یہ انتقام لیا جا چکا ہے،۔[1]

مزید[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Jul 9, 2018 ہم سب، عاصم سعید