آئین پاکستان میں پانچویں ترمیم
آئین پاکستان میں پانچویں ترمیم کی رو سے پاکستان کی تمام صوبائی عدالت عالیہ سے وہ تمام اختیارات واپس لے لیے گئے جن کی مدد سے کوئی بھی عدالت کسی شخص بارے بنیادی انسانی حقوق کے فیصلہ کر سکتے تھے۔ یہ ترامیم آئین پاکستان کے باب (1) جز (2) میں کی گئیں۔ ان ترامیم کو پاکستان میں 5 ستمبر 1976ء کو نافذ کر دیا گیا۔
ترمیمی دفعات
پانچویں ترمیم کی ذریعے آرٹیکل 101 میں ترمیم کرکے کہا گیا کہ صوبہ کا گورنر اس صوبے کا مستقل رہائشی نہیں ہوگا یعنی کوئی ایسا شخص گورنر نہیں ہو سکتا جو اسی صوبہ کا مستقل باسی ہو۔ اسی طرح آرٹیکل 160 میں ترمیم کے ذریعے تمام درآمدات ، برآمدات، مقامی طور پر تیار شدہ اشیاء اور کھانے پینے والی چیزوں پر ٹیکس لازم قرار دیا گیا۔ آرٹیکل 179 میں ترمیم کی رو سے عدالت اعظمٰی ( سپریم کورٹ) کا جج پانچ سال کا متعینہ مدت پوری کرنے کے بعد مستعفی ہو سکتا ہے جس صورت میں اس کو اتنا پینشن ملے گا جو اس کو قدرتی طور پر 65 سال بعد( عمر کی وجہ سے) مستعفی ہونے کی صورت میں ملے گا تاہم اگر وہ اپنی خدمات جاری رکھنا چاہتا ہے تو وہ موجود اعلٰی جج حضرات میں سب سے سینیئر شمار ہوگا تاہم وہ دوبارہ تعینات ہونے کے لیے اہل نہیں ہوگا اور اتنی اجرت ملے گی جتنی پہلے ملتی رہی ہے۔ آرٹیکل 192 میں ترمیم کرکے سندہ اور بلوچستان کے لیے موجود جوائنٹ ہائی کورٹ کو ختم کرکے الگ الگ ہائی کورٹ بنائے گئے۔ آرٹیکل 206 میں ترمیم کی رو سے جو بھی ہائی کورٹ کا جج سپریم کورٹ کا جج بننے سے انکار کرے گا وہ ریٹایرڈ تصور ہوگا۔ آرٹیکل 199 کی ترمیم کی رو سے کوئی بھی ہائی کورٹ کسی شخص کے متعلق دیے گئے حکمِ حراست کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔ آرٹیکل 200 میں لکھا گیا کہ سپریم کورٹ کسی بھی ہائی کورٹ سے کوئی بھی کیس اس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی اجازت کے بغیر سپریم کورٹ منتقل کرسکتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 204 میں ترمیم کرکے کہا گیا کہ کسی بھی شخص کیساتھ، جس پر توہین عدالت کا الزام ہو، عام قانون کے مطابق عمل اور برتاؤ کیا جائے گا یعنی ہائی کورٹ سے یہ اختیار لے لیا گیا۔پانچویں ترمیم کے دفعات[1]
- ↑ "CONSTITUTION (FIFTH AMENDMENT) ACT, 1976"۔ www.pakistani.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-06