مندرجات کا رخ کریں

آئین پاکستان میں پہلی ترمیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

آئین پاکستان میں پہلی ترمیم کی دستاویز کو سرکاری طور پر آئین (پہلی ترمیم) ایکٹ، 1974ء کہا جاتا ہے۔ یہ ترمیم 4 مئی 1974ء کو نافذ ہوئی۔ اس ترمیم کی رو سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 1، 8، 17، 61، 101، 193، 199، 200، 209، 212، 250، 260 اور 272 میں جبکہ آئین پاکستان کے پہلے شیڈول میں تبدیلیاں کی گئیں۔
ان ترامیم کے بعد پاکستان کی سرحدوں کا ازسر نو تعین کیا گیا اور مشرقی پاکستان کے حوالہ جات کو پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کی حیثیت سے آزاد ریاست تسلیم کرنے کے بعد حذف کر دیا گیا۔

آرٹیکل 1 ؛ آرٹیکل 1 میں صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان، مرکزی دار الخلافہ اسلام آباد، فاٹا اور ایسے علاقے جو مستقبل میں پاکستان کا حصہ بننا چاہے ، کو پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا۔[1]

آرٹیکل 17 ؛ آرٹیکل سترہ میں ترمیم کرکے شہریوں کو جماعت (پارٹی) بنانے کا حق دیا گیا بشرط وہ پاکستان کے سالمیت کے خلاف نہ ہوں۔[2]

آرٹیکل 200 ؛ آرٹیکل 200 میں ترمیم کرکے یہ کہا گیا کہ کسی بھی ہائی کورٹ کے ججوں کی تعداد عارضی طور پر بڑھانے کے لیے اس ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کسی دوسرے ہائی کورٹ کے جج کو صدر اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی رضامندی سے مدعو کرسکتا ہے۔ [3]

بیرونی روابط

[ترمیم]
  1. "CONSTITUTION (FIRST AMENDMENT) ACT, 1974"۔ www.pakistani.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-06
  2. "CONSTITUTION (FIRST AMENDMENT) ACT, 1974"۔ www.pakistani.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-06
  3. "CONSTITUTION (FIRST AMENDMENT) ACT, 1974"۔ www.pakistani.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-06