آئین چین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آئین چین
روایتی چینی 中華人民共和國憲法
سادہ چینی 中华人民共和国宪法
یہ مضمون چینی سیاست سے متعلق ہے
چینی سیاست
National Emblem of the People's Republic of China (2).svg

آئین چین عوامی جمہوریہ چین کا دستور اعلیٰ ہے۔ موجودہ آئین 4 دسمبر 1982ء کو پانچویں قومی عوامی کانگریس نے منظور کیا جس میں 1998ء، 1993ء، 1999ء، 2004ء اور 2008ء میں متعدد ترمیمیں کی گئیں۔ موجودہ آئین سے قبل 1954ء، 1975ء اور 1978ء میں تین آئین اور بنے تھے جو منسوخ قرار دیے گئے۔ آئین میں مندرجہ ذیل پانچ حصے ہیں:

تاریخ[ترمیم]

عوامی جمہوریہ چین کا پہلا آئین 1954ء میں وضع کیا گیا۔ اس کے دو نسخے 1975ء اور 1978ء میں آئے۔ موجودہ آئین کا نفاذ 1982ء میں ہوا۔ آئین کے تینوں نسخے ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ موجودہ نسخہ میں بھی کئی بار ترمیم کی گئی ہے۔ ان ترامیم کی وجہ سے چینی حکومت کے ڈھانچہ میں بھی بڑی تبدیلی ہوئی۔

1982ء کا وثیقہ[ترمیم]

1982ء میں دنگ شاوپنگ کا ایک کتابچہ شائع ہوا جس میں آئین چین کے حتمی نسخہ کی ضرورت سے روشناس کرایا گیا۔ نئے دستور کی وجہ سے چین میں بڑے پیمانہ پر سماجی اور معاشی تبدیلی ہوئی اور حکومتی ڈھانچہ میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ صدر عوامی جمہوریہ چین اور نائب صدر عوامی جمہوریہ کا عہدہ بحال کیا گیا جو 1975ء اور 1978ء کے نسخوں میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ 1982ء کا دستور طویل اور جامع ہے۔ اس میں 138 دفعات ہیں۔[1] بڑے حصے 1978ء کے نسخہ سے لیے گئے اور کئی ترامیم 1954ء کے نسخے سے کی گئی۔ آئین چین کی دفعہ 1 چین کو عوامی جمہوری ڈکٹیٹرشپ کے تحت ایک سماجی ریاست قرار دیتی ہے۔[2] اس کا مطلب یہ ہے کہ نظام حکومت مختلف کام کرنے والوں کا ایک اتحاد ہے جسے کمیونسٹ پارٹی کی قیادت حاصل ہے اور اسی بنیاد پر سی پی پی سی سی، جمہوری پارٹیاں اور بڑی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ 1982ء کا نسخہ ثقافتی انقلاب کے تمام آثار کو کالعدم قرار دیتا ہے۔ دفعہ 5 کے مطابق آئین چین تمام تنظیموں اور افراد سے بالا ہے۔ نئے دستور میں ووٹ دینے کی عمر 18 سال ہے۔ نیا دستور چین کے عوام کو مذہبی آزادی اور دہریت پر عمل پیرا ہونے کی آزادی دیتا ہے۔ دستور یقین دہانی کراتا ہے کہ “مذہبی اکائیاں اور مذہبی معاملات کا مطلب مذہبی تسلط ہرگز نہیں ہے۔“ نیا دستور آزادی گفتار، آزادی اشاعت، حق اجتماع، تنظیم، جلوس اور مظاہرہ کرنے کی آزادی دیتا ہے۔[3]

2004ء کی ترامیم[ترمیم]

مارچ 14، 2004ء کو آئین میں ترمیم کی گئی۔ اس میں نجی جائداد رکھنے کی اجازت دی گئی (“قانونی طور پر عرضی گئی جائداد ضبط نہیں ہوگی“) اور حقوق انسانی کو یقینی بنایا گیا (ریاست حقوق انسانی کی عزت کرتا ہے اور اس کی حفاظت کرتاہے“۔) چونکہ چین میں زبردست معاشی ترقی دیکھنے کو ملی لہذا مڈل کلاس طبقہ ابھر کر سامنے جو اپنی جائداد اور اپنی عزت کی حفاظت چاہتا تھا۔ زین جیا باو نے دی واشنگٹن پوسٹ کو کہا تھا “آئین چین میں یہ ترامیم چین کی ترقی کے لیے بہت اہم ہیں۔“ “ ہم ان کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔“

2018ء کی ترامیم[ترمیم]

11 مارچ 2018ء کو آئین میں دوبارہ ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے حق میں 2958 ارکان نے ووٹ دیے، دو نے مخالفت کی اور تین نے بائیکاٹ کیا۔ اس ترمیم میں کمیونسٹ پارٹی کے کنٹرول اور برتری کو یقینی بنایا گیا۔[4] صدر اور نائب صدر کی میعاد کی حد کو ختم کیا گیا۔[5][6][7] پہلی دفعہ آئین کے اصل متن میں “چینی کمیونسٹ پارٹی“ اور“ اس کی سربراہی“ لکھا گیا۔[8]

آئینی نفاذ[ترمیم]

آئین چین کے نفاذ اور آئینی نطرثانی کی ذامہ داری قومی عوامی کانگریس اور لا کمیٹی کی ہے۔[9] یہ کمیٹی قومی عوامی کانگریس اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی نگرانی میں کام کرتی ہے اور قومی عوامی کانگریس کو اور اسٹینڈنگ کمیٹی کو اختیار ہے کہ قومی عوامی کانگریس اور لا کمیٹی کی تجویز کردہ ترمیم کو باقی رکھنا ہے یا منسوخ کرنا ہے۔ چین کی عدلیہ کو آئین میں نظر ثانی کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی دفعہ کو منسوخ کر سکتی ہے۔ البتہ 2002ء کے بعد سے قومی عوامی کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے تحت ایک خاص کمیٹی کو تشکیل دیا گیا جو عدالتی نظر ثانی کرتی اور آئین کے قوانین پر غور کرتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "China 1982 (rev. 2004)"۔ Constitute۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 22, 2015۔
  2. "CONSTITUTION OF THE PEOPLE'S REPUBLIC OF CHINA"۔ People's Daily۔ دسمبر 4, 1982۔
  3. "CONSTITUTION OF THE PEOPLE'S REPUBLIC OF CHINA"۔ People's Daily۔ دسمبر 4, 1982۔
  4. "Translation: 2018 Amendment to the P.R.C. Constitution"۔ npcobserver.com۔
  5. Nectar Gan (2018-03-12)۔ "Xi Jinping cleared to stay on as China's president with just 2 dissenters among 2,964 votes"۔ South China Morning Post (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 2018-10-25 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-25۔
  6. Liangyu, ویکی نویس. (2018-03-11)۔ "China's national legislature adopts constitutional amendment"۔ Xinhuanet۔ مورخہ 2018-10-25 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-25۔
  7. Liangyu, ویکی نویس. (2018-02-25)۔ "CPC proposes change on Chinese president's term in Constitution"۔ Xinhuanet (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 2018-10-25 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-25۔
  8. "Translation: 2018 Amendment to the P.R.C. Constitution"۔ npcobserver.com۔
  9. "坚决贯彻宪法精神 加强宪法实施监督_中国人大网"۔ www.npc.gov.cn۔