زمزم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(آب زم زم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
کنواں زمزم/زم زم/آب زمزم
مقامی نام
{{lang-404 Error: Invalid or missing first parameter. The first parameter should be the dataset you wish to query, e.g. "ISO 3166-1", "ISO 639-2", etc. Shortcuts to datasets are also valid, e.g. "Countries" or "Languages". For a full set of supported datasets, یہاں کلک کریں.|زمزم}}
Zamzamwill.JPG
حجاج ومزم کے کنواں کے پاس۔
مقام مسجد الحرام، مکہ
متناسقہ 21°25′19.2″N 39°49′33.6″E / 21.422000°N 39.826000°E / 21.422000; 39.826000متناسقات: 21°25′19.2″N 39°49′33.6″E / 21.422000°N 39.826000°E / 21.422000; 39.826000
رقبہ about 30 میٹر (98 فٹ) گہرا اور 1.08 تا 2.66 میٹر (3 فٹ 7 انچ تا 8 فٹ 9 انچ) قطر میں
تاسیس روایتی بیانات کے مطابق 2000 قبل مسیح
نظم و نسق حکومت سعودی عرب
باضابطہ نام: زمزم
زمزم is located in سعودی عرب
زمزم
مکہ میں مقام کنواں زمزم، سعودی عرب
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

زمزم کا پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے بہانے اللہ تعالیٰ نے تقریباً 4 ہزار سال قبل ایک معجزے کی صورت میں مکہ مکرمہ کے بے آب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا جو آج تک جاری ہے۔

چاہ زمزم مسجد حرام میں خانہ کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کے فاصلے پر تہ خانے میں واقع ہے۔ یہ کنواں وقت کے ساتھ سوکھ گیا تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب نے اشارہ خداوندی سے دوبارہ کھدوایا جوآج تک جاری و ساری ہے۔ آب زمزم کا سب سے بڑا دہانہ حجر اسود کے پاس ہے جبکہ اذان کی جگہ کے علاوہ صفا و مروہ کے مختلف مقامات سے بھی نکلتا ہے۔ 1953ءتک تمام کنووں سے پانی ڈول کے ذریعے نکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ آب زمزم کا پانی مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہے اور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

گہرائی،چوڑائی لمبائی[ترمیم]

جناب عبد المطلب کے زمانے میں چاہِ زم زم کی کھدائی کے بعد سے لے کر اب تک اس کنویں کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ یعنی یہ آج تک 18 فٹ لمبا، 14 فٹ چوڑا اور تقریباً 5فٹ گہرا ہے۔ مکہ کا شہر جس وادی میں ہے وہ چاروں طرف سے گرینائٹ چٹانوں والے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ حرم شریف ( مسجد الحرام) وادی میں سب سے نچلے مقام پر ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد الحرام سمیت پورا شہر مکہ، ریت اور گاد کی تہ ( sand and silt formation) پر واقع ہے۔ جس کی گہرائی 50 سے 100 فٹ تک ہے اور جس کے نیچے آتشی چٹانوں کی ایک تہ پھیلی ہوئی ہے۔ چاہِ زم زم بھی ریت / گاد کی اسی تہ پر واقع ہے اور اس میں پانی کی سطح، اطراف کی زمین سے 40 تا 50 فٹ کی گہرائی پر ہے۔[1]

موجود معدنیات[ترمیم]

آبِ زم زم میں موجود اہم معدنیات کا خلاصہ یہ ہے:

معدنیات کا تناسب
بمطابق رپورٹ جامعہ شاہ سعود[2]
معدنیات تناسب
mg/L oz/cu in
سوڈیم 133 7.7×10−5
کیلشیم 96 5.5×10−5
میگنیشیم 38.88 2.247×10−5
پوٹاشیم 43.3 2.50×10−5
بائی کاربونیٹ 195.4 0.0001129
کلورائڈ 163.3 9.44×10−5
فلورائڈ 0.72 4.2×10−7
نائٹریٹ 124.8 7.21×10−5
سلفیٹ 124.0 7.17×10−5
کُل حل شدہ معدنیات 835 0.000483

فضیلت[ترمیم]

Zamzam water in plastic bottle.jpg

ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :

زمزم سب پانیوں کا سردار اورسب سے زیادہ شرف و قدروالا ہے، لوگوں کے نفوس کوسب سے زیادہ اچھا اورمرغوب اوربہت ہی قیمتی ہے جو جبریل علیہ السلام کے کھودے ہوئے چشمہ اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے اسماعیل علیہ السلام کی تشنگی دورکرنے والا پانی ہے ۔

صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب وہ کعبہ کے پردوں پیچھے چالیس دن رات تک مقیم رہے اوران کا کھانا صرف زمزم تھا اس وقت فرمایا :

( نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوذررضي اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تم کب سے یہاں مقیم ہو؟ توابوذر رضي اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے جواب دیا تیس دن رات سے یہیں مقیم ہوں، تونبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے :

تیرے کھانے کا انتظام کون کرتا تھا؟ وہ کہتے ہیں میں نے جواب میں کہا کہ میرے پاس توصرف زمزم ہی تھا اس سے میں اتنا موٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ کے تمام کس بل نکل گئے، اورمیری ساری بھوک اورکمزوری جاتی رہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے : بلاشبہ زمزم بابرکت اورکھانے والے کے لیے کھانے کی حیثیت رکھتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2473 ) ۔

اورایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ( یہ بیمارکی بیماری کی شفا ہے ) مسندالبزار حدیث نمبر ( 1171 ) اور ( 1172 ) اورمعجم طبرانی الصغیر حدیث نمبر ( 295 ) ۔

علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل اورتجربہ بھی کیا ہے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حج کیا تووہ زمزم کے پاس آئے توکہنے لگے اے اللہ مجھے ابن ابی الموالی نے محمد بن منکدر سے اورانہوں نے جابررضي اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : زمزم اسی چیز کے لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جائے، اورمیں روزقیامت کی تشنگی اورپیاس سے بچنے کے لیے اسے پی رہا ہوں ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اورمیرے علاوہ دوسروں نے بھی زمزم پی کرتجربہ کیا ہے کہ اس سے عجیب وغریب قسم کی بیماریاں جاتی رہتی ہیں اورمجھے زمزم کے ساتھ کئی ایک بیماریوں سے شفانصیب ہوئی ہے اورالحمدللہ میں ان سے نجات حاصل کرچکا ہوں ۔

اورمیں نے اس کا بھی مشاھدہ کیا ہے کہ کئی ایک نے زمزم کوپندرہ یوم سے بھی زیادہ تک بطورغذا استعمال کیا تواسے بالکل بھوک محسوس تک نہیں ہوئی اوروہ لوگوں کے ساتھ مل کرطواف کرتا رہا۔ زمزم اچھی طرح ہاتھ سے کھدائی کر رہا تھا اور تقریبا 30 میٹر (98 فٹ) ویاس میں گہری اور 1،08 2،66 میٹر (میں 3 7 انچ میں 8 9 انچ) ہے۔ یہ بنیاد سے وادی alluvium کے اور کچھ سے بھوجل نلکے۔ اصل میں اچھی طرح سے پانی رسیاں اور بالٹیوں کے ذریعے تیار کی تھی، لیکن آج ساتھ ساتھ خود کو ایک بیسمنٹ کمرے جہاں اس گلاس پینل (مہمانوں کی اجازت داخل نہیں کر رہے ہیں) کے پیچھے دیکھا جا سکتا ہے میں ہے۔ الیکٹرک پمپ میں پانی، جس میں پورے مسجد رحمہ اللہ تعالیٰ نے حرم میں طواف کے علاقے کے قریب پانی کے جھرنے اور ڈسپینسگ کنٹینرز کے ذریعے دستیاب ہے اپنی طرف متوجہ [1]. Hydrogeologically، اچھی طرح وادی ابراہیم (ابراہیم کی وادی) میں ہے۔ نصف کے اوپری ریتیلی alluvium، وادی کے سب سے اوپر 1 میٹر (3 انچ 3) ہے جس میں ایک ٹھوس "کالر" کے علاوہ پتھر کی چنائی کے ساتھ قطار میں ہے۔ کم نصف بنیاد میں ہے۔ alluvium اور بنیاد کے درمیان ایک 1/2-metre (8 فوٹ 1) بھیدی کے سیکشن راک weathered پتھر کے ساتھ اہتمام کیا ہے اور یہ اس سیکشن ہے کیا کہ میں اہم پانی اندراج فراہم کرتا ہے۔ اچھی طرح سے میں پانی وادی ابراہیم میں جذب مقامی پہاڑیوں سے بارش، اسی طرح بند چلانے سے آتا ہے۔ چونکہ اس علاقے کو زیادہ بن گیا ہے اور زیادہ آباد، وادی ابراہیم پر جذب بارش سے پانی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ سعودی جیولوجیکل سروے کے ایک "زمزم سٹڈیز اور ریسرچ سنٹر" ہے جس میں تفصیل سے اچھی طرح کی تکنیکی خصوصیات کا تجزیہ کرتا ہے۔ پانی کی سطح hydrograph، جو حال ہی میں زیادہ وقت میں ایک ڈیجیٹل نگرانی کا نظام ہے جو پانی کی سطح، بجلی چالکتا، پییچ، اہ اور درجہ حرارت ٹریک تبدیل کر دیا گیا ہے کی طرف سے نگرانی کر رہے تھے۔ اس معلومات کے تمام انٹرنیٹ کے ذریعے مسلسل دستیاب کیا جاتا ہے۔ وادی بھر میں دیگر کوں بھی کیا گیا ہے کچھ ڈیجیٹل ریکارڈر کے ساتھ قائم، مقامی aquifer نظام کے رد عمل کی نگرانی کے لیے [1]. پانی کی سطح سطح 3.23 کے نیچے میٹر (10.6 فٹ) ہے۔ فی سیکنڈ ایک 24 گھنٹے کی مدت سے زیادہ کے لیے 8،000 لیٹر (280 الاضلاع فوٹ /) پر ایک پمپنگ ٹیسٹ 3.23 سے ایک بوند پانی کی سطح میں میٹر (10.6 فٹ) سطح 12،72 میٹر (41.7 فٹ) اور تو 13،39 میٹر ذیل میں دکھایا ( 43،9 فیٹ)، جس کے بعد پانی کی سطح چلی بند کر دیا۔ جب بند کر دیا پمپنگ، پانی کی سطح 3.9 میٹر (13 فٹ) کی سطح کے نیچے صرف 11 منٹ کے بعد برآمد [حوالہ کی ضرورت ہے]. یہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اچھی طرح کھانا کھلانے aquifer مکہ مکرمہ کے ارد گرد کے ہمسایہ پہاڑوں میں پتھر کی تحلیل سے ریچارج کرنے لگتا ہے [حوالہ کی ضرورت ہے]. زمزم کے پانی کا رنگ یا بو نہیں ہے، لیکن یہ ایک الگ ذائقہ ہے اور اس کی پییچ 7.9-8.0 ہے، اشارہ ہے کہ یہ کسی حد تک alkaline ہے اور سمندری پانی کے لیے اسی طرح کی ہے۔

آب زم زم ایک زندہ جاوید معجزہ[ترمیم]

حقیقت یہ ہے کہ آب زم زم اللہ کریم کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے اور اس پر جب بھی اور جتنی بھی تحقیق کی جائے کم ہے کیونکہ ہر مرتبہ انسان پر نئے راز آشکار ہوتے ہیں اور مزید روشن پہلو انسان کی عقل کو ذخیرہ کرتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:۔ ٭ آب زم زم کا کنواں آج تک خشک نہیں ہوا اور اس نے ہمیشہ لاکھوں حجاج کرام اور زائرین کی پیاس بجھائی ہے۔ ٭ اس میں موجود نمکیات کی مقدار ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ ٭ اس کے ذائقے میں آج تک کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی بلکہ روز اول سے آج تک اس کا وہی ذائقہ ہے۔ ٭ آب زم زم کی شفا بخشی کسی سے پوشیدہ نہیں بلکہ اپنے اور غیر سبھی اس کے معترف ہیں۔ ٭ آب زم زم وسیع پیمانے پر مکہ اور گردونواح میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ رمضان شریف میں تو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بھی آب زم زم مہیا کیا جاتا ہے اس کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین حج اور عمرہ کے وقت اپنے ساتھ آب زم زم کے چھوٹے بڑے لاکھوں کین بھر کر لے جاتے ہیں۔ ٭ آب زم زم اپنی اصلی حالت میں فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں کلورین سمیت کسی بھی قسم کے جراثیم کش کیمیکل کی آمیزش نہیں کی جاتی لیکن اس کے باوجود یہ پینے کے لیے سب سے بہترین مشروب ہے۔ ٭ دوسرے کنوئوں میں کائی جم جاتی ہے اور دیگر نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش ہوتی ہے انواع واقسام کی جڑی بوٹیاں اور پودے اگ آتے ہیں یا کئی قسم کے حشرات بستے ہیں جس سے پانی کا رنگ اور ذائقہ متاثر ہوتا ہے مگر آب زم زم دنیا کا واحد پانی ہے جو کسی بھی قسم کی نباتاتی یا حیاتیاتی افزائش اور آلائش سے پاک صاف ہے۔ ٭ ہزاروں برس پہلے نوزائیدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے جاری ہونے والا یہ چشمہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی پیاس بجھانے کے باوجود آج بھی پہلے دن کی طرح پینے والوں کو حیات بخشتا ہے یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے جس پر مکہ شریف اور اہل مکہ ہمیشہ بجا طور پر نازاں و شاداں رہیں گے۔

آب زم زم پر لیبارٹریوں میں تحقیق[ترمیم]

جدید طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آب زمزم میں ایسے اجزاءمعدنیات اور نمکیات موجود ہیں جو انسان کی غذائی اور طبی ضروریات کو بڑے اچھے طریقے سے پورا کرتے ہیں حکومت سعودی عرب نے اس بات کا اہتمام کررکھا ہے کہ ہر چار گھنٹے بعد زم زم کے پانی کا جدید ترین لیبارٹریوں میں ہر لحاظ سے معائنہ کیا جاتا ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں آب زم زم کے بارے میں بے شمار انکشافات ہو رہے ہیں۔ آب زم زم کی کیمیائی تحقیقات اور طبی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں وہ اجزاءشامل ہیں جو معدہ جگر‘ آنتوں اور گردوں کے لیے بالخصوص مفید ہیں۔

آب زم زم اور عام پانی پر تحقیق[ترمیم]

ابن الصاحب المصری کہتے ہیں کہ میں نے آب زم زم کا وزن مکہ کے ایک چشمہ کے پانی سے کیا تو میں نے زم زم کو اس سے ایک چوتھا حصہ وزنی پایا۔ پھر میں نے میزان طب کے حساب سے دیکھا تو اس کو تمام پانیوں سے طبی اور شرعی لحاظ سے افضل پایا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. علیم احمد ماہنامہ گلوبل سائنس،فروری 2003ء۔ کراچی
  2. Nour Al Zuhair, et al. A comparative study between the chemical composition of potable water and Zamzam water in Saudi Arabia. KSU Faculty Sites, Retrieved August 15, 2010

بیرونی روابط[ترمیم]