آتشی کتا (ناول)
’دی ہاؤنڈ آف دی باسکرْوِلز‘ | |
| مصنف | آرتھر کانن ڈائل |
|---|---|
| اصل عنوان | The Hound of the Baskervilles |
| مترجم | محمد نصیر احمد عثمانی نیوتنوی (بعنوان: خاندانی آسیب) تیرتھ رام فیروز پوری |
| مصور | سڈنی پیجٹ |
| مصور سرورق | الفریڈ گارتھ جونز |
| ملک | مملکت متحدہ |
| زبان | انگریزی |
| سلسلہ | شرلک ہومز |
| صنف | سراغ رسانی فکشن، گوتھک فکشن[1] |
| ناشر | جارج نیونیس لمیٹڈ (انگریزی) شمس المطابع مشین پریس (اردو) نرائن دت سہگل اینڈ سنز، لاہور (اردو) |
تاریخ اشاعت | 1934ء (عثمانی) قبل از 1939ء (تیرتھ رام) |
تاریخ اشاعت انگریری | 25 مارچ 1902ء[2] |
| قبل ازاں | یادگار شرلک ہومز |
| بعد ازاں | کارنامجات شرلک ہومز |
| ریختہ ای بکس | آتشی کتا خاندانی آسیب |
”آتشی کُتا“ یا ”خاندانی آسیب“ (اصل عنوان: ’دی ہاؤنڈ آف دی باسکروِلز‘) برطانوی مصنف سر آرتھر کانن ڈائل کے چار جرائم پر مبنی ناولوں میں تیسرا ہے جس میں سراغ رساں شرلک ہومز مرکزی کردار یا بطلِ قصہ ہے۔ یہ ناول اصل میں اگست 1901ء سے اپریل 1902ء تک ’دی اسٹرینڈ میگزین‘ میں قسط وار شائع ہوا۔ کہانی زیادہ تر انگلینڈ کے ویسٹ کنٹری میں واقع ڈارٹ مور، ڈیون میں وقوع پزیر ہے اور ہومز اور واٹسن ایک خوفناک اور شیطانی قدرتی ماورائی نسل کے کتے کی افسانوی کہانی کی تحقیقات کرتے ہیں۔ ہومز اس کہانی میں دوبارہ نمودار ہوا حالاں کہ وہ سر آرتھر کانن ڈائل کی ’دی فائنل پرابلم‘ میں بظاہر ہلاک ہو چکا تھا اور اس ناول کی کامیابی نے ہومز کے کردار کو ایک بار پھر جلا بخشا۔[3] اردو میں اس کے کئی تراجم ہوئے، جن میں سے نمایاں محمد نصیر احمد عثمانی اور تیرتھ رام فیروز پوری کے ترجمے ہیں۔
اردو تراجم
[ترمیم]اردو زبان میں اس کا اولین ترجمہ محمد نصیر احمد عثمانی نیوتنوی (معلم طبیعیات، کلیہ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد دکن) نے ”خاندانی آسیب“ کے عنوان سے کیا جو 1934ء میں شمس المطابع مشین پریس، نظام شاہی روڈ حیدرآباد دکن میں چھپ کر شائع ہوا۔[4][5]
تیرتھ رام فیروز پوری نے ایک ترجمہ ”آتشی کُتا“ کے عنوان سے کیا جو سنہ 1939ء سے قبل نرائن دت سہگل اینڈ سنز، لاہور میں چھپ کر شائع ہوا۔[6]
اس کا ایک ترجمہ حیدر مہدی رضوی نے ”شرلاک ہومز اور شکاری کتا“ کے نام سے کیا جبکہ شاہنواز فاروقی نے اس کا اردو ترجمہ ”باسکروِل کا شکاری کتا“ کے نام سے کیا۔[7] اس کا ایک ترجمہ رخسانہ نازلی نے ”باسکرولی کا آتشی کتا“ کے نام سے کیا ہے جو ادارہ کتاب گھر نے شائع کیا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Greg Buzwell (15 Mar 2014). "An introduction to The Hound of the Baskervilles" (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2020-08-08. Retrieved 2022-08-08.
- ↑ "Publication of the Hound of the Baskervilles". History Today (بزبان انگریزی).
- ↑ Ruth Rendell (12 Sep 2008). "A most serious and extraordinary problem". The Guardian (بزبان انگریزی). Retrieved 2018-12-08.
- ↑ احمد عبد اللہ المسدوسی (مدیر)۔ مملکتِ حیدرآباد ایک علمی، ادبی اور ثقافتی تذکرہ۔ کراچی: بہادر یار جنگ اکادمی۔ ص 562
- ↑ مرزا حامد بیگ (1987)۔ کتابیاتِ تراجم (پہلا ایڈیشن)۔ اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان۔ ج 2۔ ص 201
- ↑ مرزا حامد بیگ (1987)۔ کتابیاتِ تراجم (پہلا ایڈیشن)۔ اسلام آباد: مقتدرہ قومی زبان۔ ج 2۔ ص 163
- ↑ شاہ نواز فاروقی (1 اگست 2021)۔ "باسکر وِل کا شکاری کتا"۔ روشنائی۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-08-11
- آرتھر کونن ڈوئل کی تخلیقات
- آرتھر کونن ڈوئل کی کتب
- آرتھر کونن ڈوئل کے شرلاک ہومز ناول
- ادب میں کتے
- انگریزی ادب
- انگریزی زبان کے ناول
- انگلستان میں 1902ء
- باسکرول کا شکاری کتا
- بچوں کے ناول
- برطانوی ادب
- برطانوی ناول جن پر فلمیں بنیں
- بیسویں صدی کا ادب
- ہیبت ناک ناول
- دائرہ عام کی کتب
- دیومالائی کتے
- شرلاک ہومز
- لندن میں سیٹ ناول
- 1889ء میں سیٹ فکشن
- 1901ء کے ناول
- 1902ء کی کتابیں
- 1902ء کے برطانوی ناول
- 1880ء کی دہائی میں سیٹ ناول