آتما رام (افغان وزیر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آتما رام 1800ء کے اوائل میں افغانستان کے ہندو وزیر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی وزارت کے دوران بھارت اور توران کے درمیان تجارت کو کافی فروغ ملا۔[1]

تاریخی اہمیت[ترمیم]

گیارہویں اور بارہویں صدی کے بعد افغانستان عملًا ایک اسلامی ملک میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یہاں کی بدھ مت اور ہندو مت پر عمل پیرا آبادی چند اقلیتی زمروں کے علاوہ معدوم ہو چکی تھی۔ ایسے وقت میں کسی ہندو شخص کا اٹھارہویں/ انیسویں صدی میں وزیر بنایا جانا یہاں کے حکمرانوں کی مذہبی روا داری کی مثال تصور کی جا سکتی ہے۔ خاص طور اس وقت جب انہیں رعایا کے کوئی خاطر خواہ تناسب کو خوش کرنا مقصد نہ ہو۔ دوسری جانب بھارت اور توران کی تجارت میں نمایاں فروغ لانا آتما رام کی شخصی صلاحیتوں اور ان تھک کوششوں کا مظاہرہ کرتی ہیں کہ بلا شبہ وہ ایک مثبت اور نتیجہ خیز افغان وزیر تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Levi, Scott Cameron. The Indian Diaspora in Central Asia and Its Trade, 1550-1900. BRILL, 2002.
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔