آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ
مصنف ابو ریحان البیرونی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
موضوع تقویم،  ریاضی،  فلکیات،  تاریخ مذاہب،  تاریخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی موضوع (P921) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت 1000  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر

آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ مشہور محقق و سائنس دان ابو ریحان البیرونی کی تصنیف ہے جو گیارہویں صدی عیسوی میں تصنیف کی گئی۔ یہ کتاب مختلف اقوام کی تاریخ اور تقویم پر مبنی حالات و کلیات پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ کسی بھی قوم کی تقویم کا استخراج کیا جاسکتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ سنہ 390ھ/ 391ھ مطابق 1000ء میں مکمل ہوئی۔ اِس تصنیف کو ابو ریحان البیرونی کی جامع ترین تصنیفات میں شامل کیا گیا ہے جو اُس کے قیام گرگان میں مکمل ہوئی۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ کتاب زیاری خاندان کے حکمران قابوس ابن وشمگیر کے دربار میں پیش کی گئی جبکہ البیرونی کی عمر محض 27/28 سال تھی۔ اِس کتاب کا قدیم ترین مخطوطہ جو اب تک محفوظ ہے، چودہویں صدی عیسوی کے ابن القطبی کا تحریر کردہ ہے جو جامعہ ایڈنبرگ کتب خانہ میں ایڈنبرگ کوڈیکس کے نام سے محفوظ کیا گیا ہے اور اِس پر سنہ تحریر 707ھ ہے جو عیسوی تقویم کے مطابق 1307ء/ 1308ء معلوم ہوتا ہے۔ اِس مخطوطہ کے 179 کل صفحات ہیں جو غالباً شمال مغربی ایران یا شمالی عراق کے کسی علاقہ سے برطانیہ بھیجا گیا تھا۔

مجموعی جائزہ[ترمیم]

کتاب میں گزشتہ مختلف اقوام کی تقاویم سے متعلق تاریخ، تہذیبی آثار، تہوار، ریاضیاتی استخراجات، فلکیاتی کلیات سے استخراجات مع معلومات کے فراہم کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں مذاہب عالم کے مابین سنین کا تفاوت بھی بیان کیا گیا ہے۔ اقوام سابقہ کی تقاویم خواہ دینی بنیاد پر ہوں یا غیر دینی بنیاد پر، ابو ریحان البیرونی نے تمام تقاویم کی مکمل تاریخ اور اُس کی دوسری تقاویم سے موازنہ و تفاوت بھی بیان کیا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ خلفا، شیعہ ائمہ کرام کی تاریخ ہائے وفات و شہادت کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے۔ ابو ریحان البیرونی نے اِس کتاب میں اسطرلاب بنانے اور اُس کے استعمال کا طریقہ بھی بیان کیا ہے۔ نقشہ جات کی تفاصیل اور تکونیاتی نقشہ جات بنانے کی تفصیل، دائروی نقشہ جات کی تفصیل بھی فراہم کی ہے، مذکورہ بالا تفاصیل کے ساتھ ساتھ الصغانی (متوفی 990ء)کے ریاضیاتی کاموں بھی تحریر کیا ہے۔

غیر مصدقہ تصاویر[ترمیم]

اِس مخطوطہ میں مختلف تصاویر بھی شامل ہیں جن میں دو تصاویر پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث غدیر خم اور تقویم ہجری میں نسی کی ممانعت سے متعلق ہیں۔ اہل تشیع اِن دونوں تصاویر سے منحرف ہیں۔ غالباً یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایل خانی عہد حکومت میں متعدد کتب ہائے تاریخ و سیرت میں مبینہ طور پر تصاویر بھی شامل کی جاتی رہیں جن سے اکثر کتب کا درجہ صحت و اعتبار سے گرگیا۔ البتہ محققین کا خیال ایل خانی دورِ حکومت کی جانب مصمم ہے کہ یہ دونوں تصاویر بعد کے کسی زمانہ میں جب ایل خانی سلطنت عروج پر تھی، اِس کتاب میں شامل کی گئیں۔ مواد البیرونی کا ہے اور تصاویر کی مصوری آٹھویں صدی ہجری کی ہے۔ کل پانچ تصاویر ایسی ہیں جن میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ دکھائی گئی ہیں جنہیں محققین نے مسترد کر دیا ہے، ایسا بعد کے مصوروں نے کتاب کی اہمیت کو بڑھانے کی خاطر کیا مگر اسلامی نقطہ نظر سے یوں کتاب کی اہمیت پر درجہ اعتبار کی سند ضعیف ہو گئی کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس یا شبیہ نہیں بنائی جاسکتی۔ تصاویر کی مصوری میں منگول طرز مصوری غالب نظر آتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصور منگول قوم سے تعلق رکھتا ہوگا۔

اشاعت و تراجم[ترمیم]

آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ کا اولاً جرمن زبان میں ترجمہ جرمن مستشرق ایڈورڈ سخاؤ لائپزش سے 1878ء میں Chronologie orientalischer Völker von Alberuni کے نام شائع کیا۔ یہ ترجمہ بعد ازاں 1923ء میں لائپزش سے اور 1963ء میں بغداد سے بھی شائع ہوا۔ 1879ء میں لندن سے ایڈورڈ سخاؤ کا انگریزی زبان کا ترجمہ شائع ہوا جو فی زمانہ مشہور ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]