آجیویک

From ویکیپیڈیا
(Redirected from آجیویکا)
Jump to navigation Jump to search
دائیں جانب: مہا کیشپ ایک آجیویک سے ملاقات کرتا ہے اور پری نروان سیکھتا ہے۔[1]

آجیویک (ہندی: आजीविक) ناستِک یا عام عقیدے سے ہٹ کر قدیم ہندوستانی فلسفہ تھا۔[2] ۔ یہ قدیم ہندوستانی ہلاکت پسندی کا ایک مکتب فکر بھی رہا ہے۔[3] شواہد سے ثابت کیا گیا ہے کہ اس کی تاسیس پانچویں صدی قبل مسیح میں مکھلی گوشال نے رکھی تھی۔[3] یہ ایک شرمن تحریک تھی۔ یہ ابتدائی بدھ مت اور جین مت سے سیدھے مد مقابل رہا ہے۔[4] آجیویک منظم تارکین الدنیا تھے جو اپنی الگ شناخت والے سماج کی تعمیر کر چکے تھے۔ [5]

یہ سمجھا جاتا ہے کہ آجیویک مکتب فکر کے فلسفے اصلی دستاویز کسی زمانے میں رہے تھے، مگر جدید دور میں یہ عدم دست یاب ہیں اور شاید مفقود ہو چکے ہیں۔ ان کے نظریات کو ہندوستان کے قدیم ادب سے ثانوی ماخذ کے طور پر آجیویکا کے تذکروں سے لیا گیا ہے۔[6] ماہرین اکثر یہ استفسار کرتے ہیں کہ کیا فی الواقع آجیویک فلسفے کو مناسب انداز میں اور مکمل طور پر خلاصے کے طور پر ان ثانوی مآخذ میں شامل کیا گیا ہے، کیوں کہ انہیں اس زمرے کے لوگ (جیسے کے بدھ مت اور جین مت کے پیرو کار) لکھ چکے ہیں جو ان سے مقابلہ کر رہے تھے اور آجیویکی فلسفے اور مذہبی مراسم سے متصادم تھے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ دست یات معلومات میں سے زیادہ تر آجیویکوں سے متعلق کسی نہ کسی درجے تک صحیح نہیں ہے اور اس وجہ آجیویکوں کے کردار کی کوئی بھی تصویر کشی کو غور سے اور تنقیدی نگاہوں سے لی جانی چاہیے۔

آجیویک مکتب فکر کو مکمل تقدیر کی نیتی ("انجام") کے لیے جانا جاتا ہے۔ [3] اس کے پس پردہ یہ سوچ ہے کہ آزاد مرضی جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور جو کچھ ہوا ہے، ہو رہا ہے یا ہو کر رہے گا وہ مکمل طور پر مقدر میں لکھا جا چکا ہے اور یہ تخلیق کے اصولوں میں شامل ہے۔[3][6] آجیویک کرما کے فلسفے میں غلط مانتے تھے۔ آجیویک کے الٰہیات میں یہ نظریہ شامل تھا جو ویشیشک مکتب فکر کا بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ ہر چیز سالموں سے بنی ہے اور صفات سالموں کے مجموعوں سے ابھرتی ہیں، مگر یہ مجموعے اور ان سالموں کی فطرت قدرتی طاقتوں کی جانب سے پہلے سے طے ہے۔[7] آجیویک ملحد تھے۔[8] وہ لوگ یہ مانتے تھے کہ ہر ذی حیات ایک آتما ہے – جو ہندو مت اور جین مت کا کلیدی عقیدہ ہے۔[9][10][11]

مزید دیکھیے[edit]

حواشی[edit]

  1. Marianne Yaldiz, Herbert Härtel, Along the Ancient Silk Routes: Central Asian Art from the West Berlin State Museums ; an Exhibition Lent by the Museum Für Indische Kunst, Staatliche Museen Preussischer Kulturbesitz, Berlin, Metropolitan Museum of Art, 1982, p. 78
  2. Natalia Isaeva (1993), Shankara and Indian Philosophy, State University of New York Press, آئی ایس بی این 978-0791412817, pp. 20-23
  3. ^ ا ب پ ت James Lochtefeld, "Ajivika", The Illustrated Encyclopedia of Hinduism, Vol. 1: A–M, Rosen Publishing. آئی ایس بی این 978-0823931798, page 22
  4. Jeffrey D. Long (2009), Jainism: An Introduction, Macmillan, آئی ایس بی این 978-1845116255, page 199
  5. Basham 1951، صفحات۔ 145-146.
  6. ^ ا ب Basham 1951, Chapter 1.
  7. Basham 1951، صفحات۔ 262-270.
  8. Johannes Quack (2014), The Oxford Handbook of Atheism (Editors: Stephen Bullivant, Michael Ruse), Oxford University Press, آئی ایس بی این 978-0199644650, page 654
  9. Analayo (2004), Satipaṭṭhāna: The Direct Path to Realization, آئی ایس بی این 978-1899579549, pp. 207-208
  10. Basham 1951، صفحات۔ 240-261.
  11. Basham 1951، صفحات۔ 270-273.

حوالہ جات[edit]

  • Basham، A.L. (1951). History and Doctrines of the Ājīvikas (اشاعت 2nd۔). Delhi, India: Moltilal Banarsidass (Reprint: 2002). ISBN 81-208-1204-2.  originally published by Luzac & Company Ltd., London, 1951.
  • Balcerowicz، Piotr (2015). Early Asceticism in India: Ājīvikism and Jainism (اشاعت 1st۔). Routledge. صفحہ 368. ISBN 9781317538530. مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  • Jayatilleke، K.N. (1963). Early Buddhist Theory of Knowledge (PDF) (اشاعت 1st۔). London: George Allen & Unwin Ltd. صفحہ 524. مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)
  • Warder، Anthony K. (1998). "Lokayata, Ajivaka, and Ajnana Philosophy". A Course in Indian Philosophy (اشاعت 2nd۔). Delhi: Motilal Banarsidass Publishers. صفحات 32–44. ISBN 9788120812444. مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ.  Check date values in: |archive-date= (معاونت)