آخری سواریاں (ناولا)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آخری سواریاں (ناولا)
مصنف سید محمد اشرف  ویکی ڈیٹا پر مصنف (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر اصل زبان (P364) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملک Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر آج  ویکی ڈیٹا پر ناشر (P123) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ اشاعت 1999  ویکی ڈیٹا پر تاریخ اجرا (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صفحات 175   ویکی ڈیٹا پر تعداد صفحات (P1104) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے اردو زبان  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آخری سواریاں معروف بھارتی مسلمان فکشن نگار سید محمد اشرف کا ایک ناولا ہے۔ جس پر ان کو ساہتیہ اکیڈمی نے اردو زبان کا ساہتیہ اکیڈمی اعزاز دیا۔ پہلی بار یہ ناول بھارت کے ادبی جریدے سوغات، بنگلور میں شائع ہوا۔ بعد میں یہ پاکستانی ادبی جریدے آج، کراچی میں 1999ء میں چھپا۔

پلاٹ[ترمیم]

یہ ناول مغلیہ تہذیب کے زوال کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔اس ناول کا انداز بیانیہ ہے۔ناول کا مرکزی کردار، ناول کا آغاز اپنے کالج کی چھٹیوں میں جب بھی گھر آتا ہے تو اپنے دادا کا لکھا ہوا ایک سفر نامہ یا روزنامچہ پڑھتا ہے۔جس میں اس کے دادا کے پردادا نے وسط ایشیا کی سیاحت کی تھی اور وہاں مقبرہ بی بی خانم سے واپسی پر ان کی ملاقات ،مغلیہ سلطنت کے بانی تیمور سے ہوئی تھی۔اور اس کے علاوہ انھوں نے بہادر شاہ ظفر کو معزول ہو کر رنگون جاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔اس ناول میں مرکزی کردار کے دادا اسے وہ درخت بھی دکھاتے ہیں جہاں سے ان کے دادا نے آخری مغل فرمانروابہادر شاہ ظفر کو انتہائی بے بسی کی حالت میں سر جھکا کر،پہیوں والے تخت پر رخصت ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "کتاب: آخری سواریاں"۔ جہان اردو۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)