آخوند درویزہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آخوند درویزہ ننگ رہا ری جنہیں خواص آخوند صاحب اور عوام میں آخون کے نام سے مشہور ہیں، کیونکہ آپ متبحر عالم تھے اور بہترین مدرس بھی۔ اس لیے آپ کو آخون کے نام سے پکارا گیا۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام درویزہ، والد کا نام گدا، دادا کا نام سعدی اور لقب رئیس الفضلاء ہے۔ آپ علاقہ ننگ رہا ر ملحقہ کابل 940ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا جناب سعد ی کو ننگر ہار میں شہید کیا گیا تو آپ کے والد جناب گدا مہمندوں میں آکر آبا د ہوئے۔ جناب درویزہ کی ابتدائی عمر کا بیشتر حصہ مہمندوں ہی میں گزرا، آپ کو ابتدا ہی سے طلب علم، اتباع سنت اور ترک بدعت، زہد و ریاضت کا شوق دامنگیر تھا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں ’’ معرف الٰہی اور ہول قیامت و قبر کا جذبہ بچپن ہی سے مجھ پر اتنا غالب تھا کہ میں بسا اوقات روتا رہتا اور نہ سمجھتا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ والدہ صاحبہ میری اس کیفیت کو دیکھ کر مجھے تھپڑ بھی رسید کر دیتیں۔ مگر ذوق و شوق الٰہی کی طلب بڑھتی ہی گئی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ سب سے پہلے اس وقت کے بہت بڑے عالم مصر احمد کی خدمت بابرکت میں بطور شاگرد پیش کیے گئے۔ مولانا مصراحمد جناب سید محمود صاحب بخاری ولی کامل کی اولاد سے تھے۔ انھوں نے درویزہ صاحب کو اپنے مکتب میں داخل کر کے اسباق میں مصروف کر دیا۔ پہلے سال میں قرآن مجید یاد کیا، چند ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ دوسرے برس متوسط کتابیں پڑھ لیں، آپ کا قوت حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ آپ جو کتاب پڑھتے ازبر ہوجاتی۔ اس کے بعد مزید علم کے حصول کے لیے آپ مولانا جمال الدین ہندوستانی کے پاس حاضر ہوئے۔ ان کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری سے آراستہ ہو گئے۔ آپ تقریباً سات برس ان کے پاس رہے۔ علوم متداولہ سے فراغت حاصل کر کے نے بعد حصول معرفت میں کوشاں ہوئے۔ آپ خود فر ماتے ہیں، روحانی بے قراری اور بے چینی بہت پریشان کرتی اور حصول علم کے بعد بھی اطمینان قلب میسر نہ تھا۔ آپ نے اس وقت کے ایک جامع شریعت و طریقت عالم جناب ملا سنجر کی خدمت میں اپنی اس پریشانی کا اظہار کیا۔ حالانکہ اس وقت آپ کے بیسیوں شاگرد تھے اور آپ کے علم و فضل کا کافی شہرہ ہو چکا تھا۔ جناب ملاسنجر، جناب آخوند صاحب کو لے کرشیخ الاسلام و المسلمین جانشین غوث الاعظم جناب سید علی ترمذی المشہور پیر بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جناب آخوند نے اپنے علم، زہد، ریاضت اور عبادت کا تمام حال عرض کیا اور ساتھ ہی اپنی پریشانی کا بھی تذکر ہ کیا۔ جناب پیربابا صاحبؒ نے متبسمانہ انداز میں فرمایا۔ افغانوں کے شیخ کامل بن گئے ہو۔ مگر ارشاد فرمایا یہ طریقہ صحیح نہ اس لیے کہ بغیر شیخ کامل کی اجازت کے زہد و ریاضت کا انجام گمراہی کے کھڈے میں گرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا مبتدی کو چاہیے کہ زہد و ریاضت اس طریقے پر کرے جو طریقہ جناب سید پاک ﷺ سے ثابت ہے اور بھی نصیحتیں فرمائیں۔ اور اس کے بعد آخوند نے تجدید توبہ کروائی اور نماز باجماعت، ایام بیض کے روزے، صلواۃ اوابین اور دیگر واجبات و سنن پر مستقیم رہنے کی تاکید فرمائی۔ آپ قاشقارپہنچے۔ ان دشوار گزار پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے وارد ’’کشمیر‘‘ ہوئے۔ اورپھر واپس لوٹے، اثناء سفر میں بھی آپ علما ء صلحا ء اور فقرا ء سے استفاد ہ حاصل کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں جناب فضیلت مآب ملاباسی کی خدمت میں رہ کر خوب فیض پایا۔ فرماتے ہیں جب واپس اپنے شیخ کی خدمت با برکت میں پہنچے توپیر بابا نے ہر چہار سلاسل میں آپ کو ماذون اور معنعن فرمایا۔ ( یعنی سلسلہ، چشتیہ، سہروردیہ، کبرویہ اور شطاریہ میں) اور سلسلہ عالیہ منصوریہ حلاجیہ میں اجازت مرحمت نہیں فرمائی فرماتے ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ کی تصانیف جو شائع ہوئی ہیں مندرجہ ذیل ہیں۔

  • 1۔ تذکرۃ الابرار و الاشرار:یہ کتاب علما متقین، اولیاا للہ اوراس وقت کے ملحدین کے حالات پر مشتمل ہے، اس میں پہلے تذکرہ میں جناب پیر بابا کا ذکر خیر ہے، دوسرے تذکرے میں افغان قوم کی تاریخ کہ اس قوم کی ابتدا کیا ہے اور کس طرح مختلف ملکوں کے تحت ہوئی۔ ماہیت انساب کا بیان، او راپنا اس قوم سے تعلق، اس کے بعد سلسلہ ہائے طریقت کا ذکر، تیسرے تذکرہ میں ان تمام (بقول ان کے ) اشقیا اور ملحدین کا ذکر ہے جس کے ساتھ آپ کے پیر و مرشد یا آپ نے بحث و مناظرہ کیے۔ یہ کتاب صفحہ 235 پر مشتمل ہے
  • 2۔ ارشاد الطالبین: یہ کتاب ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں چار ابواب اور ایک خاتمۃ الکتاب ہے۔
  • 3۔ ارشاد المریدین : آپ نے اس کتاب کی ضرورت کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پیر اور مرید دونوں صحیح طریقہ طریقت اختیار کریں، ملاحدہ کی اطاعت نہ کریں
  • 4۔ مخزن الاسلام : آپ کی یہ کتاب ادھوری رہی۔ مگر آپ کے فرزند ارجمند مولانا عبد الکریم صاحب نے اس کو مکمل کیا۔ صرف یہ کتاب پشتو زبان میں ہے۔ اور باقی تمام کتابیں فصیح و بلیغ فارسی زبان میں ہیں۔
  • 5۔ قصیدۃ الامالی : کی شرح فارسی زبان میں آپ نے لکھی۔ عقائد پر یہ کتاب عربی نظم میں ہے اور آپ نے فارسی میں شرح نثر میں لکھی ہے۔
  • 6۔ شرح اسماء الحسنٰی : اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں کی شرح فارسی میں لکھی ہے

وصال[ترمیم]

آخوند درویزہ کا وصال 1048ھ میں ہوا۔ ان کا مزار پشاور سے مشرق کی طرف ایک میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور مرجع عوام ہے۔ آپ کے مزار کے گرد میلوں میں پھیلا ہوا قبرستان بھی آپ کے نام سے موسوم ہے ۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما ومشائخ سرحد ،جلد اول،صفحہ 25 تا38 محمد امیر شاہ قادری،مکتبہ الحسن یکہ توت پشاور
  2. دائرہ معارف اسلامیہ جلد 2 صفحہ211 جامعہ پنجاب لاہور

خارجی روابط[ترمیم]