آدم (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(آدم علیہ السلام سے رجوع مکرر)
آدم

الله کے اولین پیغمبر۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ کحھ علما کے نزدیک آپ کا وقت 4452قبل مسیح ہے۔[1]آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ umairatta.com (Error: unknown archive URL)[2]آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ umairatta.com (Error: unknown archive URL)[3]آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ umairatta.com (Error: unknown archive URL)

تعارف[ترمیم]

آدم علیہ السلام
پیدائش جنت میں بروز جمعہ
وفات جمعہ کے دن ہوئی۔ 960 سال عمر پائی۔
وجہ وفات طبعی
قبر سعودی عرب
زبان عربی
زوجہ حوا
صحائف آپ پر دس صحائف نازل ہوئے
کنیت ابوالبشر
رتبہ نبی
آسمانی کتابوں میں ذکر آدم، ادم، آدام کے نام سے
پیشرو نبی اِن سے پہلے کوئی انسان نہ تھا
جانشین نبی شیث ٔ

حضرت آدم ؑ کا مختصر واقعہ[ترمیم]

قرآن[ترمیم]

قرآن مجید میں ہے کہ آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی (اور ہم نے بنایا آدمی کھنکھناتے سنسنے گارے سے ) سورت 15 آیات 26۔ چنانچہ روایت ہے کہ جب خداوند قدوس عزوجل نے آپ کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین سے ایک مٹھی مٹی لائیں۔ حکمِ خداوندی عزوجل کے مطابق عزرائیل علیہ السلام نے آسمان سے اتر کر زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی تو پوری روئے زمین کی اوپری پرت چھلکے کے مانند اتر کر آپ کی مٹھی میں آگئی۔ جس میں ساٹھ رنگوں اور مختلف کیفیتوں والی مٹیاں تھیں یعنی سفید و سیاہ اور سرخ و زرد رنگوں والی اور نرم و سخت، شیریں و تلخ، نمکین و پھیکی وغیرہ کیفیتوں والی مٹیاں شامل تھی ۔[1]

فرشتوں کا سجده کرنا[ترمیم]

تخلیق کے بعد اللہ تعالٰی نے آدم کو خلیفۃ اللہ فی الارض قرار دیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کرو۔ ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور وہ جِنوں میں سے تھا۔ ابلیس نافرمانی کے سبب راندۂ درگاہ ٹھہرا۔ آدم جنت میں رہتے تھے۔

اماں حوا علیہا السلام کی پیدائش[ترمیم]

کچھ عرصے بعد اللہ تعالٰی نے ان کی بائیں پسلی سے ایک عورت پیدا کی۔ حوا اس کا نام رکھا۔ ان دونوں کو حکم ہوا کہ جنت کی جو نعمت چاہو، استعمال کرو مگر اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان کے بہکانے پر انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔ اس پاداش میں آدم ؑ اور حواؑ کو جنت سے زمین کی طرف بھیج دیا گیا۔ اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں کہ:
ہم نے انسان کو ضعیف،کمزوراور جلد باز پیدا کیا۔

نام کے معنی[ترمیم]

انگریزی میں (Adam) یہ دو حصوں میں پر مشتمل ہے آد+ئم اس کے معنی الارض(زمین )کے ہیں [2] ترمذی اور ابو داؤد میں یہ حدیث ہے کہ آدم علیہ السلام کا پتلا جس مٹی سے بنایا گیا چونکہ وہ مختلف رنگوں اور مختلف کیفیتوں کی مٹیوں کا مجموعہ تھی اسی لیے آپ کی اولاد یعنی انسانوں میں مختلف رنگوں اور قسم قسم کے مزاجوں والے لوگ ہو گئے۔[3] بعض روایات کے مطابق ہبوط آدمؑ کا مقام جزیدہ سراندیپ (سری لنکا) تھا۔ یہاں یہ دونوں دو سو سال تک ایک دوسرے سے جدا رہے۔ آخر خدا نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور جبریلؑ انھیںمکہ کے قریب جبل عرفات پر چھوڑ آئے۔ طبری اور ابن الاثیر کی روایت کے موجب اللہ تعالیٰ نے آدمّ کو یہاں کعبہ بنانے کا حکم دیا اور جبرئیلّ نے انھیں مناسک ادا کرنے کے طریقے بتائے۔ اس طرح آپ نے عمر 960 برس کی عمر پائی۔ اور بقول یعقوبی جبل ابوقیس کے دامن میں مغارۃ الکنوز "خزانوں کے غار" میں دفن ہوئے۔

  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سعودی عرب میں مسجد خیف کے صحن میں ہے۔
  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سعودی عرب کی مسجد خیف کے اندر واقع ہے۔
  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سری لنکا میں اترنے کے مقام پر واقع ہے۔
  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک عراق میں واقع ہے۔

حضرت آدم ؑ کا تفصیلاََ واقعہ[ترمیم]

انسانِ اوّل[ترمیم]

حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق قرآن عزیز نے جو حقائق بیان کئے ہیں ان کے تفصیلی تذکرہ سے پہلے یہ واضح ہوجانا ضروری ہے کہ انسان کے عالم وجود میں آنے کا مسئلہ آج علمی نقطہ نگاہ سے بحث کا ایک نیا دروازہ کھولتا ہے یعنی ارتقاء (Evolution ) کا یہ دعویٰ ہے کہ موجودہ انسان اپنی ابتدائی تخلیق وتکوین ہی سے انسان پیدا نہیں ہوا بلکہ کائنات ہست و بود میں اس نے بہت سے مدارج طے کرکے موجودہ انسانی شکل حاصل کی ہے ‘ اس لیے کہ مبدئ حیات نے جمادات و نباتات کی مختلف شکلیں اختیار کرکے ہزاروں ‘ لاکھوں برس بعد درجہ بدرجہ ترقی کرتے کرتے اوّل لبونہ (پانی کی جونک) کا لباس پہنا اور پھر ایسی ہی طویل مدت کے بعد حیوانات کے مختلف چھوٹے بڑے طبقات سے گزر کر موجودہ انسان کی شکل میں وجود پذیر ہوا۔اور مذہب یہ کہتا ہے کہ خالق کائنات نے انسان اوّل کو آدم (علیہ السلام) کی شکل میں ہی پیدا کیا اور پھر اس کی طرح ایک ہم جنس مخلوق حوا [ کو وجود دے کر کائنات ارضی پر نسل انسانی کا سلسلہ قائم کیا ‘ اور یہی وہ انسان ہے جس کو خالق کائنات نے عام مخلوق پر برتری اور بزرگی عطا فرمائی اور امانت الٰہی کا بار گراں اس کے سپرد فرمایا اور کل کائنات کو اس کے ہاتھ میں مسخر کر کے خلافت و نیابت الٰہی کا شرف اس ہی کو بخشا۔

{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ } [4] ” بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین اندازہ سے بنایا۔ “ { لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ } [5] ” بلاشبہ ہم نے نسل آدم کو تمام کائنات پر بزرگی اور برتری بخشی۔ “ { اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً } [6] ” میں زمین پر ( آدم (علیہ السلام) کو ) اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “ { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَ بَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْھَا وَ حَمَلَھَا الْاِنْسَانُ } [7] ” ہم نے بار امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انھوں نے (کل کائنات نے) امانت الٰہی کے بار کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس بار گراں کو اٹھا لیا۔ “ اب غور طلب بات یہ ہے کہ نظریہ ارتقاء (Evolution ) اور مذہب کے درمیان اس خاص مسئلہ میں علمی تضاد ہے یا تطبیق کی گنجائش نکل سکتی ہے خصوصاً جبکہ علم اور تجربہ نے یہ حقیقت واشگاف کردی ہے کہ دینی اور مذہبی حقائق اور علم کے درمیان کسی بھی موقف پر تضاد نہیں ہے. اور اگر ظاہر سطح میں کہیں ایسا نظر بھی آتا ہے تو وہ علم کے بعض حقائق مستور ہونے کی وجہ سے نظر آتا ہے کیونکہ بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی علم کے مستور حقائق سے پردہ اٹھا تو اسی وقت تضاد بھی جاتا رہا اور وہی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی جس کا اظہار وحی الٰہی کے ذریعہ ہوچکا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ دیجئے کہ علم اور مذہب کے درمیان اگر کسی وقت بھی تضاد نظر آیا تو نتیجہ میں علم کو اپنی جگہ چھوڑنی پڑی اور وحی الٰہی کا فیصلہ اپنی جگہ اٹل رہا۔ اس بنا پر اس جگہ بھی قدرتی طور پر یہ سوال سامنے آجاتا ہے کہ اس خاص مسئلہ میں حقیقت حال کیا ہے اور کس طرح ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اس موقف پر بھی علم (ارتقاء) اور مذہب کے درمیان تضاد نہیں ہے البتہ یہ مسئلہ چونکہ دقیق نکتہ سنجیوں کا حامل ہے اس لیے یہ مقام اس کے تفصیلی مباحث کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اسی کتاب کے کسی دوسرے مقام پر زیربحث آسکے گا۔ تاہم اس جگہ یہ حقیقت ضرور پیش نظر رہنی چاہیے کہ انسان اوّل (جو کہ موجودہ نسل انسان کا باوا آدم ہے) خواہ ارتقائی (Evolution ) نظریہ کے مطابق درجہ بہ درجہ انسانی شکل تک پہنچا ہو یا ابتدائ تخلیق ہی کے وقت سے انسانی صورت میں وجود پذیر ہوا ہو علم اور مذہب دونوں کا اس پر اتفاق ہے کہ موجودہ انسان ہی اس کائنات کی سب سے بہترین مخلوق ہے اور عقل و دانش کا یہ پیکر ہی اپنے اعمال و کردار کیلئے جو ابدہ ہے اور دستور و قانون کا مکلف ! یا اس طرح تعبیر کرلیجئے کہ انسانی کردار اور اس کے علمی وعملی نیز اخلاقی عوامل ومحرکات کے پیش نظر اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ اس کی تخلیق وتکوین اور عالم وجود میں آنے کی تفصیلات کیا ہیں بلکہ اہمیت کا موقف یہ ہے کہ اس عالم کون ومکان میں اس کا وجود یونہی بےمعنی اور بےمقصد وجود میں آیا ہے یا اس کی ہستی اپنے اندر عظیم مقصد لے کروجود پذیر ہوئی ہے ؟ کیا اس کے افعال و اقوال اور کردار و گفتار کے اثرات لا یعنی ہیں ؟ کیا اس کی مادی و روحانی قدریں سب کی سب مہمل اور بےنتیجہ ہیں یا بیش بہا ثمرات کی حامل اور پر از حکمت ہیں ؟ اور کیا اس کی زندگی اپنے اندر کوئی روشن و تابناک حقیقت رکھتی ہے یا تیرہ و تاریک مستقبل کا پتہ دیتی ہے اور اس کا ماضی اور حال اپنے مستقبل سے بےبہرہ ہے ؟ پس اگر ان حقائق کا جواب نفی میں نہیں بلکہ اثبات میں ہے تو پھر قدرتی طور پر یہ تسلیم کرنا ہی ہوگا کہ اس کی کیفیت پیدائش پر بحث کی بجائے اس کے وجود کے مقصد پر پوری نگاہ رکھی جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ اس اشرف المخلوقات ہستی کا وجود بلاشبہ مقصد عظیم کا پتہ دیتا ہے اور اس لیے اس کی اخلاقی قدروں کا ضرور کوئی مثل اعلیٰ اور اس کی تخلیق کی کوئی غایت ہے۔ قرآنِ عزیز نے اسی لیے حضرت انسان سے متعلق مثبت اور منفی ہر دو پہلو کو واضح کرکے انسانی ہستی کی عظمت کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ خالق کائنات کی قدرت تخلیق وتکوین میں انسان کی تخلیق ” احسن تقویم “ کا درجہ رکھتی ہے اور اسی وجہ سے وہ تمام کائنات کے مقابلہ میں ” تکریم و تعظیم “ کا مستحق ہے اور اپنے حسن تقویم اور لائق تکریم ہونے کی بنا پر بلاشبہ وہی امانت الٰہی کا علمبردار ہو کر ” خلیفۃ اللہ “ کے منصب پر فائز ہونے کا حق رکھتا ہے اور جب یہ سب کچھ اس میں ودیعت ہے تو پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کی ہستی کو یونہی بےمقصد اور بےنتیجہ چھوڑ دیا جاتا ؟

{ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی } [8] ” کیا لوگوں (انسانوں ) نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ بےمقصد چھوڑ دیئے جائیں گے۔ “ اور ضروری ہے کہ عقل و شعور کے اس پیکر کو تمام کائنات سے ممتاز بنا کر نیک و بد کی تمیز عطا کی جائے برائی سے پرہیز اور بھلائی کے اختیار کا مکلف بنایا جائے۔ { خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی } [9] ” (اللہ تعالیٰ نے) انسان کو پیدا کیا اور پھر (نیکی و بدی کی) راہ دکھلائی۔ “ { وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ } [10] ” پھر ہم نے انسان کو دونوں راستے (نیکی و بدی کے) دکھلائے۔ “ غرض قرآن عزیز کی تذکیر و دعوت ‘ اوامرو نواہی ‘ اور رشدو ہدایت کا مخاطب اور مبدء ومعاد کا محور و مرکز صرف یہی ہستی ہے جس کو ” انسان “ کہتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن عزیز نے انسان اوّل کی تخلیقی کوائف و تفصیلات کو نظر انداز کرکے اس کے ” مبدء و معاد “ کے مسائل ہی کو اہمیت دی ہے۔

ذکر آدم (علیہ السلام) سے متعلق آیات قرآنی[ترمیم]

قرآن عزیز میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا نام پچیس مرتبہ پچیس آیات میں آیا ہے جو ذیل کی جدول سے ظاہر ہوتا ہے : نمبر سورة سورة آیات شمار ٢ البقرہ ٣١‘ ٣٣‘ ٣٤‘ ٣٥‘ ٣٧ ٥ ٣ آل عمران ٣٣‘ ٥٩ ٢ ٥ المائدہ ٢٧ ١ ٧ الاعراف ١١‘ ١٩‘ ٢٦‘ ٢٧‘ ٣١‘ ٣٥‘ ١٧٢ ٧ ١٧ الاسراء ٦١‘ ٧٠ ٢ ١٨ الکہف ٥٠ ١ ١٩ مریم ٥٨ ١ ٢٠ طٰہ ١١٥‘ ١١٦‘ ١١٧‘ ١٢٠‘ ١٢١ ٥ ٣٦ یٰسٓ ٦٠ ١ قرآن عزیز میں انبیاء ۔ کے تذکروں میں سب سے پہلا تذکرہ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) کا ہے اور حسب ذیل سورتوں میں بیان کیا گیا ہے : سورة بقرہ ‘ اعراف ‘ اسراء ‘ کہف اورطٰہٰ میں نام اور صفات دونوں کے ساتھ اور سورة حجر و سورة ص میں فقط ذکر صفات کے ساتھ اور آل عمران ‘ مائدہ ‘ مریم اور یٰسٓ میں صرف ضمنی طور پر نام لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اوپر کی تمام سورتوں اور آیتوں میں اگرچہ اسلوب بیان ‘ طرزِادا اور لطیف تعبیر کے اعتبار سے مختلف نظر آتا ہے ‘ لیکن مقصد اور واقعہ کے اعتبار سے ایک ہی حقیقت ہے جو مختلف تعبیرات میں موعظت و عبرت کے پیش نظر حسب موقع بیان کی گئی ہے۔ قرآن عزیزان تاریخی واقعات کو محض اس لیے نہیں بیان کرتا کہ وہ واقعات ہیں جن کا ایک تاریخ میں درج ہونا ضروری ہے بلکہ اس کا مقصد وحید یہ ہے کہ وہ ان واقعات سے پیدا شدہ نتائج کو انسانی رشد و ہدایت کے لیے موعظت و عبرت بنائے اور انسانی عقل و جذبات سے اپیل کرے کہ وہ نوامیس و قوانین فطرت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ان تاریخی نتائج سے سبق حاصل کریں اور ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اس کا یدِ قدرت ہی اس تمام ہست و بود پر کار فرما ہے ‘ اور اسی مذہب کے احکام کی پیروی میں فلاح و نجات اور ہر قسم کی ترقی کا راز مضمر ہے جس کا نام مذہب فطرت یا اسلام ہے۔ قرآن عزیز کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف سورتوں میں ان سورتوں کے مضامین کے مناسب نئے اور اچھوتے انداز میں بیان کرنے کے باوجود واقعہ کی اصل حقیقت اور اس کی متانت و سنجیدگی میں ادنیٰ سا فرق بھی نہیں آنے دیتا ‘ کہیں واقعہ کی تفصیل ہے تو کہیں اجمال ‘ کسی مقام پر اس کا ایک پہلو نظر انداز کردیا گیا ہے تو دوسرے مقام پر اسی کو سب سے زیادہ نمایاں حیثیت دی گئی ہے ‘ ایک جگہ اسی واقعہ سے مسرت و انبساط اور لذت و سرور پیدا کرنے والے نتائج نکالے گئے ہیں تو دوسری جگہ واقعہ میں معمولی سا تغیر کئے بغیر خوف و دہشت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے ‘ بلکہ بعض مرتبہ ایک ہی مقام پر لذت والم دونوں کا مظاہرہ نظر آتا ہے ‘ مگر موعظت و عبرت کے اس تمام ذخیرہ میں ناممکن ہے کہ نفس واقعہ کی حقیقت اور متانت میں معمولی سا بھی تغیر پیدا ہوجائے۔ بلاشبہ یہ کلام الٰہی کے ہی شایان شان ہے اور اعجاز قرآن کے عنوان سے معنون اور متضاد صفات کے حامل ” حضرت انسان “ کی فصاحت و بلاغت کے مدارج علیا کی دسترس سے باہر ! { اَفَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَط وَ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا } [11] ” کیا وہ قرآن کے متعلق غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟ اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر کا کلام ہوتا تو بلاشبہ وہ اس میں (قِسم قِسم کے ) تضاد اور اختلاف کو پاتے۔ “

پیدائش آدمؑ فرشتوں کو سجدہ کا حکم ‘ شیطان کا انکار[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ‘ اور ان کا خمیر تیار ہونے سے قبل ہی اس نے فرشتوں کو یہ اطلاع دی کہ عنقریب وہ مٹی سے ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہے جو بشر کہلائے گی ‘ اور زمین میں ہماری خلافت کا شرف حاصل کرے گی۔ آدم (علیہ السلام) کا خمیر مٹی سے گوندھا گیا اور ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو نت نئی تبدیلی قبول کرلینے والی تھی ‘ جب یہ مٹی پختہ ٹھیکری کی طرح آواز دینے اور کھنکھنانے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اس جسد خاکی میں روح پھونکی اور وہ یک بیک گوشت پوست ‘ ہڈی ‘ پٹھے کا زندہ انسان بن گیا اور ارادہ ‘ شعور ‘ حس ‘ عقل اور وجدانی جذبات و کیفیات کا حامل نظر آنے لگا۔ تب فرشتوں کو حکم ہوا کہ تم اس کے سامنے سر بہ سجود ہو جاؤ ‘ فوراً تمام فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی مگر ابلیس (شیطان) نے غرور و تمکنت کے ساتھ صاف انکار کردیا۔ قرآن عزیز کی ان آیات میں واقعہ کے اسی حصہ کو بیان کیا گیا ہے : { وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَط اَبٰی وَاسْتَکْبَرَز وَ کَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ وَ قُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَاص وَ لَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ } [12] اور پھر (دیکھو) جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آدم کے آگے سر بہ سجود ہو جاؤ ‘ وہ جھک گئے ‘ مگر ابلیس کی گردن نہیں جھکی ‘ اس نے نہ مانا ‘ اور گھمنڈ کیا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا پھر (ایسا ہوا کہ) ہم نے آدم سے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو جس طرح چاہو ‘ کھاؤ پیو ‘ امن چین کی زندگی بسر کرو ‘ مگر دیکھو وہ جو ایک درخت ہے ‘ تو کبھی اس کے پاس نہ پھٹکنا ‘ اگر تم اس کے قریب گئے ‘ تو (یہ نتیجہ نکلے گا کہ ) حد سے تجاوز کر بیٹھو گے ‘ اور ان لوگوں میں سے ہو جاؤ گے جو زیادتی کرنے والے ہیں۔ “ { وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ } [13] ” اور (دیکھو یہ ہماری ہی کار فرمائی ہے کہ ) ہم نے تمہیں پیدا کیا (یعنی تمہارا وجود پیدا کیا) پھر تمہاری (یعنی نوع انسانی کی) شکل و صورت بنادی ‘ پھر (وہ وقت آیا کہ) فرشتوں کو حکم دیا ” آدم کے آگے جھک جاؤ “ اس پر سب جھک گئے ‘ مگر ابلیس کہ جھکنے والوں میں نہ تھا۔ “ { وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَأٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۔ وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّآ اِبْلِیْسَط اَبٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ۔ } [14] اور بلاشبہ یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو خمیر اٹھے ہوئے گارے سے بنایا ‘ جو سوکھ کے بجنے لگتا ہے اور ہم ” جن “ کو اس سے پہلے جلتی ہوئی ہوا کی گرمی سے پیدا کرچکے تھے ‘ اور (اے پیغمبر ! ) جب ایسا ہوا تھا کہ تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا ” میں خمیر اٹھے ہوئے گارے سے جو سوکھ کر بجنے لگتا ہے ‘ ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں (یعنی نوع انسانی پیدا کرنے والا ہوں) تو جب ایسا ہو کہ میں اسے درست کر دوں (یعنی وہ وجود تکمیل کو پہنچ جائے) اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو چاہیے کہ تم سب اس کے آگے سر بہ سجود ہو جاؤ “ چنانچہ جتنے فرشتے تھے سب اس کے آگے سر بہ سجود ہوگئے ‘ مگر ایک ابلیس ‘ اس نے انکار کیا کہ سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں۔ “ { وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ وَ ھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّط بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا }[15] ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا ” آدم کے آگے جھک جاؤ “ اور سب جھک گئے تھے مگر ابلیس نہیں جھکا تھا ‘ وہ جنوں میں سے تھا ‘ پس اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا پھر کیا تم مجھے چھوڑ کر ( کہ تمہارا پروردگار ہوں) اسے اور اس کی نسل کو کار ساز بناتے ہو ‘ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ (دیکھو) ظلم کرنے والوں کیلئے کیا ہی بری تبدیلی ہوئی ! “ { اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌم بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ۔ فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سَاجِدِیْنَ ۔ فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ ۔ اِلَّا اِبْلِیْسَط اِسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ۔ } [16] ” اور وہ وقت یاد کرو جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں ‘ پس جب میں اس کو بنا سنوار لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں ‘ تو سب فرشتے اس کیلئے سر بہ سجود ہو جاؤ پس سب ہی نے سجدہ کیا ‘ مگر ابلیس نے نہ مانا ‘ گھمنڈ کیا اور وہ (علم الٰہی میں پہلے ہی) کافروں میں سے تھا۔ “

سجدہ سے انکار کرنے پر ابلیس کا مناظرہ[ترمیم]

اللہ تعالیٰ اگرچہ عالم الغیب اور دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اور ماضی ‘ حال اور استقبال سب اس کیلئے یکساں ہیں مگر اس نے امتحان و آزمائش کیلئے ابلیس (شیطان) سے سوال کیا : { مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ } [17] ” کس بات نے تجھے جھکنے سے روکا جب کہ میں نے حکم دیا تھا ؟ “ ابلیس نے جواب دیا : { اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ } [18] ” اس بات نے کہ میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔ “ شیطان کا مقصد یہ تھا کہ میں آدم سے افضل ہوں ‘ اس لیے کہ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آگ بلندی و رفعت چاہتی ہے اور آدم مخلوق خاکی ‘ بھلا خاک کو آگ سے کیا نسبت ؟ اے خدا ! پھر تیرا یہ حکم کہ ناری خاکی کو سجدہ کرے کیا انصاف پر مبنی ہے ؟ میں ہر حالت میں آدم سے بہتر ہوں ‘ لہٰذا وہ مجھے سجدہ کرے نہ کہ میں اس کے سامنے سر بہ سجود ہوں ‘مگر بدبخت شیطان اپنے غرور وتکبر میں یہ بھول گیا کہ جب تو اور آدم (علیہ السلام) دونوں خدا کی مخلوق ہو ‘ تو مخلوق کی حقیقت خالق سے بہتر خود وہ مخلوق بھی نہیں جان سکتی ‘ وہ اپنی تمکنت اور گھمنڈ میں یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ مرتبہ کی بلندی و پستی اس مادہ کی بنا پر نہیں ہے جس سے کسی مخلوق کا خمیر تیار کیا گیا ہے بلکہ اس کی ان صفات پر ہے جو خالق کائنات نے اس کے اندرو دیعت کی ہیں۔ بہرحال شیطان کا جواب چونکہ غرور وتکبر کی جہالت پر مبنی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر واضح کردیا کہ جہالت سے پیدا شدہ کبرونخوت نے تجھ کو اس قدر اندھا کردیا ہے کہ تو اپنے خالق کے حقوق اور احترام خالقیت سے بھی منکر ہوگیا ‘ اس لیے مجھ کو ظالم قرار دیا اور یہ نہ سمجھا کہ تیری جہالت نے تجھ کو حقیقت کے سمجھنے سے درماندہ و عاجز بنادیا ہے پس تو اب اس سرکشی کی وجہ سے ابدی ہلاکت کا مستحق ہے اور یہی تیرے عمل کی قدرتی پاداش ہے۔

ابلیس کی طلب مہلت[ترمیم]

ابلیس نے جب دیکھا کہ خالق کائنات کے حکم کی خلاف ورزی ‘ تکبر و رعونت اور خدائے تعالیٰ پر ظلم کے الزام نے ہمیشہ کیلئے مجھ کو رب العٰلمین کی آغوش رحمت سے مردود اور جنت سے محروم کردیا ‘ تو توبہ اور ندامت کی جگہ اللہ تعالیٰ سے یہ استدعا کی کہ تاقیام قیامت مجھ کو مہلت عطاکر اور اس طویل مدت کیلئے میری زندگی کی رسی کو دراز کر دے۔ حکمت الٰہی کا تقاضا بھی یہی تھا ‘ لہٰذا اس کی درخواست منظور کرلی گئی ‘ یہ سن کر اب اس نے پھر ایک مرتبہ اپنی شیطنت کا مظاہرہ کیا ‘ کہنے لگا ! جب تو نے مجھ کو راندہ درگاہ کر ہی دیا تو جس آدم کی بدولت مجھے یہ رسوائی نصیب ہوئی میں بھی آدم کی اولاد کی راہ ماروں گا اور ان کے پس وپیش ‘ ارد گرد اور چہار جانب سے ہو کر ان کو گمراہ کروں گا ‘ اور ان کی اکثریت کو تیرا ناسپاس اور ناشکرگزار بنا چھوڑوں گا ‘ البتہ تیرے ” مخلص بندے “ میرے اغوا کے تیر سے گھائل نہ ہو سکیں گے اور ہر طرح سے محفوظ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم کو اس کی کیا پروا ‘ ہماری فطرت کا قانون ” مکافاتِ عمل و پاداشِ عمل “ اٹل قانون ہے ‘ پس جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا ‘ جو بنی آدم مجھے سے رو گردانی کرکے تیری پیروی کرے گا وہ تیرے ساتھ ہی عذاب الٰہی (جہنم) کا سزاوار ہوگا ‘ جا اپنی ذلت و رسوائی اور شومی قسمت کے ساتھ یہاں سے دور ہو اور اپنی اور اپنے پیرؤوں کی ابدی لعنت (جہنم) کے منتظر رہو۔ قرآن مجید کی حسب ذیل آیات ان ہی تفصیلات پر روشنی ڈالتی ہیں : { مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَط قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ۔ قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ ۔ قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِھِمْط وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ۔ قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْئُوْمًا مَّدْحُوْرًاط لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ } [19] ” کس بات نے تجھے جھکنے سے روکا جبکہ میں نے حکم دیا تھا ؟ “ کہا ” اس بات نے کہ میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔ “ فرمایا ” جنت سے نکل جا۔ تیری یہ ہستی نہیں کہ یہاں رہ کر سرکشی کرے۔ یہاں سے نکل دور ہو۔ یقیناً تو ان میں سے ہوا جو ذلیل و خوار ہیں۔ “ ابلیس نے کہا ” مجھے اس وقت تک کیلئے مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد ) اٹھائے جائیں گے۔ “” تجھے مہلت ہے “ اس پر ابلیس نے کہا ”چونکہ تو نے مجھ پر راہ بند کردی ‘ تو اب میں بھی ایسا ضرور کروں گا کہ تیری سیدھی راہ سے بھٹکانے کیلئے بنی آدم کی تاک میں بیٹھوں ‘ پھر سامنے سے ‘ پیچھے سے ‘ داہنے سے ‘ بائیں سے (غرض کہ ہر طرف سے) ان پر آؤں اور تو ان میں سے اکثروں کو شکرگزار نہ پائے گا “ خدا نے فرمایا : ” یہاں سے نکل جا ‘ ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ بنی آدم میں سے جو کوئی تیری پیروی کرے گا تو (وہ) تیرا ساتھی ہوگا۔ اور میں البتہ ایسا کروں گا کہ (پاداش عمل) میں تم سب سے جہنم بھر دوں ! “ { قَالَ یٰٓاِبْلِیْسُ مَا لَکَ اَلَّا تَکُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ ۔ قَالَ لَمْ اَکُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ ۔ وَّ اِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ۔ وَ اِنَّ جَھَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ } [20] ” اللہ نے فرمایا : ” ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ؟ “ کہا ” مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے خمیر اٹھے ہوئے گارے سے بنایا ہے جو سوکھ کر بجنے لگتا ہے “ حکم ہوا ” اگر ایسا ہے تو یہاں سے نکل جا ‘ کہ تو راندہ ہوا اور جزا کے دن تک تجھ پر لعنت ہوئی “ اس نے کہا : ”

خدایا ! مجھے اس دن تک مہلت دے جب انسان (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے۔ “ فرمایا : ” اس مقررہ وقت کے دن تک تجھے مہلت دی گئی۔ “ اس نے کہا : ” خدایا ! چونکہ تو نے مجھ پر (نجات وسعادت کی) راہ بند کردی ‘ تو اب میں ضرور ایسا کروں گا کہ زمین میں ان کیلئے جھوٹی خوشنمائیاں بنادوں اور (راہِ حق سے ) گمراہ کر دوں ‘ ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہوں گے (میں جانتا ہوں ) میرے بہکانے میں آنے والے نہیں۔ “ فرمایا : ” بس یہی سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچانے والی ہے ‘ جو میرے (مخلص ) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں چلے گا۔ صرف انہی پر چلے گا جو (بندگی کی) راہ سے بھٹک گئے اور ان سب کیلئے جہنم کے عذاب کا وعدہ ہے (جو کبھی ٹلنے والا نہیں) “ { وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ قَالَ ئَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا ۔ قَالَ اَرَئَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّز لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًا ۔ قَالَ اذْھَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآئً مَّوْفُوْرًا۔ وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْھُمْط وَ مَا یَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا ۔ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌط وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا ۔ } [21] ” اور (دیکھو) جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا : ” آدم کے آگے جھک جاؤ “ اس پر سب جھک گئے مگر ایک ابلیس نہ جھکا اس نے کہا : ” کیا میں ایسی ہستی کے آگے جھکوں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے ؟ “ نیز اس نے کہا ” کیا تیرا یہی فیصلہ ہوا کہ تو نے اس (حقیر) ہستی کو مجھ پر بڑائی دی ؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں ضرور اس کی نسل کی بیخ و بنیاد اکھاڑ کے رہوں ‘ تھوڑے آدمی اس ہلاکت سے بچیں ‘ اور کوئی نہ بچے۔ “ اللہ نے فرمایا : ” جا اپنی راہ لے ‘ جو کوئی بھی ان میں سے تیرے پیچھے چلے گا ‘ تو اس کیلئے اور تیرے لیے جہنم کی سزا ہوگی پوری پوری سزا ‘ ان میں سے جس کسی کو تو اپنی صدائیں سنا کر بہکا سکتا ہے ‘ بہکانے کی کوشش کرلے ‘ اپنے لشکر کے سواروں اور پیادوں سے حملہ کر ‘ ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا ‘ ان سے (طرح طرح کی باتوں کے) وعدے کر اور شیطان کے وعدے تو اس کے سواکچھ نہیں ہیں کہ سر تا سر دھوکا ‘ جو میرے (سچے) بندے ہیں ان پر تو قابو پانے والا نہیں ‘ تیرا پروردگار کارسازی کیلئے بس کرتا ہے۔ “ { قَالَ یَا اِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّط اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ۔ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُط خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ ۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ ۔ وَاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ قَالَ فَالْحَقُّز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ۔ لاَمْلَاَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ } [22] ” فرمایا اے ابلیس ! کس چیز نے روک دیا تجھ کو کہ سجدہ کرے اس کو جس کو میں نے بنایا اپنے (قدرت کے) ہاتھوں سے ‘ یہ تو نے غرور کیا یا تو بڑا تھا درجہ میں ‘ بولا میں بہتر ہوں اس سے ‘ مجھ کو بنایا آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے ‘ فرمایا تو تو نکل یہاں سے کہ تو مردود ہوا اور تجھ پر میری پھٹکار ہے اس جزا کے دن تک ‘ بولا ‘اے رب ! مجھ کو ڈھیل دے اس دن تک جس دن مردے جی اٹھیں۔ فرمایا تجھ کو ڈھیل ہے ‘ اس وقت کے دن تک جو معلوم ہے ‘ بولا تو قسم ہے تیری عزت کی میں گمراہ کروں گا ان سب کو ‘ مگر جو بندے ہیں تیرے ان میں چنے ہوئے ‘ فرمایا ‘ تو ٹھیک بات یہ ہے اور میں ٹھیک ہی کہتا ہوں۔ مجھ کو بھرنا ہے دوزخ کو تجھ سے اور جو ان میں تیری راہ چلیں ان سب سے۔ “

خلافت آدم[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنا چاہا تو فرشتوں کو اطلاع دی کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں ‘ جو اختیار و ارادہ کا مالک ہوگا ‘ اور میری زمین پر جس قسم کا تصرف کرنا چاہے گا کرسکے گا ‘ اور اپنی ضروریات کیلئے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکے گا ‘ گویا وہ میری قدرت اور میرے تصرف و اختیار کا ” مظہر “ ہوگا۔ فرشتوں نے یہ سنا تو حیرت میں رہ گئے ‘ اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا اگر اس ہستی کی پیدائش کی حکمت یہ ہے کہ وہ دن رات تیری تسبیح و تہلیل میں مصروف رہے اور تیری تقدیس و بزرگی کے گن گائے ‘ تو اس کیلئے ہم حاضر ہیں ‘ جو ہر لمحہ تیری حمد و ثنا کرتے اور بےچون و چرا تیرا حکم بجا لاتے ہیں ‘ ہم کو تو اس ” خاکی “ سے فتنہ و فساد کی بو آتی ہے ‘ ایسا نہ ہو کہ یہ تیری زمین میں خرابی اور خونریزی بپا کر دے ؟ بارِ الٰہا ! تیرا یہ فیصلہ آخر کس حکمت پر مبنی ہے ؟ بارگاہِ الٰہی سے اوّل ان کو یہ ادب سکھایا گیا کہ مخلوق کو خالق کے معاملات میں جلد بازی سے کام نہ لینا چاہیے ‘ اور اس کی جانب سے حقیقت حال کے اظہار سے قبل ہی شک و شبہ کو سامنے نہ لانا چاہیے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں اپنی برتری اور بڑائی کا پہلو نکلتا ہو ‘ خالق کائنات ان حقائق کو جانتا ہے جس سے تم بےبہرہ ہو ‘ اور اس کے علم میں وہ سب کچھ ہے جو تم نہیں جانتے۔ { وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃًط قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَ یَسْفِکُ الدِّمَآئَج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَط قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ } [23] ” اور جب ایسا ہوا تھا کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ‘ فرشتوں نے کہا : کیا ایسی ہستی کو خلیفہ بنایا جا رہا ہے جو زمین میں خرابی پھیلائے گی اور خونریزی کرے گی ‘ حالانکہ ہم تیری حمد و ثنا کرتے ہوئے تیری پاکی و قدوسی کا اقرار کرتے ہیں (کہ تیری مشیت برائی سے پاک اور تیرا کام نقصان سے منزہ ہے ! ) اللہ نے کہا ‘ میری نظر جس حقیقت پر ہے ‘ تمہیں اس کی خبر نہیں۔ “

تعلیم آدم ؑاور فرشتوں کا اقرار عجز[ترمیم]

یہ سمجھنا سخت غلطی ہے کہ اس مقام پر فرشتوں کا سوال اس لیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مناظرہ یا اس کے فیصلہ کے متعلق موشگافی کریں بلکہ وہ آدم کی تخلیق کا سبب معلوم کرنا چاہتے تھے اور یہ کہ اس کے خلیفہ بنانے میں کیا حکمت ہے ان کی خواہش تھی کہ اس حکمت کا راز ان پر بھی کھل جائے ‘ اس لیے ان کے طرز ادا اور تعبیر مقصد میں کوتاہی پر تنبیہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ ان کے اس سوال کا جواب جو بظاہر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تحقیر پر مبنی ہے۔ عمل و فعل کے ذریعہ اس طرح دیا جائے کہ ان کو خود بخود آدم (علیہ السلام) کی برتری اور حکمت الٰہی کی بلندی و رفعت کا نہ صرف اعتراف کرنا پڑے بلکہ اپنی درماندگی اور عجز کا بھی بدیہی طور پر مشاہدہ ہوجائے ‘ لہٰذا حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی سب سے عظیم المرتبت صفت ” علم “ سے نوازا اور ان کو علم اشیاء عطا فرمایا۔ اور پھر فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ارشاد فرمایا کہ تم ان اشیاء کے متعلق کیا علم رکھتے ہو ؟ وہ لاعلم تھے کیا جواب دیتے۔ مگر چونکہ بارگاہ صمدیت سے قرب رکھتے تھے سمجھ گئے کہ ہمارا امتحان مقصود نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل ہم کو ان کا علم ہی کب دیا گیا ہے کہ آزمائش کی جاتی بلکہ یہ تنبیہ مقصود ہے کہ ” خلافتِ الٰہیہ “ کا مدار کثرت تسبیح و تحلیل اور تقدیس و تمجید پر نہیں بلکہ صفت ” علم “ پر ہے ‘ اس لیے کہ ارادہ و اختیار ‘ قدرتِ تصرف اور قدرت اختیار یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ حکومت ارضی صفت ” علم “ کے بغیر ناممکن ہے ‘ پس جبکہ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کا مظہر ا تم بنایا ہے تو بلاشبہ وہی خلافت ارضی کا مستحق ہے نہ کہ ہم ‘ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ ملائکۃ اللہ چونکہ اپنی خدمات مفوضہ کے علاوہ ہر قسم کی دنیوی خواہشوں اور ضرورتوں سے بےنیاز ہیں ‘ اس لیے وہ ان کے علم سے بھی نا آشنا تھے اور آدم (علیہ السلام) کو چونکہ ان سب سے واسطہ پڑنا تھا اس لیے ان کا علم اس کیلئے ایک فطری امرتھا۔ جو ربّ العٰلمین کی ربوبیت کاملہ کی بخشش و عطا سے عطا ہوا اور اس کو وہ سب کچھ بتادیا گیا جو اس کیلئے ضروری تھا۔ { وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِلا فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلَآئِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔ قَالَ یَٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْلا قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِلا وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ } [24] (پھر جب ایسا ہوا کہ مشیت الٰہی نے جو کچھ چاہا تھا ‘ ظہور میں آگیا) اور آدم نے (یہاں تک معنوی ترقی کی کہ) تعلیم الٰہی سے تمام چیزوں کے نام معلوم کر لیے ‘ تو فرشتوں کے سامنے وہ (تمام حقائق) پیش کر دئیے اور فرمایا ‘ اگر تم (اپنے شبہ میں) درستی پر ہو تو بتلاؤ ‘ ان (حقائق) کے نام کیا ہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا ‘ خدایا ساری پاکیاں اور بڑائیاں تیرے ہی لیے ہیں ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھلادیا ‘ علم تیرا علم ہے اور حکمت تیری حکمت ! جب فرشتوں نے اس طرح اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو حکم الٰہی ہوا ” اے آدم تم (اب) فرشتوں کو ان (حقائق) کے نام بتلا دو “ جب آدم نے بتلا دئیے تو اللہ نے فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمان و زمین کے تمام غیب مجھ پر روشن ہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی مجھ سے مخفی نہیں ! “

حضرت آدم (علیہ السلام) کے اس شرف علم کے متعلق مفسرین کی دو رائے ہیں ایک یہ کہ کائنات کی وہ تمام اشیاء جو ماضی سے مستقبل تک وجود میں آنے والی تھیں ان سب کے نام اور ان کی حقیقت کا علم حضرت آدم (علیہ السلام) کو دے دیا گیا ‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس وقت جس قدر اشیاء بھی عالم کائنات میں موجود تھیں اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے ان کا مظاہرہ کیا گیا تھا ان سب کا علم عطا کیا گیا ‘ اور اَلْاَسْمَآئَ کُلَّھَا (تمام چیزوں کے نام) کا اطلاق جس طرح کائنات کی ماضی و مستقبل کی تمام اشیاء پر ہوتا ہے اسی طرح اس وقت کی تمام موجودہ اشیاء پر بھی بغیر کسی تاویل کے ہوسکتا ہے اور یہ کہ اَنْبِؤُنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰٓـؤُلآَئِ سے اکثر موجود و محسوس یعنی حاضر ہی کی جانب اشارہ مقصود ہوا کرتا ہے ‘ اور اگر یہ کہہ دیا جائے کہ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اشیاء کی تمام جزئیات و تفصیلات کا علم بخشا گیا تھا ‘ بلکہ اشیاء کی بنیاد و نہاد اور اصول و اساس کا علم عطا کیا گیا تب بھی اَلْاَسْمَآئَ کُلَّھَا کے منافی نہیں ہے۔ بہرحال حضرت آدم (علیہ السلام) کو صفت ” علم “ سے اس طرح نوازا گیا کہ فرشتوں کیلئے بھی ان کی برتری اور استحقاق خلافت کے اقرار کے علاوہ چارہ کار نہ رہا ‘ اور یہ ماننا پڑا کہ اگر ہم زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ بنائے جاتے تو کائنات کے تمام بھیدوں سے ناآشنا رہتے اور قدرت نے جو خواص اور علوم و دیعت کئے ہیں ان سے یکسر ناواقف ہوتے اس لیے کہ نہ ہم خوردونوش کے محتاج ہیں کہ زمین میں ودیعت شدہ رزق اور خزانوں کی جستجو کرتے نہ ہمیں غرق کا اندیشہ کہ کشتیوں اور جہازوں کی ایجاد کرتے ‘ نہ مرض کا خوف کہ قسم قسم کے معالجات اشیاء کے خواص ‘ کیمیائی مرکبات ‘ فوائد طبیعیات و فلکیات ‘ طبّی ایجادات ‘ علوم نفسیات و وجدانیات اور اسی طرح کے بیش بہا اور بیشمار علوم و فنون کے اسرار اور ان کی حکمتوں سے واقف ہوسکتے ‘ بلاشبہ یہ صرف حضرت انسان ہی کیلئے موزوں تھا کہ وہ زمین پر خدا کا خلیفہ بنے اور ان تمام حقائق و معارف اور علوم و فنون سے واقف ہو کر نیابت الٰہی کا صحیح حق ادا کرے۔

تخلیقِ آدم (علیہ السلام)[ترمیم]

یہ مسئلہ بھی لائق فکر و نظر ہے کہ انسان اوّل حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کب ہوئی ‘ کیا کائنات ارضی و سماوی کے ساتھ ساتھ یا غیر معین مدت کے بعد اس کی ہستی عالم وجود میں آئی ؟ علمائے یہود و نصاریٰ اور بعض علمائے اسلام کا قول ہے کہ حق تعالیٰ نے تخلیق وتکوین کائنات کے بارہ میں جو ” ستۃ ایام “ (چھ دن) کی تعبیر اختیار فرمائی ہے ان ہی ایام میں سے ایک دن حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی لباس وجود پہنا اور وہ جمعہ کا دن ہے۔ { اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ } [25] ” کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر چھا گیا۔ “ لیکن یہ مسلک درست نہیں ہے نہ علمی و تاریخی اعتبار سے اور نہ دینی و مذہبی روایات کے لحاظ سے ‘ یہود و نصاریٰ کے متعلق تو معلوم نہیں کہ انھوں نے کس بنیاد پر یہ کہا ‘ اور اس کے لیے ان کے پاس کیا دلیل ہے مگر علامہ سبکی سے ضرور یہ تعجب ہے کہ انھوں نے اس بےدلیل بات کو کس طرح قبول فرمایا اور یہ مسلک کیوں اختیار کیا۔ [26] کافی غور و فکر کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ علامہ سبکی کو یہ مغالطہ غالباً صحیح مسلم کی اس حدیث سے ہوا ہے جو فضائل جمعہ میں مذکور ہے اور جس میں کہا گیا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش جمعہ کے دن ہوئی ہے۔[27] اس روایت میں صرف اسی قدر مذکور ہے مگر سبکی نے اپنی جانب سے یہ اضافہ کرلیا کہ یہ جمعہ ” ستۃ ایام “ میں شامل جمعہ کا دن ہے اور یہی مغالطہ ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ قرآن عزیز نے متعدد جگہ خلق کائنات کا ذکر کیا ہے لیکن کسی ایک جگہ بھی خلق آدم (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا۔حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ ارض و سماوات سے زیادہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا ذکر ضروری تھا جو قرآن ہی کی زبان میں اشرف المخلوقات ‘ اور خلیفۃ اللّٰہ فی الارض ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر اہم شخصیت کو ” ستۃ ایام “ ہی میں سے کسی دن (یوم) وجود بخشا جائے اور اس کا ذکر تک نہ کیا جائے کیونکہ ان آیات میں صرف دو ہی باتیں ذکر کی گئی ہیں ایک ارض و سماوات کی پیدائش کا معاملہ اور دوسرا ” استواء علی العرش “ کا ‘ مگر حضرت آدم کی ولادت سے متعلق صراحت تو کجا اشارہ تک موجود نہیں ہے پھر مستزاد یہ کہ قرآن عزیز نے جس جس موقع پر حضرت آدم (علیہ السلام) کا ذکر کسی بھی نہج سے کیا ہے ان میں سے کسی ایک مقام پر بھی یوم پیدائش کا ذکر نہیں ہے تب بات واضح ہے کہ اصل حقیقت یہی ہے کہ خلق سماوات و ارض سے ہزاروں ‘ لاکھوں بلکہ غیر معین مدت کے بعد (جس کا علم صرف عالم الغیب والشہادۃ ہی کو ہے) حضرت آدم (علیہ السلام) کو کسی جمعہ میں خلعت وجود عطا کیا گیا اور ” ستۃ ایام “ کے جمعہ کے دن کسی کی بھی تخلیق وتکوین نہیں ہوئی بلکہ استواء علی العرش کا مظاہرہ ہوا اور اس لیے جمعہ کا دن جشن یا تعطیل کا دن قرارپایا۔ ! آدم و حوا عربی نام ہیں یا عجمی ؟ اور یہ نام کسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں یا صرف نام ہی کی حیثیت میں ہیں ؟ پہلے سوال کے متعلق مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ” سریانی “ نام ہے اور بائبل میں الف کے مد اور دال کے طول کے ساتھ پڑھا جاتا ہے یعنی آدام ‘ اور علامہ جوہری اور جو الیقی یہ کہتے ہیں کہ یہ عربی نام ہیں اور دوسرے سوال کے متعلق ثعلبی کا قول ہے کہ عبرانی زبان میں آدام مٹی کو کہتے ہیں ‘ چونکہ ان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ‘ اس لیے آدم یا آدام نام رکھا گیا۔اور بعض کا خیال ہے کہ اُدمۃ سے ماخوذ ہے اس لیے کہ وہ ” ادیم الارض “ یعنی صفحہ زمین سے پیدا کئے گئے ہیں ‘ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ اَدَمَتْ بمعنی خَلَطَتْ سے ماخوذ ہے اور چونکہ ان کا خمیر پانی اور مٹی کو ملا کر اور خلط ملط کرکے بنایا گیا ہے اس لیے اس مناسبت سے ان کو آدم کہا گیا ہے۔ اسی طرح حواء اس لیے نام پڑا کہ وہ ہر ” انسانِ حی “ (زندہ انسان) کی ماں ہیں اور مبالغہ کا صیغہ بنا کر ان کا نام رکھ دیا گیا۔ [28] بہرحال نام اور معنی میں مناسبت کا یہ سوال نکتہ اور لطیفہ کی حیثیت رکھتا ہے ‘ اس لیے بیان کردہ تمام وجوہ بیک وقت بھی صحیح ہوسکتی ہیں اور کسی ایک وجہ کو دوسری پر ترجیح بھی دی جاسکتی ہے ‘ کیونکہ یہ باب بہت وسیع ہے۔ " اللہ تعالیٰ نے سجدہ کا جو حکم دیا تھا وہ فرشتوں کو دیا تھا اور ابلیس فرشتوں کی جنس میں داخل نہیں تو پھر اس پر عتاب الٰہی کیوں ہوا اور وہ نافرمانی کا مرتکب کس لیے قرار دیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ ابلیس ملائکہ کی جنس سے نہ تھا۔ قرآن عزیز میں تصریح ہے : { کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ } [29] ” وہ ” جن “ سے تھا پس اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی “ مگر جب اللہ تعالیٰ نے سجدہ کا حکم فرمایا تو اس وقت وہ اس مجلس میں موجود تھا اور غیر معلوم مدت تک فرشتوں کے ساتھ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنے کی وجہ سے وہ بھی اس حکم کا مخاطب تھا اور وہ بھی خود کو مخاطب سمجھتا تھا اسی لیے جب خدائے تعالیٰ نے اس سے دریافت کیا کہ تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا تو اس نے یہ جواب نہیں دیا کہ میں فرشتہ نہیں ہوں اس لیے اس حکم کا مخاطب ہی نہ تھا کہ سجدہ کرتا ‘ بلکہ ازراہ غرور کہا تو یہ کہا کہ میں آدم سے بہتر ہوں اس لیے سجدہ سے باز رہا۔ یہی جواب صحیح اور درست ہے۔ ورنہ تو ایک ضعیف اور کمزور رائے یہ بھی ہے کہ ملائکۃ اللہ میں سے ایک قسم کو ” جن “ بھی کہا جاتا ہے اور یہ انھیں میں سے ایک تھا۔ مگر اس رائے کی تائید نہ قرآن عزیز سے ملتی ہے اور نہ صحیح احادیث سے۔ ابلیس جب جنت سے مردود ہو کر نکال دیا گیا تو پھر وہ حضرت آدم و حواء کو کس طرح بہکا سکا ؟ علمائے اسلام سے اس کے دو جواب منقول ہیں اور دونوں کسی تاویل کے بغیر چسپاں ہیں : اگرچہ ابلیس جنت سے نکال دیا گیا ‘ لیکن پھر بھی اس کا ایک گناہ گار اور نابکار مخلوق کی حیثیت میں جنت کے اندر داخل ہونا اس کے مردود ہونے کے منافی نہیں ہے۔ اس لیے اس نے اسی حیثیت سے اندر جاکر حضرت آدم و حوا سے یہ گفتگو کی اور ان کو لغزش میں ڈال دیا آیت اِھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا [30] اسی کی تائید کرتی ہے کہ عاصی کی حیثیت سے ابھی تک اس کا داخلہ ممنوع نہیں تھا۔ ! جس طرح ایک آواز ٹیلیفون اور ریڈیو کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ دور جاسکتی ہے یا جس طرح لاسلکی (وائرلیس) میں صرف شعاعوں اور آواز کی لہروں کے ذریعہ سے ایک پیغام ہزاروں میل دور پہنچایا جاسکتا ہے اسی طرح یہ بھی کیوں ممکن نہیں کہ قربت یا بالمشافہہ مخاطبت کے بغیر ہی شیطان کا وسوسہ نفس انسانی تک پہنچ جائے اور اس پر اثر انداز ہو۔ تب واقعہ کی صورت یہ ہوئی کہ شیطان نے جنت سے باہر ہی رہ کر حضرت آدم اور حضرت حوا (علیہ السلام) کے قلوب میں یہ وسوسہ ڈالا اور ان کو بہکانے کی کوشش کی ‘ آیت فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطَانُ [31] سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔

حوا کی پیدائش کس طرح ہوئی؟[ترمیم]

قرآن عزیز میں اس کے متعلق صرف اسی قدر مذکور ہے : { وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا } [32] ” اور اس (نفس) سے اس جوڑے کو پیدا کیا “ یہ نظم قرآنی حوا [ کی پیدائش کی حقیقت کی تفصیل نہیں بتاتی ‘ اس لیے دونوں احتمال ہوسکتے ہیں۔ اوّل یہ کہ حوا [ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئی ہوں جیسا کہ مشہور ہے اور بائبل میں بھی اس طرح مذکور ہے ‘ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کو اس طرح پیدا کیا کہ مرد کے ساتھ اسی کی جنس سے ایک دوسری مخلوق بھی بنائی جس کو عورت کہا جاتا ہے اور جو مرد کی رفیقہ حیات بنتی ہے۔ آیت کی تفسیر میں محققین کی رائے اس دوسری تفسیر کی جانب مائل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن عزیز صرف حضرت حوا [ کی تخلیق کا ذکر نہیں کر رہا ہے بلکہ ” عورت کی تخلیق کے متعلق “ اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھی مرد ہی کی جنس سے ہے اور اسی طرح مخلوق ہوئی ہے ‘ البتہ بخاری ومسلم کی روایتوں میں یہ ضرور آتا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ الفاظ یہ ہیں : ( (اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآئِ فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ ))[33] عورت کے ساتھ نرمی اور خیرخواہی سے پیش آؤ اس لیے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے “ اس کا مطلب ابن اسحاق نے تو یہ بیان کیا ہے کہ حواء [ آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا کی گئیں ‘ مگر ابن اسحاق سے زیادہ محقق اور نقادعلامہ قرطبی نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ دراصل عورت کو پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا ہے کہ عورت کی خلقت کی ابتداء پسلی سے کی گئی ہے اس کا حال پسلی ہی کی طرح ہے ‘ اگر اس کی کجی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی تو جس طرح پسلی کے ترچھے پن کے باوجود اس سے کام لیا جاتا ہے اور اس کے خم کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اسی طرح عورتوں کے ساتھ نرمی اور رفق کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ورنہ سختی کے برتاؤ سے خوشگواری کی جگہ تعلق کی شکست و ریخت کی صورت پیدا ہوجائے گی۔ [34] حضرت آدم (علیہ السلام) جس جنت میں مقیم تھے اور جہاں سے انھیں زمین پر اترنے کا حکم دیا گیا وہ جنت کون سی جنت ہے ؟ ” جنت الماویٰ “ جو بعد قیام قیامت اہل ایمان کا مستقر ہے یا ” جنت ارضی “ جو اسی سرزمین میں کسی بلند پر فضا مقام پر آدم (علیہ السلام) کی حکومت کے لیے بنائی گئی تھی ؟ جمہور علمائے اسلام کا مسلک یہ ہے کہ یہ ” جنت الماویٰ “ ہے جس کا وعدہ آخرت میں مسلمانوں کے لیے کیا گیا ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ آیات و احادیث کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے۔ مثلاً { وَ قُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ } [35] ” ہم نے کہا اے آدم (u ) تم اور تمہاری بیوی (حوا [) جنت میں رہو “۔ اس جگہ جنت کو عربی قاعدہ سے ” الجنۃ “ الف لام کے ساتھ ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اسی مشہور جنت کا ذکر ہے جس کو جگہ جگہ قرآن عزیز میں قیام قیامت کے بعد مومنوں کا وطن بتایا گیا ہے ورنہ اگر کسی نئے مقام کا تذکرہ ہوتا تو پہلے اس کی حقیقت کا اظہار ہوتا پھر اس کو جانی پہچانی چیز کی طرح ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا جاتا۔ { اِھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا } [36] ” تم وہاں سے ایک ساتھ اترو “

ہبوط[ترمیم]

(اترنا) بلندی سے پستی کی طرف ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ جنت ارضی نہیں ہوسکتی بلکہ ” جنتِ ماویٰ “ ہی ہوسکتی ہے۔ مسلم میں ایک طویل حدیث ہے جس میں یہ جملہ موجود ہے : ( (یَجْمَعُ اللّٰہُ النَّاسَ فَیَقُوْمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حِیْنَ تَزْدَلِفُ لَھُمُ الْجَنَّۃُ فَیَأْتُوْنَ آدَمَ فَیَقُوْلُوْنَ یَاٰبَانَا اِسْتَفْتَحْ لَنَا الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُ : وَھَلْ اَخْرَجَکُمْ مِنَ الْجَنَّۃِ اِلاَّخَطِیْئَۃُ اَبِیْکُمْ )) [37] ” اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا ‘ پس اہل ایمان کھڑے ہوں گے جب جنت ان کے قریب ہوگی۔ پھر وہ آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے ‘ اے ہمارے باپ ہمارے لیے اس جنت کو کھولئے ! اس پر حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے کیا تم کو جنت سے تمہارے باپ کی خطاکاری ہی نے نہیں نکالا تھا۔ “ اس کے برعکس علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ ” جنت “ دنیا ہی کے مقامات میں سے کسی مقام پر تھی ” جنتِ الماویٰ “ نہ تھی ‘ اور اپنے قول کی تائید میں یہ کہتے ہیں کہ آیات قرآنی ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حوا (علیہ السلام) کو وہاں کھانے پینے کا مکلف بنایا اور ایک درخت کے نہ کھانے کی تکلیف دی ‘ پھر وہاں آدم (علیہ السلام) خوابِ راحت میں بھی رہتے تھے اور وہاں ابلیس بھی آتا جاتا رہتا تھا اور اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہکا بھی دیا ‘ اور پھر آدم و حواء (علیہ السلام) اور ابلیس وہاں سے نکالے بھی گئے ‘ تو یہ تمام وہ امور ہیں جو دنیا کے ساتھ مخصوص ہیں اور ” جنت الماویٰ “ میں ان کا وجود نہیں ہے ‘ نہ وہ عالم تکلیف ہے اور نہ اس میں داخلہ کے بعد اخراج ہے ‘ یہ قول بھی بڑے بڑے علمائے اسلام کی طرف منسوب ہے ‘ اور ان دو رایوں کے علاوہ اس سلسلہ میں دورائیں اور بھی ہیں اور اس طرح اس مسئلہ میں چار اقوال ہوجاتے ہیں :

یہ جنت الماویٰ ہے۔ ! یہ جنت ارضی ہے۔ " یہ جنت الماویٰ اور جنت الارضی کے علاوہ ایک اور جنت ہے جو صرف اسی غرض سے تیار کی گئی تھی۔ اس معاملہ میں توقف اور سکوت کرنا چاہیے ‘ اور اسے خدا کے حوالہ کردینا چاہیے۔ یہ بحث بہت طویل ہے اور حافظ عمادالدین ابن کثیر نے اپنی تاریخ البدایہ والنہایہ میں اس کو بڑے شرح وبسط سے بیان کیا ہے اور تمام اقوال کے مفصل دلائل اور نظائر کو بھی نقل کیا ہے۔[38] بہرحال حقیقت حال کا عالم تو خدا ہی ہے لیکن تمام دلائل وبراہین کے دیکھنے کے بعد ہماری رائے تو یہی ہے کہ یہ معاملہ بلاشبہ ” جنت الماویٰ “ ہی میں پیش آیا ہے اور کھانے ‘ سونے اور شیطان کے وسوسہ ڈالنے کیلئے تمام معاملات ” جنت الماویٰ “ میں اس وقت پیش آئے ہیں جبکہ انسان ابھی تک عالم تکلیف میں نہیں آیا تھا۔ پس یہ جو کچھ ہوا مشیت الٰہی کی حکمت بالغہ کے زیر اثر اس لیے ہوا کہ یہ تمام تکوینی امور انسان کے زمین پر آباد ہونے اور ” خلافت الٰہیہ “ کے حقدار بننے کیلئے ضروری تھے۔ پس اگر یہی راجح قول ہے کہ اس جگہ جنت سے مراد ” جنت الماویٰ “ ہی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا (علیہ السلام) زمین کے کس حصہ پر اتارے گئے تو بعض ضعیف روایتوں میں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) ہندوستان کی سرزمین پر اور حضرت حوا[ جدہ کی سرزمین پر اتارے گئے اور پھر چل کر دونوں عرفات (حجاز) کے میدان میں ایک دوسرے سے جاملے اس لیے اس میدان حج کا نام عرفات ہوا کیونکہ دونوں نے اسی مقام پر ایک دوسرے کو پہچانا۔ لیکن قرآن عزیز نے اس حصہ کو نظر انداز کردیا ہے کیونکہ اس کا اظہار رشد و ہدایت سے غیر متعلق تھا البتہ قلبی رجحان اور نفسیاتی برہان اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ آدم و حوا (علیہ السلام) ایک ہی جگہ اتارے گئے ہوں گے تاکہ حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے زیر اثر جلد ہی نسل انسانی کی افزائش اپنا کام کرسکے اور اس عالم خاکی کے وارث ومکین خدا کی زمین کو آباد کرکے انسانیت کے سب سے بڑے شرف ” خلافت ارضی “ کا پورا پورا حق ادا کرسکیں۔

ظریفانہ نکتہ[ترمیم]

جو علماء اس کے قائل ہیں کہ یہ ” جنت الماویٰ “ ہے ان پر دوسرے علماء کا یہ اعتراض ہے کہ اگر اسے صحیح تسلیم کرلیا جائے (اور یہ ظاہر ہے کہ اسی کا دوسرا نام جنت الخلد ہے) تو حضرت آدم (علیہ السلام) سے ابلیس کا یہ کہنا کہ میں تمہیں شجر خلد کا پتہ بتاؤں کیا معنی رکھتا ہے ؟ لیکن اوّل الذکر علماء ان حضرات سے جو جنت ارضی کے قائل ہیں پلٹ کر یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ جنت ارضی تھی تو اس دارفانی میں ابلیس حضرت آدم (علیہ السلام) سے ایسی بحث ہی کیسے کرسکتا تھا کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء تو فانی ہیں مگر اس میں ایک شجر خلد بھی ہے۔ دار فانی میں خلود کہاں ؟ اس کو تو معمولی عقل کا انسان بھی تسلیم نہیں کرسکتا چہ جائیکہ حضرت آدم (علیہ السلام) ۔

جنت ارضی علمائے طبقات الارض کی نظر میں[ترمیم]

جو علماء اس جنت کو ” جنت ارضی “ بتاتے ہیں ان میں سے علمائے طبقات الارض کا یہ دعویٰ ہے کہ ربع مسکون میں سے جس خطہ پر جنت قائم تھی وہ آج کائنات ارضی پر موجود نہیں ہے۔ یہ حصہ ” قارہ مو “ کے نام سے اس دنیا میں آباد تھا مگر مختلف حوادث اور پیہم زلزلوں کے باعث بحر ہند میں ہزاروں سال ہوئے کہ غرق ہوگیا ‘ اور یہ کہ جب یہ حادثہ پیش آیا تھا تو اس خطہ پر بسنے والی انسانی آبادی تقریباً ساٹھ ملین (چھ کروڑ) کی تعداد میں ہلاک ہوگئی۔ اور بائبل کے سفر تکوین (کتاب پیدائش) میں اس کا مقام وقوع وہ بتایا گیا ہے جہاں سے دجلہ اور فرات نکلتے ہیں۔[39]

کیا حضرت آدم (علیہ السلام) نبی اور رسول ہیں؟[ترمیم]

شریعت اسلامی میں ” نبی “ اس ہستی کو کہتے ہیں جس کو حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے چن لیا ہو اور وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتی ہو اور ” رسول “ اس نبی کو کہا جاتا ہے۔ جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نئی شریعت اور نئی کتاب بھیجی گئی ہو۔چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) دنیائے انسانی کے باپ ہیں تو خود بخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ جس طرح اپنی نسل کی دنیوی سعادت و فلاح کیلئے رہنما اور ہادی تھے اسی طرح اخروی سعادت و فلاح کیلئے پیغامبر تھے یا نہیں ؟ اس کا جواب ایک ہی ہوسکتا ہے کہ وہ بلاشبہ خدا کے سچے پیغمبر اور نبی برحق تھے اور اس مسئلہ میں امت میں کبھی دو رائیں نہیں ہوئیں اور اسی لیے کبھی یہ مسئلہ موضوع بحث نہیں بنا مگر اس مسئلہ میں اس وقت سے اہمیت پیدا ہوئی جبکہ مصر کے قریہ و منہور کے ایک شخص نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا اور اپنے دعویٰ کی دلیل میں یہ پیش کیا کہ قرآن عزیز میں کسی مقام پر بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کو دوسرے انبیاء ۔ کی طرح ” نبی “ نہیں کہا گیا۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ سے مروی ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے بتایئے کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں وہ نبی تھے اور رسول بھی انھیں اللہ رب العالمین سے شرف تخاطب و تکلم حاصل ہوا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں عن ابی ذر قال قلت یا رسول اللہ ارأیت اٰدم أنبیا کان قال نعم نبیا رسولاً یکلم اللہ قبیلا۔ [40] اس شخص کا یہ کہنا کہ قرآن عزیز نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کسی جگہ لفظ ” نبی “ سے مخاطب نہیں کیا ‘ لفظی اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے لیکن حقیقت نبوت کے اعتبار سے بالکل غلط ہے اس لیے کہ نبوت کے جو معنی اسلامی اصطلاح میں بیان کئے گئے ہیں بغیر کسی تاویل کے اس کا اطلاق حضرت آدم (علیہ السلام) پر نظم قرآنی میں بہت سے مقامات میں موجود ہے ‘ جگہ جگہ یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی واسطہ کے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہم کلام ہوتا رہا ہے اور اس تمام مخاطبت اور بات چیت میں امر ونہی اور حلال و حرام کے احکام دیتا رہا ہے اور ان احکام کے لیے آدم (علیہ السلام) کے پاس کسی کو نبی و رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ براہ راست انہی سے خطاب فرمایا گیا ‘ پس جبکہ نبوت کی حقیقت بھی یہی ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار قطعاً باطل اور بےمعنی ہے ‘ نیز ان کے رسول ہونے نہ ہونے کی بحث بھی کچھ زیادہ اہم نہیں ہے۔اس لیے کہ جب وہ پہلے انسان ہیں تو انسانی آبادی کیلئے خدا کی وحی کے ذریعہ جو پیغامات بھی انھوں نے سنائے وہی ان کی شریعت سمجھی جائے گی اور اس لیے وہ رسول بھی ہیں ‘ بہرحال ان کی نبوت پر یقین رکھنے اور قلب میں اطمینان پیدا کرنے کیلئے نظم قرآنی کی وہ تمام آیات کافی و شافی دلیل ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور اللہ تعالیٰ کے درمیان براہ راست گفتگو اور مکالمت ومخاطبت کی شکل میں نظر آتی ہیں۔حضرت آدم (علیہ السلام) جبکہ نبی ہیں تو ان سے خدا کے حکم کی خلاف ورزی کے کیا معنی ؟ نبی تو معصوم ہوتا ہے اور ” عصمت “ نافرمانی اور گناہ کے متضاد ہے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) کی عصمت پر بحث کرنے سے قبل مختصر الفاظ میں ” عصمت “ کے معنی اور اس کا مفہوم معلوم ہوجانا ضروری ہے تاکہ آئندہ بھی ایسے مقامات میں گنجلک اور ریب و شک کی گنجائش باقی نہ رہے۔

عصمت نبی کے معنی[ترمیم]

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق متضاد قوتوں کے ساتھ فرمائی ہے ‘ یعنی اس کو نیک و بد دونوں قسم کی قوتیں عطا کی گئی ہیں ‘ وہ گناہ بھی کرسکتا ہے اور نیکی بھی ‘ وہ ارادہ بد کا بھی حامل ہے اور ارادہ خیر کا بھی ‘ اور یہی اس کے انسانی شرف کا طغرائے امتیاز ہے۔ ان متضاد قوتوں کے حامل ” انسان “ میں سے حضرت حق ‘ انسانی رشد و ہدایت اور وصول الی اللہ کیلئے کبھی کبھی کسی شخص کو چن لیتے اور اس کو اپنا رسول ‘ نبی اور پیغمبر بنا لیتے ہیں اور اس سلسلہ کی آخری کڑی ذات اقدس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور جب یہ ہستی ” نبوت “ کیلئے چن لی جاتی ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عمل و ارادہ کی زندگی میں ہر قسم کے گناہ سے پاک اور ہمہ قسم کی نافرمانیوں سے منزہ ہو ‘ تاکہ پیغام الٰہی کے منصب میں خدا کی صحیح نیابت ادا کرسکے اور ” اوخویشتن گم است کرا رہبری کند “ کا مصداق نہ ثابت ہو ‘ اس طرح وہ ایک انسان اور بشر بھی ہے ‘ کھاتا ہے ‘ پیتا ہے ‘ سوتا ہے اور اہل و عیال کی زندگی سے بھی وابستہ ہے اور وہ ہر قسم کے عملی اور ارادی گناہوں سے پاک بھی ہے کیونکہ وہ ہر قسم کی نیکی کے لیے ہادی و مرشد اور خدا کا نائب ہے ‘ اور اگرچہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح متضاد قوتوں کا حامل ضرور ہے۔ لیکن عمل اور ارادہ میں اس سے ہر قسم کی بدی کے ظہور کو ناممکن اور محال کردیا گیا ہے تاکہ اس کا ہر ایک ارادہ ‘ ہر ایک عمل اور ہر ایک قول غرض ہر ایک حرکت و سکون ‘ کائنات کے لیے اسوہ اور نمونہ بن سکے ‘ البتہ بشریت و انسانیت سے متصف ہونے کی بنا پر سہو ‘ نسیان اور لغزش کا امکان باقی رہتا اور کبھی کبھی عملی شکل بھی اختیار کرلیتا ہے مگر فوراً ہی اس پر متنبہ کردیا جاتا ہے اور وہ اس سے کنارہ کش ہوجاتا ہے۔

زَلَّۃ (لغزش) کیا ہے؟[ترمیم]

تو اس کا اطلاق ایسی حقیقت پر ہوتا ہے کہ جہاں نہ عمل اور کردار میں تمرد اور سرکشی کا دخل ہو اور نہ قصد و ارادہ کے ساتھ حکم کی خلاف ورزی کا اور ساتھ ہی وہ عمل اپنی حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے قبیح ‘ بد اور شر بھی نہ ہو بلکہ ان تمام امور کے پیش نظر وہ اپنی ذات میں اگرچہ اباحت اور جواز کا درجہ رکھتا ہو مگر کرنے والے کی ہستی کے شایان شان نہ ہو بلکہ اس کے عظیم رتبہ کے سامنے سبک اور ہلکا نظر آتا ہو ‘بایں ہمہ اس لیے عمل میں آگیا کہ عمل کرنے والے کی نگاہ میں اس کا اس طرح کرنا خدائے تعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہ تھا لیکن نبی پر چونکہ خدائے تعالیٰ کی مستقل حفاظت و نگرانی رہتی ہے اس لیے فوراً ہی اس کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ یہ عمل تمہاری جلالت قدر اور عظمت مرتبہ کے شایان شان نہیں ہے اور قطعی غیر مناسب ہے ‘ اسی فرق مراتب کو عربی کی اس مثل میں ظاہر کیا گیا ہے : ( (حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ ) ) ” نیکوکار انسانوں کی عام خوبیاں مقربین بارگاہ الٰہی کے حق میں برائیاں ہوتی ہیں۔ “ مگر اس لیے کہ ایک مقرب بارگاہ الٰہی کو خدا کی مرضی کے سمجھنے میں بھی یہ لغزش کیوں پیش آئی سنت اللہ یہ جاری ہے کہ وہ انبیاء ومرسلین ( ) کی اس قسم کی لغزشوں پر جب ان کو متنبہ کرتا ہے تو اول نہایت سخت اور مجرمانہ عمل کی حیثیت میں اس لغزش کا ذکر کرتا ہے مگر پھر کسی دوسرے مقام پر اس معاملہ کی اصل حقیقت کو ظاہر کرکے ” نبی و رسول “ کے عمل کو لغزش ہی کی حد میں لے آتا ‘ اور ان کی جانب سے خود ہی معذرت کردیتا ہے تاکہ کسی ملحد اور زندیق کو کسی بھی نبی و رسول کی جانب گناہ کے الزام لگانے کی بےجا جرأت نہ ہو سکے۔ اسی مجموعہ حقیقت کا نام ” عصمتِ انبیاء “ ہے اور یہی اسلامی عقائد میں سے ایک بنیادی عقیدہ ہے ‘ یہ مسئلہ اگرچہ بحث و کاوش کے اعتبار سے بہت اہم اور معرکۃ الآراء مسئلہ ہے ‘ مگر دلائل وبراہین اور بحث و نظر کے بعد مسئلہ کی حقیقت اور اس کا خلاصہ یہی ہے جو یہاں سپرد قلم کیا گیا اور اس مقام پر اسی قدر کافی و شافی ہے۔

حضرت آدم (علیہ السلام) کی عصمت[ترمیم]

اس حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد اب حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعہ پر غور کیجئے اور نظر ڈالئے کہ قرآن عزیز ” سورة بقرہ “ میں جب یہ واقعہ بیان کیا گیا تو صاف طور پر یہ واضح کردیا گیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی یہ غلطی نہ گناہ تھی اور نہ نافرمانی بلکہ معمولی قسم کی لغزش تھی : { فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ } [41] ” شیطان نے ان دونوں سے لغزش کرادی “ اور اس کے بعد سورة ” اعراف “ اور ” طہٰ “ میں دو جگہ اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے ” وسوسہ “ سے تعبیر کیا : { فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطٰنُ } [42] ” شیطان نے ان کو پھسلا دیا “ اور ” طٰہ “ میں تیسری جگہ اس لغزش اور وسوسہ کا خود ہی سبب بیان کرکے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہر قسم کے ارادی اور عملی گناہ سے پاک ظاہر کیا اور ان کی عصمت کے مسئلہ کو زیادہ سے زیادہ محکم اور مضبوط بنادیا۔ { وَ لَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰٓی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْلَہٗ عَزْمًا } [43] ” اور بلاشبہ ہم نے آدم سے ایک اقرار لیا تھا پس وہ اس کو بھول گیا اور ہم نے اس کو پختہ ارادہ کا نہیں پایا (ہم نے اس کو اقرار کے پورا نہ کرنے میں اس کے ارادہ اور قصد کا دخل نہیں پایا) “ یہ آیات صاف طور پر واضح کرتی ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں کیا جس حد تک معاملہ پیش آیا اس میں بھی ان کے قصد و ارادہ سے خلاف ورزی کا مطلق کوئی دخل نہیں ہے بلکہ وہ ایک وسوسہ تھا جو لغزش کی شکل میں ان سے صادر ہوگیا اور وہ بھی نسیان اور بھول چوک کے ساتھ۔ ان تمام تصریحات کے بعد اب سورة طٰہٰ کی مسطورہ ذیل آیت کا مقصد خود بخود صاف ہوجاتا ہے : { وَ عَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی } [44] ” اور آدم نے اپنے پروردگار کا حکم پورا نہ کیا اور وہ بہک گیا “ ہم نے اس جگہ عصیان اور غوایت کے وہ معنی نہیں لیے جو عام بول چال میں بولے جاتے ہیں یعنی ” گناہ “ اور ” گمراہی “ اور ایسا تاویل بعید یا دور از کار توجیہ کیلئے نہیں کیا گیا بلکہ لغت اور علم معانی کے عام اصول کے زیر نظر ہی کیا گیا ہے اس لیے کہ لغت عربی کی مشہور کتاب ” لسان العرب “ اور ” اقرب الموارد “ وغیرہ میں ہے ” المعصیۃ مصدر و قد تطلق علی الزلّۃ مجازاً “ (معصیت مصدر ہے اور کبھی مجاز کے طور پر لغزش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) اسی طرح ” غویٰ “ کے معنی یہاں ضل یا خاب کے ہیں ‘ پس اگر یہاں ضل مراد ہے تو اس کا اردو ترجمہ ” بہک گیا “ کیا جائے گا اور خاب مراد ہے تو ” نقصان میں پڑگیا “ فصیح ترجمہ ہے۔ بہرحال واقعہ سے متعلق ان تمام آیات کو جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی جلالت قدر ‘ صفوت و برگزیدگی ‘ اور خلعت خلافت سے سرفرازی کو ظاہر کرتی ہیں ‘ جدا جدا کرکے نہ دیکھا جائے ” جیسا کہ معترضین کا عام قاعدہ ہے اور جو اکثر قرآن فہمی میں گمراہی کا سبب بنتا ہے “ اور سب کو یکجا جمع کرکے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی عصمت کا مسئلہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور اس میں قطعی کسی شائبہ ریب و شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اور بالفرض اگر عصٰی اور غوٰی کو عام معنی میں لیا جائے تب بھی وہ اصول پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو مسئلہ ” عصمت “ کی حقیقت کے سلسلہ میں ابھی بیان ہوچکا ہے کہ جب نصوص قرآنحضرت آدم (علیہ السلام) کی نبوت ‘ صفوت ‘ اور خلافت جیسے عظیم الشان مراتب کا اظہار کرتی ہیں تو اس آیت میں ان کی اس لغزش کو ان سخت الفاظ کے ساتھ اس لیے یاد کیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) جیسے مقرب بارگاہ الٰہی کے لیے کہ جس کو خود اللہ تعالیٰ کی براہ راست ہم کلامی کا شرف حاصل ہے ‘ یہ لغزش اور نسیان بھی اس کے مرتبہ سے نازل اور غیر موزوں ہے لہٰذا زیادہ سے زیادہ قابل گرفت ہے اگرچہ ابرارو نیکوکار انسانوں کے حق میں اس قسم کی غلطی ایک معمولی بات ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) دنیائے انسانی میں پہلے انسان اور کائنات بشری کے پہلے ابو البشر ہیں یا اس سے بھی پہلے اس قسم کی دنیائے انسانی کا وجود اس کائنات میں رہا ہے اور اس کیلئے بھی اسی طرح ایک آدم ابو البشر کی ہستی رہی ہے ؟ اس مسئلہ کے متعلق اگرچہ بعض علمائے طبقات الارض نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ موجودہ انسانی دنیا سے قبل بھی ربع مسکون پر عالم انسانی کا وجود رہا ہے اور آج سے تیس ہزار سال قبل کی اس جنس بشری کا نام ” نیاندرتال “ تھا اور اس کا موجودہ نسل انسانی سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا بلکہ وہ مستقل نسل تھی جو ہلاک ہوگئی اور اس کے بعد موجودہ نسل انسانی نے جنم لیا مگر ان کی یہ تحقیق تخمینی اور قیاسی ہے جو انسانی ڈھانچوں اور ان کی ہڈیوں کی تحقیق (ریسرچ) پر مبنی ہے اور کسی یقین اور علم حقیقی پر مبنی نہیں ہے اور قرآن عزیز نے ہم کو اس کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی ‘ نہ کسی موقع پر اس کے بارہ میں کوئی اشارہ کیا اور نہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس مسئلہ میں کوئی تصریح موجود ہے ‘ لہٰذا ہمارے یقین اور اعتقاد کیلئے اسی قدر کافی ہے جو ہم کو قرآن کے یقینی علم اور وحی الٰہی کی صاف اور صریح اطلاع سے حاصل ہوا ہے۔ دراصل اس قسم کے مباحث علمیہ کیلئے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو مسائل علم یقین اور مشاہدہ کی حد تک پہنچ چکے ہیں اور قرآنی علوم اور وحی الٰہی ان حقائق کا انکار نہیں کرتے کیونکہ ” قرآن عزیز مشاہدہ اور بداہت کا کبھی بھی انکار نہیں کرتا “ تو ان کو بلاشبہ تسلیم کیا جائے اس لیے کہ ایسے حقائق کا انکار بےجا تعصب اور تنگ نظری کے سوا اور کچھ نہیں ‘ اور جو مسائل ابھی تک یقین اور جزم کی اس حد تک نہیں پہنچے جن کو مشاہدہ اور بداہت کہا جاسکے جیسا کہ مسئلہ ” زیر بحث “ تو ان کے متعلق قرآن عزیز کے مطالب میں تاویلات نہیں کرنی چاہئیں اور خواہ مخواہ ان کو جدید تحقیقات کے سانچہ میں ڈھالنے کی سعی ہرگز جائز نہیں ‘بلکہ وقت کا انتظار کرنا چاہیے کہ وہ مسائل اپنی حقیقت کو اس طرح آشکارا کردیں کہ ان کے انکار سے مشاہدہ اور بداہت کا انکار لازم آجائے ‘ اس لیے کہ یہ حقیقت ہے کہ مباحث علمیہ کو تو بارہا اپنی جگہ سے ہٹنا پڑا ہے ‘ مگر علوم قرآنی کو کبھی ایک مرتبہ بھی اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور جب کبھی مسائل علمیہ بحث و نظر کے بعد یقینیات اور مشاہدات کی حد تک پہنچے ہیں تو وہ ایک نقطہ بھی اس سے آگے نہیں گئے جس کو قرآن نے پہلے سے واضح کردیا ہے۔ البتہ اگر کسی مفسر نے ایک آیت کی ایسی تفسیر کردی ہے جو اس مسئلہ کی اصل حقیقت کے خلاف پڑتی ہے تو بلاشبہ اس کے بیان کردہ معانی کو نظر انداز کردینا اور آیت ِ قرآن کو اصل حقیقت کے مطابق ظاہر کرنا قرآن عزیز کا اپنا مطالبہ ہے جو تعقل ‘ تفکر اور تدبر کی باربار دعوت سے ظاہر ہوتا ہے ‘ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ‘ اَفَلَا تَتَدَبَّرُوْنَ ‘ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ یہ بحث صرف ان ہی مسائل سے متعلق ہے ‘ جو تاریخی ‘ جغرافیائی اور طبعی حقائق سے تعلق رکھتے ہیں اور قرآن عزیز نے اس حد تک ان کی طرف توجہ کی ہے جس سے اس کے مقصد ارشاد و ہدایت کو مدد مل سکے ‘ باقی وہ تمام مسائل جن کا تعلق ایک مسلمان کے ” مسلم “ ہونے اور عقائد و اعمال کے اعتبار سے اس کے ” مومن “ کہلانے سے ہے ‘ سو ان کو قرآن عزیز نے جس یقین اور علم حقیقی (وحی الٰہی ) کے ذریعہ بیان کردیا ہے ان میں مطلق کسی قسم کے تغیروتبدل کی گنجائش نہیں ہے ‘ اور نہ وہ کسی تحقیق اور ریسرچ کے محتاج ہیں ‘ مثلاً خدا کی ہستی ‘ آخرت کے وجود ‘ ملائکۃ اللہ ‘ تقدیر اور انبیاء ورسل سے متعلق ایمان و اعتقاد یا نماز و روزہ کی اصل حقیقت ‘ حج و زکوۃ کے معنی و مفہوم وغیرہ یہ تمام مسائل ایک مسلمان کیلئے مطلق کسی جدید تحقیق کے محتاج نہیں ہیں بلکہ ان کے حقاق کے متعلق نصوص نے ہم کو دوسروں سے قطعی بے۔نیاز کردیا ہے۔ اور اس کا دیا ہوا علم ‘ علم یقین (وحی الٰہی) پر مبنی ہے جو اپنی ابدیت کے ساتھ اٹل اور غیرمتبدل ہے۔

  • توراۃ و انجیل (بائبل) میں اس قصہ سے متعلق جو واقعات مذکور ہیں مثلاً سانپ اور طاؤس کا قصہ یا اسی قسم کی اور باتیں جو قرآن عزیز اور صحیح روایات حدیثی میں نہیں پائی جاتیں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟

یہ سب اسرائیلیات کہلاتی ہیں اور بےاصل ہیں ‘ ان کی پشت پر نہ علم یقین اور علم صحیح (وحی الٰہی) کی سند ہے اور نہ عقل و تاریخ کی شہادت ‘ اس لیے من گھڑت اور بےسروپا باتیں ہیں ‘ بعض مفسرین بھی ایسی روایات کے نقل میں سہل انکاری برتتے ہیں جس سے بہت بڑا نقصان یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام نہیں بلکہ خواص بھی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان روایات کو اسلامی روایات میں دخل ہے اور یہ بھی صحیح روایات کی طرح صحیح اور قابل قبول ہیں ‘ اس لیے ازبس ضروری ہے کہ تردید کے ارادہ سے علاوہ تفسیر قرآن میں ہرگز ان کو جگہ نہ دی جائے اور نہ صرف کتب تفسیر و حدیث بلکہ کتب سیرت کو بھی ان سے پاک رکھا جائے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرۃ الانبیاء، ص 48
  2. معانی اسماء الانبياء،منقِذ بن محمود السقَّار
  3. تفسیر صاوی،ج1،ص 49،البقرۃ :30
  4. (التین : ٩٥/٤)
  5. (بنی اسرائیل : ١٧/٧٠)
  6. (البقرۃ : ٢/٣٠)
  7. (الاحزاب : ٣٣/٧٢)
  8. (القیامۃ : ٧٥/٣٦)
  9. (طہ : ٢٠/٥٠)
  10. (البلد : ٩٠/٢٠)
  11. (النساء : ٤/٨٢)
  12. (البقرۃ : ٢/٣٤‘ ٣٥)
  13. (الاعراف : ٧/١١)
  14. (الحجر : ١٥/٢٦ تا ٣١)
  15. (الکہف : ١٨/٥٠)
  16. (ص : ٣٨/٧١ تا ٧٤)
  17. (الاعراف : ٧/١٢)
  18. (الاعراف : ٧/١٢)
  19. (الاعراف : ٧/١٢ تا ١٨)
  20. (الحجر : ١٥ /٣٢ تا ٤٣)
  21. (بنی اسرائیل : ١٧/٦١ تا ٦٥)
  22. (ص : ٣٨/٧٥ تا ٨٥)
  23. (البقرۃ : ٢/٣٠)
  24. (البقرۃ : ٢/٣١ تا ٣٣)
  25. (الاعراف : ٧/٥٤)
  26. (حیوۃ الحیوان)
  27. ؎ صحیح مسلم ‘ کتاب الجمعہ ‘ باب فضل یوم الجمعہ ‘ حدیث : ٨٥٤
  28. ؎ فتح الباری ‘ ج ٦‘ کتاب الانبیاء۔ چونکہ یہ تمام اقوال تخمینی ہیں اس لیے سب کو نقل کردیا گیا اور کسی ایک قول کو ترجیح دینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔
  29. (الکہف : ١٨/٥٠)
  30. (بقرہ : ٢/٣٨)
  31. (الاعراف : ٧/٢٠)
  32. (النساء : ٤/١)
  33. صحیح بخاری ‘ کتاب الانبیاء ‘ باب خلق آدم و ذریتہ ‘ حدیث : ٣٣٣١۔ و صحیح مسلم ‘ کتاب الرضاع ‘ باب وصیۃ بالنساء ‘ حدیث : ١٤٦٦۔
  34. (فتح الباری ‘ ج ٦‘ ص ٢٨٣)
  35. (البقرۃ : ٢/٣٥)
  36. (البقرۃ : ٢/٣٨)
  37. ؎ صحیح مسلم ‘ کتاب الایمان ‘ باب ادنٰی اہل الجنۃ منزلۃ فیھا ‘ حدیث : ١٩٥۔
  38. البدایہ والنہایہ جلد ١ ص ٧٥ تا ٨١
  39. کتاب پیدائش ‘ باب ٢‘ آیات ٨ یا ١٥۔
  40. (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٤ قدیم)
  41. (البقرۃ : ٢/٣٦)
  42. (الاعراف : ٧/٢٠)
  43. (طٰہ : ٢٠/١١٥)
  44. (طٰہ : ٢٠/١٢١)