آدم علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


آدم
مکمل نام آدم
وجۂ وفات طبعی
انبیاء میں شمار اول
منسوب دین اسلام
قرآن میں ذکر آدم کے نام سے
جانشین نبی شیث


اللہ کے اولین پیغمبر۔ ابوالبشر (انسان کا باپ) اور صفی اللہ (خدا کا برگزیدہ) لقب۔ آپ کے زمانے کا تعین نہیں کیاجا سکتا۔ قرآن مجید میں ہے کہ آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی (اور ہم نے بنایا آدمی کھنکھناتے سنسنےگارے سے) سورت 15 آیات 26 ۔ تخلیق کے بعد اللہ تعالٰی نے آدم کو خلیفتہ اللہ فی الارض قرار دیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں سجدہ کرو۔ ابلیس کے سوا تمام فرشتے سربسجود ہوگئے۔ ابلیس نافرمانی کے سبب راندہء دربار ٹھہرا۔ حضرت آدم جنت میں رہتے تے۔ کچھ عرصے بعد اللہ تعالٰی نے ان کی بائیں پسلی سے ایک عورت پیدا کی۔ حوا اس کا نام رکھا۔ ان دونوں کو حکم ہوا کہ جنت کی جو نعمت چاہو، استعمال کرو مگر اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں شمار کیے جاؤ گے۔ لیکن شیطان کے بہکانے پر انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔اس پاداش میں حضرت آدم ؑ اور حضرت حواؑ کو جنت سے زمین کی طرف بھیج دیا گیا۔ اللہ رب العزت قرآن مین فرماتے ہیں کہ:
ہم نے انسان کو ضعیف،کمزوراور جلد باز پیدا کیا۔


بعض روایات کے مطابق ہبوط حضرت آدمؑ کا مقام جزیدہ سراندیپ (سری لنکا) تھا۔ یہاں یہ دونوں دو سو سال تک ایک دوسرے سے جدا رہے۔ آخر خدا نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور حضرت جبریلؑ انھیںمکہ کے قریب جبل عرفات پر چھوڑ آئے ۔ طبری اور ابن الاثیر کی روایت کے موجب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمّ کو یہاں کعبہ بنانے کا حکم دیا اور حضرت جبرئیلّ نے انھیں مناسک ادا کرنے کے طریقے بتائے۔اس طرح آپ نے عمر 960برس کی عمر پائی۔ اور بقول یعقوبی جبل ابوقیس کے دامن میں مغارۃ الکنوز "خزانوں کے غار" میں دفن ہوئےحوالہ درکار؟۔

  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سعودی عرب میں مسجد خیف کے صحن میں ہے۔
  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سعودی عرب کی مسجد خیف کے اندر واقع ہے۔
بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک سری لنکا میں اترنے کے مقام پر واقع ہے۔
  • بعض مورخین کے بقول آپ کی قبرمبارک عراق میں واقع ہے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]