مندرجات کا رخ کریں

آدورگری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
آدورگری
خالقشیخ محمدی
ترتیب اور استعمالتجارت
مقصد
پوشیدہ زبان
مآخذفارسی کا مقامی تنوع[1]
رموزِ زبان
آیزو 639-3کوئی نہیں (mis)
گلوٹولاگadur1234

آدورگری مشرقی افغانستان کے خردہ فروش گروہ شیخ محمدی کے ہاں بولی جانے والی خفیہ زبان ہے جو خاص طور پر اجنبیوں کی موجودگی میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ زبان بچوں کو ابتدائی طور پر نہیں سکھایا جاتتی جب تک کہ وہ چھ یا سات سال کے نہیں ہو جاتے اس سے قبل وہ صرف دری بولتے ہیں۔[2] بالغ افراد اپنی مادری زبان دری کے علاوہ آدورگری بھی روانی سے بولتے ہیں۔[3]:36

اس زبان کا نام غالباً لفظ آدور سے ماخوذ ہے جو ان کی خردہ فروشی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کا ممکنہ تعلق ازبکستان کی خردوری قوم سے ہو سکتا ہے۔[1]

اس زبان کے درج ذیل پانچ الفاظ کا مفہوم موجود ہے:[4]

آدورگری کے الفاظ
لفظ مطلب
چملئی روٹی یا نان
دناب لڑکی، عورت
دوکا مکان
لام گوشت
رشوک مرد

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب Jadwiga Pstrusinska (2013). Secret languages of Afghanistan and their speakers (بزبان انگریزی). Newcastle upon Tyne: Cambridge Scholars Publishing. pp. 36–37. ISBN:978-1-4438-6441-1.
  2. Jadwiga Pstrusińska (2014). Secret Languages of Afghanistan and Their Speakers (بزبان انگریزی). Cambridge Scholars Publishing. ISBN:978-1-4438-6441-1.
  3. A. Olesen (1987). "Peddling in East Afghanistan: Adaptive Strategies of the Peripatetic Sheikh Mohammadi". In Aparna Rao (ed.). The Other Nomads: Peripatetic Minorities in Cross-Cultural Perspective (بزبان انگریزی). Cologne: Böhlau. pp. 35–63. ISBN:3-412-08085-3. Rao (1986) additionally mentions Pashto as being spoken.
  4. Aparna Rao (1995). "Marginality and language use: the example of peripatetics in Afghanistan". Journal of the Gypsy Lore Society (بزبان انگریزی). 5 (2): 69–95.