آرائش محفل (قصہ حاتم طائی)
آرائشِ محفل اردو ادب عالیہ کی نمائندہ کتاب ہے جو حاتم طائی کے قصوں پر مشتمل ہے۔ یہ قصہ فارسی زبان سے اردو میں سید حیدر بخش حیدری نے 1802ء میں گلکرسٹ کی فرمائش پر فورٹ ولیم کالج کے لیے اردو میں منتقل کیا۔ مصنف نے اس میں بہت سی کمی بیشی کی ہے، اس لیے یہ ایک تالیف یا تالیفی ترجمہ ہے۔ یہ داستان اپنے وقت کی تہذیب و ثقافت، گفتار و رفتار کی عکاسی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ [1]
اس میں حاتم طائی کے سات سفروں کا بیان ہے جو اس نے شہزادی حسن بانو کے عشق کی خاطر کیے تھے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوا تھا۔ میر امن کی باغ و بہار کے بعد آرائش محفل بھی اردو کلاسیکی کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ کتاب میر شیر علی افسوس کی آرایش محفل سے الگ تصنیف ہے۔
کتاب کا پس منظر
[ترمیم]جان گلکرسٹ نے فورٹ ولیم کالج کا افتتاح کیا اور اس کے بعد بڑے پیمانے پر ترجمے کا کام شروع کرایا۔ جس کے نتیجے میں سید حیدر بخش حیدری نے حاتم طائی کے قصہ جو اصلا فارسی زبان میں تھا کو ’’آرائش محفل‘‘ کے نام سے اردو زبان میں (1801ء) ترجمہ کیا اور نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ اپنی طرف سے بھی اس میں کمی و بیشی کی چنانچہ ’’آرائیشِ محفل‘‘ کو محض ترجمہ قرار دینا درست نہیں، بلکہ اس کی حیثیت ایک تالیف یا تالیفی ترجمے کی ہے۔
موضوع اور اسلوب
[ترمیم]آرائش محفل کی حیثیت حیدر بخش حیدری کے دوسرے داستانوی تراجم سے ممیز اور ممتاز ہے۔ سیّد حیدر بخش حیدری کی یہ تالیف اُردو زبان میں ہر دو پہلوؤں یعنی موضوع اور اسلوب کے لحاظ سے خاص اہمیت کی حامل ہے۔ آرائش محفل کا اسلوب سادہ، صاف اور رواں ہونے کے باوجود بے کیف اور ادبیت سے کورا نہیں ہے بلکہ اس میں شاعرانہ رنگ آمیزیاں اور رنگین عبارت آرائیاں بھی پائی جاتی ہیں جو اگرچہ کم ہیں مگر اس کتاب کا دامن ان سے خالی نہیں۔
خلاصہ کتاب
[ترمیم]یہ حاتم طائی کے قصوں پر مشتمل ہے اور حاتم طائی اپنے دوست شہزادے کی محبت ڈھونڈنے کے لیے سفر کرتا رہتا ہے اور دوران سفر کبھی پریوں ،جنات اور عجیب الخلقت و ہیئت مخلوقات سے واسطہ پڑتا ہے ۔ کسی داستان کے ہیرو کی طرح اسمِ اعظم کو حاتم سہارا بناتے تمام مخلوقات کے شر سے خود کو اور عوام کو بچاتا ہے ۔ غیب سے حاتم کو مدد فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کتاب میں مابعد الطبیعات کی علامتیں اور مذہبی استعارے بکثرت ملیں گے ۔ کسی عورت کے لیے غزل کہی جاتی ہے جبکہ حیدر صاحب نے مرد حضرات کے حسن کو ایسی علامات سے متعارف کرایا ہے کہ یہ کتاب ان کی نثری غزل کہی جا سکتی ہے ، غزل کے اس طرز کو متعارف کرانے کے علاوہ ، اس کتاب میں جا بجا فارسی کے استعارے و تراکیب استعمال کی گئیں ہیں جس سے پڑھنے والے لفظوں کے حسن سے کھیلنے و محظوظ ہونے کے مواقع بھی ملتے رہتے ہیں ۔
اس کتاب کی اہم خاصیت اس کے نتائج ہیں ، ہر حکایت و سفر کا نتیجہ اک اخلاقی قدر پر رکھا گیا ہے جس سے پڑھنے والا مزید رغبت سے پڑھتا ہے ۔ مصنف پر متصوفانہ رنگ طاری رہا ہے جس کی بدولت زندگی کے ایسے رنگ ، جس پر عام لوگ پھسل جاتے ہیں ، کہانی کے کردار سیسہ پلائی دیوار کی مانند گذر جاتے ہیں ، جذبات کے ایسے رنگوں پر بندھ باندھ کے ذات کی تعمیر کا رخ متعارف کرایا گیا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ اک شاہکار کتاب ہے جس کو پڑھنے کے بعد کتاب کے سحر میں کھو جانا عام سی بات ہے گوکہ اسالیب بہت آسان و سادہ فہم ہیں۔
سات سوال
[ترمیم]داستان میں شہزادی کے ذریعے کیے گئے سات سوالات کے جوابات ہیں جن کو حاتم طائی نے پورا کرنے کے لیے دور دراز کا سفر کیا۔ سوالات یہ تھے:
- ایک بار دیکھا ہے دوسری دفعہ کی ہوس ہے
- نیکی کر اور دریا میں ڈال
- کسی سے بدی نہ کر اگر کرے گا تو وہی پاوے گا
- سچ کہنے والے کو ہمیشہ راحت ہے
- کوہِ ندا کی خبر لاوے
- وہ موتی جو مرغابی کے انڈے برابر بالفعل موجود ہے اس کی جوڑی پیدا کرے
- حمام بادگرد کی خبر لاوے۔
داستان اخلاقی مطالب سے پر اور نیکی کے لیے تشویق دلاتی ہے اس کی عبارت سلیس اور داستانی ہے۔
اقتباسات
[ترمیم]| ” | یہ قصہ عبارت فارسی میں زبان سلیس سے کسی شخص نے آگے لکھا تھا، اب اس سید حیدر بخش متخلص بہ حیدری دلی کے رہنے والے نے حکومت میں امیر والا تدبیر، پشت پناہ ہر پیر و جواں ، دستگیر درماندگان و بے کساں ؛ نوشیروان وقت ، ہمایوں بخت ، زبدۂ نوئینان عظیم الشان، مشیر خاص شاہ کیوان بارگاہ انگلستان مارکویس ولزلی گورنر جنرل بہادر دام افضالہ کی بہ موجب حکم خداوند خدایگان والا شان، عالی خاندان جان گلکرسٹ صاحب بہادر دام اقبالہ کے سنہ بارہ سو سولہ ہجری مطابق اٹھارہ سو ایک عیسوی، موافق سنہ جلوس تینتالیس شاہ عالم بادشاہ غازی کے زبان ریختہ میں موافق اپنی طبع کے اس کتاب سے (جو ہاتھ لگی تھی) ترجمہ نثر میں کیا اور نام اس کا "آرائش محفل" رکھا ؛ پر اکثر اس میں زیادتیاں اپنی طبیعت سے بھی جہاں جہاں موقع اور مناسب پایا، وہاں کیں تاکہ قصہ طولانی ہو جائے اور سننے والوں کو خوش آئے۔ [2] | “ |
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "آرایش محفل، داستانیں حکایات اور قصص"۔ مجلس ترقی اردو لاہور۔ مجلس ترقی اردو پنجاب
- ↑ آرائش محفل ، سید حیدر بخش ، ص 36