آرائیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان اور بھارت میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

تاریخی پس منظر-[ترمیم]

آلِ زورعین کی آمد1200سال قبل از مسیح ہے۔عین یا راعین محبُ العدیہ یعنی قحطانی النسل خاندان بنو حمیرکے ایک الولعزم اور باہمت شہزادے بنی مسرت زیاد الجہور کی اولاد سے ہے۔یہ خاندان یمن میں بادشاہی کرتا تھا۔بنو حمیرقحطان سے ساتویں پُشت میں تھا۔قحطان کے بیٹے کا نام بعصر تھا۔جو حضرت ابراہیم کا ہمعصر تھا۔پریم نے جب ایک قلعہ جبلِ روعین پر تعمیر کیا تواس کا نام پریم زورعین پڑگیا۔پریم زورعین کو آرائیوں کا مورثِ اعلی تصور کیا جاتا ہے۔اس لئے آرائیوں کو آلِ زورعین بھی کہا جاتا ہے۔پریم زورعین کی اُولادسےصحابی رسول حضرت نعمان زورعین رضی الله تعالی عنه ہیں جنہوں نے632؁ء میں حضرت محمدؐ کا دعوت نامہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔کچھ روایات کے مطابق آرائیں قوم کا شجرہ نصب حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنه سے ملتا ہے۔ یعنی یہ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنه کی اولاد میں سے ہیں۔ اسی نسبت سے کچھ آرائیں فاروقی بھی کہلاتے ہیں۔آرئیا وہ افراد ہیں جو اسلامی جنگوں میں جھنڈوں کی حفاظت پر معمور ہوتے تھے۔اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (آرئیہ) ہوتا تھا۔ارئیں قوم کا آبائی علاقہ دریائے اُردن یا دریائے فرات کے کنارے (آریحا)نامی مقام جو ملک  شام کی سرزمین تھی۔جب یہ لوگ سرزمین ہند پہنچے تو آرئیائی و آریحائی اور بعد ازاں آرائیں کہلائے۔آریحا قبیلے کے مشہور سردار شیخ سلیم الرائی ہیں۔جنہوں نے حضرت سلمان فارسی سے دینی علوم و فیض حاصل کیا۔لوگ انکے پاس فیصلے کروانے اتے تھے۔شیخ سلیم الرائی کے فرزند شیخ حبیب الرائی اپنے وقت کے بزورگ تھے۔جنہوں نے شہدائے کربلا کی تجہیز وتدفین کی تھی۔شیخ محمد حبیب الرائی کے فرزندشیخ حلیم الرائی بھی عظیم ہستی ہیں جنہوں نے محمد بن قاسم بن عقیل کے ساتھ مل کر راجہ داہر کی فوج کا مقابلہ کیا۔712؁ء خلیفہ ولید بن عبدالمالک کی منظوری سے گورنر (دمشق)حجاج بن یوسف نے آپنے نو عمر داماد محمد بن قاسم کو12000 شامی جہادی لشکرجس میں 6000 اریحا قبیلے کے آفراد شامل تھے راجہ دا ہر کی راج دہانی سندھ میں بھیجا۔راجہ داہر اپنی فوج سمیت جھنگ میں مارا گیا۔محمد بن قاسم نے ملتان،بیکانیر،ستلج،دہلی،دریائے سرسوتی تک کا علاقہ فتح کر لیا۔یوں آریحائی لوگ برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئے۔جرنیل سپہ سالار محمد بن قاسم ساڑھے 3سال ہند ،سندھ میں رہے۔اسی دوران خلیفہ ولید اور گورنر حجاج بن یوسف کا یکے بعد دیگر انتقال ہو گیا۔اورخلیفہ سلمان نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر ظلم کئے۔فتح ہند کے بعد خلیفہ سلیمان نے محمد بن قاسم کو واپس بلا کر قید کر ادیا۔ محمد بن قاسم 7ماہ قید میں ہی وفات پا گئے۔خلیفہ سلیمان نے شیخ حلیم الرائی کو محمد بن قاسم کا ساتھی ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔خلیفہ کی ان ظالمانہ کاروا ئیوں کی وجہ سے آریحائی قوم نے اپنے وطن واپس نہ جانے اور برصغیر قیام کا فیصلہ کر لیا۔شیخ حلیم الرائی نے آریحائی لوگوں میں زمین تقسیم کی تو  آریحائی فوج نے ملازمت چھوڑ کر کھیتی باڑی کرنے لگے۔آرائیوں کا پیشہ ذراعت اور باغ بانی ہے ۔ پیاز اگانے،کھانے اور سالن کوپیاز کا تڑکا لگانے کا طریقہ بھی تمام اقوام نے انہیں سے سیکھا۔آرائیں عربی نسل سے ہے مگر عرب سے عجم تک کے سفر میں انکی زبان اور تہذیب میں نمائیاں فرق آیا ہے۔

اریحائی سے آرائیں-[ترمیم]

آرائیں اُردو زبان کا لفظ ہے۔پنجابی آراعیں کہتے ہیں۔راعی کے معنی(کاشتکار)کے ہیں۔لفظ آرائین درصل عربی کا لفظ(اراعین)ہے۔جو کثرت استعمال اور امتدادِزمانہ سے آرائیں بن گیا ہے۔اس قوم کا اصل نام راعی یا راعین تھا۔عرفِ عام میں آرائیں کہا جاتا ہے۔. صدیوں تک غیرعرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب اریحائی جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہوگئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں بےشمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ مقامی لوگوں کیلئے عربی کے حرف ’ح‘ کا اصل تلفظ کرنا مشکل تھا اور لفظ اریحائی وقت کے ساتھ ساتھ ’’ارائی‘‘ پھر ’’ارائیں‘‘ اور پھر بالآخر آرائیں بن گیا۔

آرائیں قوم کا شجرہ نصب-[ترمیم]

  • قریش۔غالب۔لوی۔قیس۔منیرہ۔عبدالدار۔حارث۔حمیر۔سُہل۔زیادالجہور۔حُرت۔پریم زورعین۔اکبر۔مدثر۔اصغر۔سفیان۔ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنه - (یا حضرت نعمان زورعین رضی الله تعالی عنه) ۔شیخ سلیم الرائی۔

دیگر روایات کی تردید-[ترمیم]

برصغیر میں بسنے والے دیگر مسلمانوں کے برخلاف آرائیوں کی سو فیصد آبادی مسلمان ہے۔ یہ عربی النسل ہیں، اگر یہ کسی آریان تہذیب کی نسل سے ہوتے تو دیگر نومسلم ذاتوں کی طرح ان کی اتنی کثیر آبادی کا بیس تیس فیصد حصہ یقیناً ہندو یا سکھوں پر مشتمل ہوتا۔ محمد بن قاسم (رح)کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجہ داہر کی قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا ۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان والے لشکر کا نام( قلب )تھا ۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے ۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے ۔اس جھنڈے کا ذکر نبی اکرم محمد ( صلی علیہ وسلم ) نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام (ر ض )نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں ۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا ۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ ا کے بعد ل بولی نہیں جاتی ۔الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں ۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے.

آرائیں قوم کے القابات ۔[ترمیم]

  • شیخ۔شاہ۔مُلا۔میاں۔ملک۔چوہدری۔بھٹو۔مہر۔حجازی۔سلیمی۔شامی۔آرئیا۔عرب کی سر زمین پر بسنے والے آرائیں شیخ کہلاتے ہیں۔قصور کے آرائیں شاہ کہلاتے ہیں۔لاہورکے آرائیں مہر کہلاتے ہیں۔ملتان کے آرائیں مُلا کہلاتے ہیں۔لاڑکانہ کے آرائیں بھٹو کہلاتے ہیں۔بہاولپور کے آرائیں ملک کہلاتے ہیں۔بہاولنگر،رحیم یار خاں،گوجرانوالہ،حافظ آباد اور دیگر ضلع کے رہنے والے چوہدری کہلاتے ہیں۔مظفر نگر اور بریلی بیت کے آرائیں شیخ کہلاتے ہیں۔امرتسر میں بسنے والے آرائیں سردار خاں کہلاتے ہیں۔آرائیں قوم اپنے بزرگوںکومیاں کہتے تھے۔ بنو سلیم کی زُریات(اُولاد) سلیمی کہلاتی ہے۔اس لئے آرائیوں کو سلیمی یا شامی بھی کہا جاتا ہے
  • اریحا
  • محمد بن قاسم