آرائیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔آرائیں کہاں سے آئے تھے؟

آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان اور بھارت میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔آپ میں سے بھی بہت سے آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ آئیے آپ دوستوں کو ان کی تاریخ کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں جو یقینا آپ کے لیے دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث ہوگی۔ذہن میں رہے ذات صرف ہماری پہچان کے لیے ہوتی ہے ۔ اس پر فخر کرنا مناسب نہیں۔ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پنجابی پٹھان آرائیں بلوچ راجپوت جاٹ وغیرہ ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی ہے۔اب اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔

آرائیں ذات کے آباؤاجداد اریحائی فلسطینی عرب تھے، جو 712ء ميں دریائے اردن کے کنارے آباد شہر اريحا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں سے 6,000 اریحائی تھے۔ محمد بن قاسم تقریباً 4 سال تک سندھ میں رہے۔ اسی دوران گورنر عراق حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کا یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا۔ خليفہ سلیمان بن عبدالملک نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر سخت مظالم ڈھائے۔ اسی دوران اس نے محمد بن قاسم کو بھی حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے عرب واپس بلایا، جہاں وہ 7 ماہ قید میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔

خليفہ کی ان ظالمانہ کارروائيوں کی وجہ سے اریحائی فوجیوں نے اپنے آبائی وطن واپس نہ جانے اور برصغیر ہی میں ہی قيام کا فيصلہ کرليا۔ خلیفہ کے عتاب سے بچنے کے لیے انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور کھیتی باڑی کواپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ کچھ عشروں بعد وہ آہستہ آہستہ وسطی اور مشرقی پنجاب کی طرف چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اگلی نسلیں پورے برصغیر میں پھیل گئیں۔

اریحائی یا الراعی سے

محمد بن قاسم (علیہ رحمہ)کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجہ داہر کی قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا ۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان والے لشکر کا نام( قلب )تھا ۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے ۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے ۔اس جھنڈے کا ذکر نبی اکرم محمد ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام (ر ضوان اللہ تعالی علیہ اجمعین )نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں ۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا ۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ عربی میں ا کے بعد ل نہیں بولی جاتی ۔الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں ۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین Arian نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے.۔خلاصہ کلام یہ کہ آرائیں قوم برصغیر پاک وہند میں عرب سے محمد بن قاسم کی قیادت میں ہی آئی تھی۔جو بعد میں مستقل طور پریہاں رہائش پزیر ہو گئی۔ان میں زیادہ تر لوگ آج بھی کھیتی باڑی کے شعبے سے ہی منسلک ہیں۔ واللہ اعلم



Umar shami

تاریخی پس منظر[ترمیم]

آلِ زورعین کی آمد1200سال قبل از مسیح ہے۔ عین یا راعین محبُ العدیہ یعنی قحطانی النسل خاندان بنو حمیرکے ایک الولعزم اور باہمت شہزادے بنی مسرت زیاد الجہور کی اولاد سے ہے۔ یہ خاندان یمن میں بادشاہی کرتا تھا۔ بنو حمیرقحطان سے ساتویں پُشت میں تھا۔ قحطان کے بیٹے کا نام بعصر تھا۔ جو حضرت ابراہیم کا ہمعصر تھا۔ پریم نے جب ایک قلعہ جبلِ روعین پر تعمیر کیا تواس کا نام پریم زورعین پڑ گیا۔ پریم زورعین کو آرائیوں کا مورثِ اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے آرائیوں کو آلِ زورعین بھی کہا جاتا ہے۔ پریم زورعین کی اُولادسے صحابی رسول حضرت نعمان زورعین رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جنہوں نے 632؁ء میں حضرت محمدؐ کا دعوت نامہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ آرائیں وہ افراد ہیں جو اسلامی جنگوں میں جھنڈوں کی حفاظت پر معمور ہوتے تھے۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (آرئیہ) ہوتا تھا۔ ارائیں قوم کا آبائی علاقہ دریائے اُردن یا دریائے فرات کے کنارے (آریحا)نامی مقام جو ملک  شام کی سرزمین تھی۔ جب یہ لوگ سرزمین ہند پہنچے تو ارائیں اور بعد ازاں آرائیں کہلائے۔ آرائیں قبیلے کے مشہور سردار شیخ سلیم آرائیں ہیں۔ جنہوں نے حضرت سلمان فارسی سے دینی علوم و فیض حاصل کیا۔ لوگ ان کے پاس فیصلے کروانے اتے تھے۔ شیخ سلیم آرائیں کے فرزند شیخ حبیب آرائیں اپنے وقت کے بزورگ تھے۔ جنہوں نے شہدائے کربلا کی تجہیز وتدفین کی تھی۔ شیخ محمد حبیب آرائیں کے فرزندشیخ حلیم آرائیں بھی عظیم ہستی ہیں جنہوں نے محمد بن قاسم بن عقیل کے ساتھ مل کر راجا داہر کی فوج کا مقابلہ کیا۔ 712؁ء خلیفہ ولید بن عبد المالک کی منظوری سے گورنر (دمشق)حجاج بن یوسف نے آپنے نو عمر داماد محمد بن قاسم کو12000 شامی جہادی لشکرجس میں 6000 آرائیں قبیلے کے آفراد شامل تھے راجا دا ہر کی راج دہانی سندھ میں بھیجا۔ راجا داہر اپنی فوج سمیت جھنگ میں مارا گیا۔ محمد بن قاسم نے ملتان،بیکانیر،ستلج،دہلی،دریائے سرسوتی تک کا علاقہ فتح کر لیا۔ یوں آرائیں لوگ برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئے۔ جرنیل سپہ سالار محمد بن قاسم ساڑھے 3سال ہند ،سندھ میں رہے۔ اسی دوران میں خلیفہ ولید اور گورنر حجاج بن یوسف کا یکے بعد دیگر انتقال ہو گیا۔ اورخلیفہ سلمان نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر ظلم کیے۔ فتح ہند کے بعد خلیفہ سلیمان نے محمد بن قاسم کو واپس بلا کر قید کر ادیا۔ محمد بن قاسم 7ماہ قید میں ہی وفات پا گئے۔ خلیفہ سلیمان نے شیخ حلیم آرائیں کو محمد بن قاسم کا ساتھی ہونے کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ خلیفہ کی ان ظالمانہ کاروا ئیوں کی وجہ سے آرائیں قوم نے اپنے وطن واپس نہ جانے اور برصغیر قیام کا فیصلہ کر لیا۔ شیخ حلیم الرائی نے آرائیں لوگوں میں زمین تقسیم کی تو  آرائیں فوج نے ملازمت چھوڑ کر کھیتی باڑی کرنے لگے۔ آرائیوں کا پیشہ ذراعت اور باغ بانی ہے۔ کھیتی باڑی کا طریقہ بھی تمام اقوام نے انہیں سے سیکھا۔ آرائیں عربی نسل سے ہے مگر عرب سے عجم تک کے سفر میں انکی زبان اور تہذیب میں نمائیاں فرق آیا ہے۔

ارائیں سے آرائیں[ترمیم]

آرائیں اُردو زبان کا لفظ ہے۔ پنجابی ارائیں کہتے ہیں۔ آرائیں کے معنی(کاشتکار)یعنی زمیندار کے ہیں۔ لفظ ارائیں درصل عربی کا لفظ(ارائیں)ہے۔ جو کثرت استعمال اور امتدادِزمانہ سے آرائیں بن گیا ہے۔ عرفِ عام میں آرائیں کہا جاتا ہے۔ ۔ صدیوں تک غیر عرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب ارائیں جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہو گئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں بے شمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ مقامی لوگوں کے لیے عربی کے حرف ’ح‘ کا اصل تلفظ کرنا مشکل تھا اور لفظ ارائیں وقت کے ساتھ ساتھ پھر اور پھر بالآخر آرائیں بن گیا۔

آرائیں قوم کا شجرہ نسب[ترمیم]

قریش، غالب، لؤی، قیس، مغیرہ، عبد الدار، حارث، حمیر، سُہل، زیادالجہور، حُرت، پریم زورعین، اکبر، مدثر، اصغر، سفیان، حضرت عمر فاروق/حضرت نعمان زورعین، شیخ سلیم آرائیں۔

آرائیں قوم کے القابات۔[ترمیم]

  • شاہ۔ مُلا۔ میاں۔ چوہدری۔ مہر۔ حجازی۔ سلیمی۔ شامی۔ عرب کی سر زمین پر بسنے والے آرائیں شیخ کہلاتے ہیں۔ قصور کے آرائیں شاہ کہلاتے ہیں۔ لاہورکے آرائیں مہر کہلاتے ہیں۔ ملتان کے آرائیں مُلا کہلاتے ہیں۔ ساہیوال بہاولپور بہاولنگر رحیم یارخاں گوجرانوالہ،حافظ آباد اور دیگر ضلع کے رہنے والے آرائیں چوہدری کہلاتے ہیں۔ امرتسر میں بسنے والے آرائیں سردار خاں کہلاتے ہیں۔ آرائیں قوم اپنے بزرگوں کومیاں کہتے تھے۔ بنو سلیم کی زُریات(اُولاد) سلیمی کہلاتی ہے۔ اس لیے آرائیوں کو سلیمی یا شامی بھی کہا جاتا ہے
  • محمد بن قاسم