آرائیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
آرائیں
الرائیں Raeen, Alrain or Arai

Screenshot 20200218-205406 Samsung Internet.jpg

آرائیں
مذاہب اسلام (100 فیصد)
زبانیں پنجابی زبان، اردو زبان ]♧عربی
ملک بنیادی طور پر پاکستان ہندوستان اور شام
علاقہ خطۂ پنجاب، سندھ، اتر پردیش اور افغانستان بلوچستان پختونخواہ

آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان میں پنجاب اور سندھ خیبر پختونخواہ بنوں اور بھارت میں اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ برطانوی استعمار سے آزادی سے قبل یہ [[پنجاب (بھارت) میں بھی بکثرت آباد تھے، جو قیام پاکستان کے موقع پر ہجرت کر کے پاکستانی پنجاب چلے گئے۔ اپنے زرعی اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ [1]


محمد بن قاسم کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجا داہر کی قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان میں والے لشکر کا نام( قلب )تھا۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے۔اس جھنڈے کا ذکر ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا ۔ لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ عربی میں ا کے بعد ل نہیں بولی جاتی۔ الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین Arian نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے۔۔خلاصہ کلام یہ کہ آرائیں قوم برصغیر پاک وہند میں عرب سے محمد بن قاسم کی قیادت میں ہی آئی تھی۔جو بعد میں مستقل طور پریہاں رہائش پزیر ہو گئی۔ برصغیر میں کوئی شاذ ونادر ہی الرائیی قوم کے علاوہ کوئی قوم ہو گی جو سو فیصد مسمان ہو حتی کہ ملتان میں جو 10 ہزار اولیاء اکرام کی قبریں ہیں سب کے سب الرائیی ہیں ۔یہ سب محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کی فوج کے مجاھدین تھے جنہیں ملک سلمان بن مروان نے راجہ داہر کو قتل کرنے کے بعد مزید پیش قدمی سے روک دیا تھا اور حکم دیا گیا جو زمینیں جہاد کی وجہ سے ملکیت میں آئی ہیں انہیں آباد کروایا جائے اسی لئے الرائیں قوم کا پیشہ زمیندار ہے (زمینوں کے مالک)ہے نہ کہ خود کھیتی باڑی کرنا ۔کھیتی باڑی خود کرنا جاٹ قوم کا پیشہ ہے ۔جاٹ قوم میں سب سے پہلے مسلمان ہونے والے کا نام بھیم سنگھ تھا جوکہ راجہ داہر کا سپہ سالار تھا ۔جس کے نام سے آج بھی انڈیا میں بچوں کے کارٹون مشہور ہیں

الرائیں قوم میں مشہور گوت (میاں) میاں عربی زبان کا ہندسہ 100ہے میا میا ۔سو بٹہ سو (سو فیصد )ہے جو آج بھی مستعمل ہے ان فوجیوں اور ان کی اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے جو لشکر کے ساتھ ملک شام سے شہادت یا طبعی موت تک ساتھ رہے۔ اور جنہوں نے جنگ کا خرچہ سب خود اٹھایا ۔( مھر) عربی نسل کے جنگی گھوڑے کو عمر کے حساب سے ہر سال علیحدہ نام سے پکارا جاتا ہے جب یہ تمام گھوڑوں میں قیمتی گھوڑا دس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسے مھر کہتے ہیں جن فوجیوں کے پاس یہ گھوڑا تھا ان کو مھر والے کہا جاتا ہے ۔مھر لفظ کا اصل تلفظ میم کے اوپر پیش پڑھنے سے(موھر) ادا ہوتا ہے اس گوت کے لوگ عرب کے ہر ملک میں موجود ہیں ۔میرا ایک فلسطین کا دوست مھر زرار اور ان کی بیگم اردن سے ہیں جن کا نام ام رعد المھر ہے انہوں نے مجھے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہوا ہے ۔یہ معلومات انہوں نے بتلائی ہیں ۔ میری منہ بولی ماں جن کو میں خالہ کہتا ہوں وہ ہسٹری کی ٹیچر ہیں ۔میری یہ اکثر معلومات انہی کی مرہون منت ہوتی ہیں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ایک بیٹے کی قبر مبارک کابل کے صحابہ اکرام کے قبرستان میں موجود ۔اس ایک قبر میں ستر صحابہ اکرام (رض) مدفون ہیں ۔ان اصحاب کے سپہ سالار مشہور صحابی حضرت تمیم داری اور حضرت جبیر (رض) تھے ان قبریں بھی علیحدہ ساتھ ہی ہیں ۔نبی صل اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبہ میں ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ اکرام موجود تھے مگر جزیرہ عرب میں تقریبا دس ہزار صحابہ دفن ہیں باقی ان سب کی قبریں اور ان کی اولادوں کی قبریں پوری دنیا میں ہیں جس وقت محمد بن قاسم علیہ الرحمہ نے برصغیر پر چڑھائی کی اس وقت چھ صحابہ اکرام زندہ تھے۔یہ بعید از قیاس ہے کہ عمر فاروق (رض) کی اولاد میں سے کوئی اس اتنی اہم مہم می شامل نہ ہو ۔برصغیر فتح ہوئے تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال ہو چکے ہیں

( سلیمی) اس قبیلے کا پورا نام الراعی الغنم اور راعی الحواشی ہے مطلب جانوروں اور بکریوں کے چرواھے یہ اس دور میں بڑا مالدار اور عزت والا قبیلہ مانا جاتا تھا ۔اسی قبیلے کا ایک مشہور فرد سلیم الراعی کی وجہ سے محمد بن قاسم کی فوج میں شامل مجاھدین اور اس کی اولاد اپنے نام کے ساتھ سلیمی لگاتے ہیں۔۔ تاریخ کی کتابوں میں اور پرانے لکھاری سب آرائیوں کو سلیم الراعی کی زریت (اولاد) پتہ نہیں کیوں اور کیسے لکھ گئے ہیں حالانکہ ساتھ ساتھ پورا واقعہ بھی لکھ گئے کہ محمد بن قاسم کی فوج کو کیسے عوام میں (محمد بن قاسم بمقابلہ ملک سلمان) نیزہ بازی کے مقابلے اور عوام میں جہاد کے اعلانات سے اکٹھا کیا گیا ۔ان اعلانات کی بدولت گورنر یمن قاسم بن یوسف اور گورنر عراق حجاج بن یوسف جو کہ محمد بن قاسم کے والد اور چچا ہیں اور ملک سلمان بن مروان کو نیزہ بازی میں ہرانا یہ سب عوامل ہیں جن کی وجہ سے لشکر تیار کیا گیا ۔اس میں اوائیل اسلام کا زمانہ تھا ابھی چھ صحابہ (رض) حیات تھے قرین قیاس ہے کہ اس میں اصحاب رسول کی اولاد کی کثیر تعداد شامل تھی

رائیوں کی گوتیں قبیلے

روہیل یا رحیل – اونٹ کا پلان، لمبا سفر کرنے والے

گهار- گهڑ سوار فوج کا حصہ گوہیر – سرکش گهوڑے سنبھالنے والے

گتکو- لڑنے مرنے والے، گتکہ باز، تلوار کے دهنی
کهتورہ – جاسوسی کرنے والے، فوج کا مخصوص حصہ

. ملتانی – ملتان کے رہنے والے . کوالی – گشت کرنے والے فوجی . بصرو- دشمن کی فوج پر نظر رکهنے والے . بہمن – بہت بہادر . بهٹہ – بهٹو . بهیلہ – خیرات کی تهیلی تهام کر چلنے والا خادم

نین – دریا کے کنارے رہنے والے

. شندور – چوکیدار، پاسبان . چهجر-- بیرون حفاظتی باڑ والے . ڈولے – جنگی زمینوں کے زمیندار . رامے – نیزہ باز . رتے – سرخ، خونی، دہشتناک جنگجو . رمدے – سرخ آنکهوں والے، فوج . لبانے – عقلمند، دانا . وہرہ – بہادر . جتالے – جیتنے والے . . سیال – رعب، نشانہ باز . بہلوان – رته چلانے والے . مند – گلہ بان، ریوڑ کی حفاظت والے . سقی– پانی کے زمہ دار . ساندہ – جال والے، جسمیں سامان حرب بانده دیا جاتا ہے . مده – رسد بردار، فوج کو خوراک پہنچانے والے . منذ– سرکردہ، استاد تیر انداز . . کتکار بند – ایک خاص ہتهیار کتکار سے لڑنے والے .

تاریخی پس منظر[ترمیم]

آرائیں ذات کے آباؤاجداد اریحائی فلسطینی عرب تھے، جو 712ء ميں دریائے اردن کے کنارے آباد شہر اريحا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں سے 6,000 اریحائی تھے۔ محمد بن قاسم تقریباً 4 سال تک سندھ میں رہے۔ اسی دوران گورنر عراق حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ خليفہ سلیمان بن عبدالملک نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر سخت مظالم ڈھائے۔ اسی دوران اس نے محمد بن قاسم کو بھی حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے عرب واپس بلایا، جہاں وہ 7 ماہ قید میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔

خليفہ کی ان ظالمانہ کارروائيوں کی وجہ سے اریحائی فوجیوں نے اپنے آبائی وطن واپس نہ جانے اور برصغیر ہی میں قيام کا فيصلہ کرليا۔ خلیفہ کے عتاب سے بچنے کیلئے انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور کھیتی باڑی کواپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔

99ھ میں سلیمان بن عبدالملک کے بعد عمر بن عبدالعزیز خلفیہ مقرر ہوئے، جن کے دور میں سندھ میں امان امان رہا۔ 101ھ میں ان کی وفات کے بعد یزید بن عبدالملک خلیفہ مقرر ہوا، جس نے حکم بن عوانہ کلبی کو گورنر بنا کر سندھ بھیجا۔ اس کے ساتھ محمد بن قاسم کا بیٹا عمر بن محمد بن قاسم بھی تھا۔ وہ یہاں آیا تو دیکھا کہ سندھ کے اکثر علاقوں میں بغاوت پھیل چکی ہے اور راجہ داہر کے خاندان کے باقی ماندہ افراد اپنا ملک واپس حاصل کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، نیز نومسلم سندھی مرتد ہونے لگے ہیں۔ ان حالات میں محمد بن قاسم کے ساتھ آنے والی فوج کے ہزاروں سپاہی جو اب اموی خلافت سے دلبرداشتہ ہو کر زراعت کا پیشہ اختیار کر چکے تھے، ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی تھیں۔ چنانچہ اس نے انہیں ایک جگہ اکٹھا کیا اور محفوظہ کے نام سے ایک شہر بنا کر اس میں آباد کیا۔ یوں بکھری ہوئی قوم ایک بار پھر منظم ہوگئی۔[2] حکم بن عوانہ کی وفات کے بعد عمر بن محمد بن قاسم کو گورنر بنا دیا گیا، جس نے دریا کے مغربی کنارے پر منصورہ کے نام سے ایک نیا شہر آباد کیا، جو سلطان محمود غزنوی کے دور تک موجود تھا۔

بنوعباس کے دور میں عمر بن عبدالعزیز ہباری نے منصورہ پر قبضہ کر لیا اور خلافت سے گورنری کا پروانہ بھی حاصل کر لیا۔ اس نے 270ھ تک (تقریباً 30 سال) حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا خاندان 416ھ تک منصورہ پہ حکومت کرتا رہا۔[3]

بعد ازاں وہ شہر ایک زلزلے کے نتیجہ میں بری طرح تباہ ہوا۔ اس موقع پر مقامی ہندو جاٹوں نے موقع غنیمت جان کر تباہ حال شہر میں مزید لوٹ مار کی۔ اس ناگفتہ بہ صورتحال کے پیش نظر ساری قوم بکھر گئی اور جس کے جہاں سینگ سمائے چلا گیا۔ اگلے عشروں میں وہ آہستہ آہستہ وسطی اور مشرقی پنجاب کی طرف چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اگلی نسلیں پورے برصغیر میں پھیل گئیں۔

آرائیں قوم کے اجداد[ترمیم]

آرائیں قوم کے اجداد میں سے سلیم الراعی اور ابو سعید الراعی کا ذکر اسلامی تصوف کی معروف کتاب تذکرۃ الاولیا میں موجود ہے۔ سلیم الراعی امام شافعی کے مرشد تھے اور ابو سعید الراعی بھی ایک صاحب کرامت بزرگ تھے۔

سیلم الراعی عراق کے رہنے والے تھے، جو یزیدی مظالم سے تنگ آ کر ملک شام کی طرف چلے گئے تھے اور دریائے فرات کے کنارے قیام کرکے عربوں کا آبائی پیشہ گلہ بانی شروع کر رکھا تھا۔ آپ کے ایک فرزند الشیخ حبیب الراعی ایک باکمال بزرگ تھے۔ حضرت علی ہجویری عرف داتا گنج بخش نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں بیان کیا ہے کہ الشیخ حبیب الراعی بن سلیم الراعی دریائے فرآت کے کنارے بکریاں چرایا کرتے تھے۔ انہوں نے حضرت سلمان فارسی سے فیض حاصل کیا تھا اور انہوں نے شہدائے کربلا کی تجہیز و تدفین بھی کی تھی۔ شیخ محمد حبیب الراعی کے فرزند شیخ حلیم الراعی نے محمد بن قاسم بن عقیل کے ساتھ مل کر راجا داہر کی فوج کا مقابلہ کیا تھا۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

آرائیں ذات کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف روایات مشہور ہیں، جن میں سے بعض ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، جبکہ بعض دوسری تاریخی حقائق کے ساتھ بالکل مناسبت نہیں رکھتیں۔

اریحائی سے آرائیں[ترمیم]

صدیوں تک غیرعرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب اریحائی جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہوگئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں بےشمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ مقامی لوگوں کیلئے عربی کے حرف ’ح‘ کا اصل تلفظ کرنا مشکل تھا، چنانچہ لفظ اریحائی وقت کے ساتھ ساتھ ’’ارائی‘‘ پھر ’’ارائیں‘‘ اور پھر بالآخر آرائیں بن گیا۔

الراعی سے آرائیں[ترمیم]

ایک دوسرے امکان کے مطابق پہلے اریحائی لفظ الراعی سے تبدیل ہوا، جو عربی کا ہی ایک لفظ ہے، جس کے معنی چرواہے کے ہیں۔ الراعی میں ’ر‘ حرف شمسی ہے۔ عربی زبان و ادب میں حروفِ شمسی کا یہ قاعدہ ہے کہ جب ان سے پہلے ’الف لام‘ لگتا ہے تو ’الف‘ بولا جاتا ہے اور ’ل‘ حذف ہوجاتا ہے، یوں ’الراعی‘ سے اراعی ہوگیا۔ عجم حرف ’ع‘ کی ادائیگی درست نہیں کر سکتے، اس لئے حرف ’ع‘ حرف ’ء‘ کے ساتھ تبدیل ہوگیا، یوں ارائی سے جمع کی صورت میں ارائیں ہوگیا۔

الرائی سے آرائیں[ترمیم]

آرائیں وہ افراد ہیں جو جنگوں کے دوران میں جھنڈوں کی حفاظت پر مامور ہوا کرتے تھے۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرئیہ) ہوا کرتا تھا۔ ارائیں قوم کا آبائی علاقہ دریائے اردن یا دریائے فرات کے کنارے اریحا نامی مقام تھا، جو ملک شام کی سرزمین میں واقع تھا۔ جب یہ لوگ سرزمین ہند پہنچے تو ارائیں اور بعد ازاں آرائیں کہلائے۔ آرائیں قبیلے کے مشہور سردار شیخ سلیم آرائیں ہیں۔

دیگر ضعیف روایات[ترمیم]

  • ایک اور روایت کے مطابق آرائیں آریان تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، جس کا پتہ ہڑپہ سے چلتا ہے، جہاں وہ لوگ تین ہزار قبل مسیح آباد تھے۔
  • اس کے علاوہ ایک اور روایت بھی موجود ہے کہ یہ لوگ وسط ایشیائی ریاستوں سے برصغیر آئے تھے۔

مذکورہ بالا ضعیف روایات کی تردید میں آج کی آرائیں ذات کو ماضی کے اریحائی ثابت کرنے والے کہتے ہیں کہ برصغیر میں بسنے والے دیگر مسلمانوں کے برخلاف آرائیوں کی سو فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اگر یہ کسی آریان تہذیب کی نسل سے ہوتے تو دیگر نومسلم ذاتوں کی طرح ان کی اتنی کثیر آبادی کا بیس تیس فیصد حصہ یقیناً ہندوؤں یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل ہوتا۔

اہم گوتیں[ترمیم]

  • بھٹو
  • رامے
  • کھتورے
  • سگی
  • سلیمی
  • مہر
  • میاں
  • رمدے
  • باغبان
  • چوھدری
  • شامی

تحریک آزادی میں کردار[ترمیم]

پاکستان بنانے میں آرائیں قوم کا کردار نمایاں تھا۔ 1857ء کی تحریک آزادی میں پیلی بھیت، بریلی اور سرسہ کے آرائیں خاندان پیش پیش رہے۔ اس تحریک کے ایک نڈر اور مایہ ناز مجاہد مولانا محمد جعفر تھانیسری آرائیں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور بعد میں کالا پانی بھیج دیا گیا، جہاں سے وہ 1908ء میں واپس وطن آئے۔

1860ء میں موضع دهندری میں شیخ منظور احمد کی سرپرستی میں ارائیں برادری نے ایک دارالعلوم کی بنیاد ڈالی، جس نے نصف صدی تک علم و عرفان کی تجلیاں پهیلائیں۔ پاکستانی افواج کے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل میاں فہیم الدین ایم۔اے اسی مدرسے کے تربیت یافتہ تهے۔ ارائیں برادری کا ایک کالج ابهی تک پیلی بهیت میں موجود ہے۔ تحریک آزادی میں میاں محمد حسین آرائیں، میاں عبد الباری آرائیں اور سردار محمد شفیع آرائیں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مجلس احرار کے صدر مولوی حبیب الرحمن لدھیانوی آرائیں اور جیوش احرار ہند کے سالار سردار محمد شفیع آرائیں نے بھی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ نے جب قیام پاکستان کے لیے آواز اٹھائی تو اس وقت پنجاب حکومت میں آرائیں برادری کے معزز ارکان کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ یونینسٹ وزارت کو گرانے والے میاں افتخارالدین آرائیں نے خضر حیات وزیر اعلیٰ پنجاب کو شکست دی۔

علی گڑھ کی تحریک میں سر سید احمد خان کا ساتھ دینے والوں میں سردار جسٹس شاہ دین ہمایوں پیش پیش تھے۔ مارچ 1908ء میں مسلم لیگ کا آئین منظور کرنے والے اجلاس کی صدارت میاں شاہ دین ہمایوں نےکی تھی۔ اس وقت بھی اس چیز کو پسند نہ کرنے والوں نے شرارت کی اور مسلم لیگ کچھ اختلافات کی وجہ سے دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ ایک گروہ سردار محمد شفیع آرائیں کے نام سے شفیع گروپ کہلایا جب کہ دوسرا گروپ قائد اعظم محمد علی جناح کا جناح گروپ کہلایا اور جناح گروپ کانگرس میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد نہرو رپورٹ کے سامنے آنے پر قائداعظم محمد علی جناح کانگرس سے دل برداشتہ ہو گئے۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی کوشش سے 1929ء میں مسلم لیگ کے دونوں گروپ آپس میں اکٹھے ہو گئے۔ روہیل کهنڈ کی ارائیں برادری نے 1946ء کے عام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس برادری کے زیادہ تر افراد 1950ء اور 1955ء میں ہجرت کر کے سندھ میں آباد ہوگئے۔ کچھ صاحب حیثیت افراد نے ہجرت نہیں کی اور ابھی تک پیلی بهیت وغیرہ میں اپنی آبائی زمینوں میں مقیم ہیں۔

مقامی زبانوں پہ اثرات[ترمیم]

محمد بن قاسم کے ساتھ آنے والے 12 ہزار مجاہدین کے لشکر نے مقامی زبانوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ صدیوں تک غیر عرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب اریحائی جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہوگئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی مقامی زبانوں میں بے شمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ چنانچہ سندھی اور پنجابی زبانوں میں عربی زبان کے الفاظ بکثرت شامل ہوئے، جو آج تک متداول ہیں۔ نیز اسی خطہ پنجاب میں اردو زبان کا خمیر پروان چڑھا، جس نے چند صدیوں بعد اتر پردیش میں جا کر ارتقائی مراحل طے کئے اور اردو زبان کو وجود بخشا۔ ’’پنجاب میں اردو‘‘ کی اشاعت سے حافظ محمود شیرانی نے اپنے گہرے لسانی مطالعہ اور ٹھوس تحقیقی بنیادوں پر یہ نظریہ قائم کیا کہ اردو زبان کی ابتداء پنجاب میں ہوئی، جس میں اس زمانے موجودہ سرحدی صوبہ اور سندھ بھی شامل تھے۔ 1193ء میں قطب الدین ایبک کے لشکروں کے ساتھ دہلی کی طرف پیش قدمی سے قبل مسلمان تقریباً پونے دو سو سال تک پنجاب میں حکمران رہے۔ دہلی پر قبضے کے بعد چند سالوں کے اندر اندر وہ سارے شمالی ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ اب لاہور کی بجائے دہلی کو دار الخلافہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو لازماً مسلمانوں کے ساتھ ان کی وہ زبان بھی ان کے ساتھ ہی دہلی کی طرف سفر کر گئی، جو اس وقت تک بول چال کی زبان کا درجہ حاصل کر چکی تھی۔ بعد ازاں اسی ابتدائی ہندوستانی زبان نے اردو زبان کا نام اپنایا۔

اہم ارائیں شخصیات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Katherine Pratt Ewing (1997). Arguing sainthood: modernity, psychoanalysis, and Islam. Duke University Press. صفحہ 145. ISBN 9780822320265. 
  2. علی اصغر چودھری، تاریخ ارائیاں، صفحہ: 111
  3. ڈاکٹر ممتاز حسین پٹھان (سندھ یونیورسٹی)، عرب کنگڈم آف المنصورہ، صفحہ نمبر: 90
  4. "Dina Arain: the master 'double game' player". 
  5. Individuals and Ideas in Modern India: Nine Interpretative Studies. India, Firma KLM, 1982.
  6. "After election debacle, Wattoo resigns as PPP's central Punjab president". Dawn (newspaper). 14 May 2013. اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2021. 
  7. "پاکستان کی خدمت کرنے والے 'روشن خیال' اینگلو انڈینز جنہیں بھلا دیا گیا". BBC News اردو – BBC News website سے. 
  8. Contemporary Problems of Pakistan. Netherlands, Brill, 1974.
  9. Encyclopaedia of Muslim Biography: I-M. India, A.P.H. Publishing Corporation, 2001.
  10. The Arain Diaspora in the Rohilkhand region of India: A historical perspective: General History of Arain tribe of Punjab & Sindh with sociocultural background of the diaspora in Rohilkhand, India. N.p., Rehan Asad , 2017.
  11. "Anas Sarwar - First Muslim and Pakistani Who Elected leader of Scottish Labour Party". March 2021. 03 مئی 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 ستمبر 2022. 
  12. ite {cite web | عنوان = 2017 آئی پی این آئی سائنس ایوارڈ فاتح - ڈاکٹر عبد الرشید کے ساتھ ایک انٹرویو۔ url = http: //www.ipni.net/publication/bettercrops.nsf/0/0CD883147A513C1F85258234007CD310/$FILE/BC-2018-1-12٪20p38۔ pdf | work = بہتر فصلیں | پبلشر = انٹرنیشنل پلانٹ نیوٹریشن انسٹی ٹیوٹ | حجم = 102 | نمبر = 1 | سال = 2018}}
  13. LaPorte, Robert, et al. Pakistan under the military : eleven years of Zia ul-Haq. United Kingdom, Avalon Publishing, 1991.