آرامی زبانیں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آرامی
ܐܪܡܝܐ‎, ארמית
Arāmît
تلفظ arɑmiθ, arɑmit,
ɑrɑmɑjɑ, ɔrɔmɔjɔ
مستعمل ایران ، عراق ، اسرائیل ، سریا ، ترکی ، اردن ، فلسطین
واطن مکلمین 500,000  (1994–1996)
خاندانہائے زبان
خطات آرامی خط ، سریانی خط ، عبرانی خط ، مندائی خط ، عربی خط (vernacular) with a handful of inscriptions found in Demotic[1] and Chinese[2]
رموزِ زبان
آئیسو 639-3 Variously:
arc – Imperial Aramaic (700–300 BC)
oar – Old Aramaic (before 700 BC)
aii – Assyrian Neo-Aramaic
aij – Lishanid Noshan
amw – Western Neo-Aramaic
bhn – Bohtan Neo-Aramaic
bjf – Barzani Jewish Neo-Aramaic
cld – Chaldean Neo-Aramaic
hrt – Hértevin
huy – Hulaulá
jpa – Jewish Palestinian Aramaic
kqd – Koy Sanjaq Surat
lhs – Mlahsô
lsd – Lishana Deni
mid – Modern Mandaic
myz – Classical Mandaic
sam – Samaritan Aramaic
syc – Syriac (classical)
syn – Senaya
tmr – Jewish Babylonian Aramaic
trg – Lishán Didán
tru – Turoyo
xrm – Armazic (0–200 AD)
فہرستِ زبانداں arc Imperial Aramaic (700–300 BC)
  oar Old Aramaic (before 700 BC)
  myz Classical Mandaic
Linguasphere 12-AAA
{| style="text-align:left;"

|- | colspan=3 class="boilerplate metadata" style="line-height: 10pt; padding: 0.5em" | This page contains IPA phonetic symbols in Unicode. Without proper rendering support, you may see question marks, boxes, or other symbols instead of Unicode characters.

|}

عراق ، شام ، کنعان ، فلسطین، فونیشیا اور جزیرہ نمائے عرب میں جو عرب اقوام ہیں، وہ تمام سامی الاصل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تمام قومیں سام بن نوح کی اولاد ہیں۔ اس لیے سامی کہلاتی ہیں۔ان ملکوں کی مختلف زبانوں (موجودہ قدیم دونوں) کو سامی زبانیں کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک سیریا یا شام کی زرخیزی اوراس کے درالحکومت (دمشق کی دلفریبی کے باعث اس ملک کو ارم یا باغ ارم بھی کہتے ہیں۔ اس لیے سامی یا سریانی کا تیسرا نام آرامی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح کے بیٹے سام کا مسکن شام ہی تھا اس لیے تمام سامی قوموں کی مختلف بولیوں کا اجتماعی نام سامی، سریانی اور آرامی ہے۔ زبانوں کے سامی گروہ میں فونیقی، اسیری ، کلدی، عبرانی، بابلی،حطیطی، زبانیں شامل ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت فلسطین، کنعان میں آرامی زبان ہی بولی جاتی تھی۔ جو عبرانی زبان کی ایک شاخ ہے۔ موجودہ عربی قدیم آرامی ہی کی ایک ترمیم شدہ صورت ہے۔ البتہ رسم الخط میں تبدیلی ہوگئی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اسلام سے بہت پہلے رونما ہوئی تھی۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ مکرّمہ اور اس کے گرد دوسرے قصبوں میں مقیم عیسائی آرامی بولتے تھے۔ لہذا قرآن کریم کے آیات میں کئی آرامی نژاد الفاظ موجود ہیں۔ اس کی کئی وجوھات ہو سکتی ہیں—ایک تو یہ کہ چونکہ قرآن شریف کئی مواقع پر اھل کتاب سے مخاطب ہے اس لیئے ان ہی کی زبان کے کلمات موجود ہیں تاکہ وہ ان آیات کو اپنی کتب میں موجود ان موضوعات کی روشنی میں بہتر سمجھ سکیں۔ دوسرا اس لیئے کہ مکہ میں ابھرتی ہوئی مسلم امّت عرب کافروں کی نصبت اھل کتاب سے شناختی لحاظ سے زیادہ منسلک تھی اور قرآن میں موجود یہ لفظ اس بات کی تائیید کرتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The Aramaic Text in Demotic Script: The Liturgy of a New Year's Festival Imported from Bethel to Syene by Exiles from Rash – On JSTOR
  2. ^ Manichaean Aramaic in the Chinese Hymnscroll