آرام بانو بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مغلیہ سلطنت کی شہزادی
آرام بانو بیگم
مغلیہ سلطنت کی شہزادی
معلومات شخصیت
پیدائش 22 دسمبر 1584  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
فتح پور سیکری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 17 جون 1624 (40 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پیچش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن سکندرا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
شوہر عبدالرحيم خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
والد جلال الدین اکبر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
شکرالنساء بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
خاندان تیموری
دیگر معلومات
پیشہ ارستقراطی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

آرام بانو بیگم (پیدائش: 22 دسمبر 1584ء — وفات: 17 جون 1624ء) ایک مغل شہزادی اور بادشاہ اکبر اور اس کی بیوی بی بی دولت شاد کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ بی بی دولت شاد اکبر کی دوسری بیٹی، شاکر النساء بیگم کی بھی ماں تھی۔[1] آرام بادشاہ جہانگیر کی چھوٹی سوتیلی بہن تھی۔

زندگی[ترمیم]

آرام بانو بیگم کا جنم دسمبر 1584ء کو فتح پور سیکری، آگرہ میں اکبر او اس کی بارہویں بیوی، بی بی دولت شاد کے ہاں ہوا۔[2] اس کا نام "آرام بانو" اس کے باپ اکبر نے رکھا تھا۔[3] آرام بانو بیگم ایک گرم امتزاج والی، بدتر اور ڈھیٹ لڑکی تھی۔[4] اکبر اپنی بیٹی کے ساتھ بے حد شفقت سے پیش آتا تھا، اکبر اس کی "بے ادبی کو خوش خُلقی" کہتا تھا۔[5]

وفات[ترمیم]

آرام بانو بیگم کی موت پیچش سے 17 جون 1624ء کو 39 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس کو آگرہ کے سکندرا میں اپنے باپ کے مقبرے میں دفنایا گیا، جیسے کہ اس کی بڑی بہن شاکر النساء بیگم کو دفنایا گیا تھا۔[6]

مشہور ثقافت میں[ترمیم]

  • آرام بانو بیگم، Bertrice Small کے ناول وائلڈ جیسمین (2011ء) کی ایک کردار ہے۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Shireen Moosvi۔ People, taxation, and trade in Mughal India۔ Oxford: Oxford University Press۔ صفحہ 114۔ آئی ایس بی این 978-0-19-569315-7۔
  2. S. M. Burke۔ Akbar: The Greatest Mogul (انگریزی زبان میں)۔ Munshiram Manoharlal Publishers۔ صفحہ 144۔
  3. Ruby Lal۔ Domesticity and power in the early Mughal world۔ Cambridge: Cambridge University Press۔ صفحہ 187۔ آئی ایس بی این 978-0-521-85022-3۔
  4. Abraham Eraly۔ Emperors Of The Peacock Throne: The Saga of the Great Moghuls۔ Penguin UK۔ آئی ایس بی این 935118093X۔ Akbar was particularly fond of his last daughter, Aram Banu Begum, a hot-tempered and saucy girl.
  5. Nazir Ahmad Chaudhry۔ Anarkali : archives and tomb of Sahib Jamal : a study in perspective۔ Lahore: Sang-e-Meel Publications۔ صفحہ 58۔ آئی ایس بی این 9789693513844۔
  6. Shāh Jahān̲ Begam (Nawab of Bhopal)۔ The Táj-ul Ikbál Tárikh Bhopal, Or, The History of Bhopal (انگریزی زبان میں)۔ Thacker, Spink۔ صفحہ 89۔
  7. Bertrice Small۔ Wild Jasmine۔ [S.l.]: Random House۔ آئی ایس بی این 978-0-307-79485-7۔