مندرجات کا رخ کریں

آرام پر آشوری فتح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
آرام پر آشوری فتح
جزء من جدید آشوری سلطنت کی عسکری تاریخ
دمشق میں آشوری شہنشاہ تلگت پلاسر سوم کا داخلہ
معلومات عامة
تاریخ 856 ق.م – 732 ق.م
مقام بلادِ شام (موجودہ سوريا ، لبنان ، فلسطين اور اردن) اور جنوب مشرقی اناضول۔
النتيجة
  • آشوریوں کی فیصلہ کن فتح۔
  • آرامی، حِثّی، فینیقی اور کنعانی سلطنتوں کا زوال۔
  • بلادِ شام مکمل طور پر آشوری اقتدار کے تحت آگیا۔.
جغرافیائی
تبدیلیاں
بلادِ شام اور جنوبی اناطولیہ کا بیشتر حصہ نوآشوری کے اقتدار میں شامل ہو گیا۔.
المتحاربون
الإمبراطورية الآشورية الممالك الآرامية
الممالك الحيثية
دول فينيقيا
الممالك الكنعانية
اتحادية قيدار
بدعم من:
مصر القديمة
عيلام
القادة
آشورناصرپال الثاني
شلمنصر الثالث
شمشی ادد پنجم
سميراميس
أداد نيراري الثالث
شلمنصر الرابع
آشورنيراري الخامس
تغلث فلاسر الثالث
شمشي إيلو
ملوك آرام
رصينسانچہ:أعدم
بن هدد الثاني
إنيل
ماتی إيلو
أخونی
إيلان
ملوك حيثيا
تواتيس الأول
كياكياس
پيهريم
تارهولارا
سانجار
حضرم أغوس
توتامو
ملوك فينيقيا
ماتينوبعل
إيتوبعل الثانی
حيرام الثاني
سبتبعلسانچہ:استسلم
ملوك كنعان
فقح 
هوشعسانچہ:اسير حرب
يربعام الثاني
بعشا
قوسملكة
سلمانو
يوآش
أخاب
ملوك قيدار
جندب العربي
الخسائر
 
الفتح الآشوري لمصر

آرام پر آشوری فتح (اکدی زبان میں: 𒈠𒄩𒋗𒌝𒌋 𒊭 𒆳 𒌵𒊬𒌝، نقل حرفی: مہسوتو شا مات آرام) کو بعض اوقات بلادِ شام کی آشوری فتح بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فتوحات اور بڑی فوجی مہمات کا ایک سلسلہ تھا جو نو آشوری سلطنت نے آرامی، فینیقی، سوتانی اور حِثی ریاستوں کے خلاف بلادِ شام میں چلایا۔ ان مہمات کے نتیجے میں آشوری سلطنت کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی اور پورا بلادِ شام آشوری سلطنت کے زیرِ اقتدار آ گیا۔ بعد ازاں اس علاقے کو آشوری سلطنت کا ایک صوبہ بنایا گیا جسے عابرناری کہا گیا، جو اکدی زبان میں “دریا کے پار کی زمین” کے معنی رکھتا ہے اور اس سے مراد دریائے فرات کے مغربی علاقے تھے۔ [1].[2]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Georges Roux, Ancient Iraq p. 309
  2. Georges Roux, Ancient Iraq pp. 280-281