آرمینیا میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آرمینیا میں اسلام (انگریزی: Islam in Armenia) عرب قوم اور کرد کے ذریعے 7ویں صدی میں پہونچا۔ ابتدائی اسلامی فتوحات نے آرمینیہ کی سیاسی سماجی و جغرافیائی تاریخ بدل کر رکھ دی۔[1] 12ویں اور 13ویں صدی میں سلجوق خاندان نے آرمینیہ میں اپنا قدم جمایا اور عرب اور کرد کا وہاں سے صفایا کر دیا۔ بعد میں وہاں ایران کے کئی خاندان بشمول صفوی خاندان، خاندان افشار، زند خاندان اور قاجار خاندان اپنی حکومتیں قائم کیں اور یوں آرمینیہ میں شیعہ اسلام کا بول بالا ہو گیا اور وہ شیعہ اسلام کا لازمی جزو بن گیا۔ تاہم اس وقت بھی آرمینیہ کی شناخت بحیثیت ایک آزاد عیسائی ریاست کی طرح ہوتی تھی۔ اسلام کے غلبہ کے بعد وہاں عیسائیوں کو مسلمان ہونا پڑا اور اناطولیہ اور موجودہ آرمینیا میں آرمینیائی قوم جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئی۔ ارمنی قتل عام کے دنوں میں جبرا لوگوں کو مسلمان بنایا گیا اور بصورت دیگر انہیں قتل کر دیا گیا۔[2]

تاریخ[ترمیم]

عرب حملہ[ترمیم]

عرب قوم نے 639ء میں پہلی دفعہ آرمینیہ پر حملہ کیا۔ اس حملہ کے قائد عبد الرحمن بن رابعہ تھے۔ ان کے ساتھ 18000 سپاہی تھے جنھوں نے اولا تارون اور پھر وان جھیل کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔[3] دوسری جانب شہزادہ تھیودور رشتونی آرمینیا کے دفاع میں لگے تھے۔ 652ء میں جانبین کے درمیان میں ایک معاہدہ پر دستخط ہوا جس کی رو سے آرمینیا کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازے دے دی گئی۔ شہزادہ تھیودور رشتونی نے دمشق کا سفر کیا اور خلیفہ کے سامنے حاضری دی اور وہاں انہیں آرمینیا، جارجیا اور قوقازی البانیا کا حکمراں تسلیم کیا گیا۔[4] 7ویں صدی کے اخیر تک آرمینیا میں خلیفہ کی پالیسی سخت ہوتی گئی اور خلیفہ کے گورنر وہاں نامزد ہونے لگے۔ انہیں اوستیکان کہا جاتا تھا۔ اوستیکان دوین میں قیام کرتے تھے/ حالانکہ آرمینیا خلافت کا صوبہ تھا مگر زیادہ تر آرمینیائی مسیحیت کر ایمان رکھتے تھے۔ 8ویں صدی کے اوائل میں حجاز اور زرخیز ہلال کے عرب مسلمانوں نے آرمینیا کی طرف ہجرت کی اور دیار بکر، مالازگیرت اور اپاہونک جیسے شہر آباد کیے۔[5]

وسطی دور[ترمیم]

1071ء میں جنگ ملازکرد میں مسلمانوں نے بازنطینیوں کو شکست فاش دی اور آرمینیا میں مسلمان اور مضبوط ہو گئے۔ وسط ایشیا اور ایران کے ترک قبائل نے آرمینیا کی طرف سفر کرنا شروع کیا اور آرمینیا اور اناطولیہ میں آباد ہو گئے۔[6]

آرمینیائی نسل کے زیادہ تر لوگ مسیحیت پر برقرار رہے مگر سلجوق حملہ کے بعد مگربی حصہ کے لوگ منقسم ہو گئے اور نصف حصہ مسلمان سلطنت میں شامل ہو گیا۔ اس علاقہ کی ایک کثیر آبادی مسلمان ہو گئی اور بیلیک دوزو کا حصہ بن گئے۔ آرمینیائی فن تعمیر میں سلجوق فن تعمیر کا گہرا اچر ملتا ہے۔ کئی آرمینیائی امیر مسلم سلطنت میں بھی آزاد امیر کی طرح رہے جن میں ارزنجان، تیک، ساسون اور وان کے امرا شامل ہیں۔ مسلم امرا نے آرمینی قوم میں شادیاں کیں اور اس طرح سیاسی تعلقات کچھ پیچیدہ مگر مضبوط ہو گئے۔[7]

سلطنت عثمانیہ[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ میں شرعی حکومت کا قیام کیا اور اسی لیے اہل کتاب (عیسائی اور ییودی) کو ذمی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے جزیہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ جزیہ کے بدلہ میں انہیں جانی و مالی تحفظ حاصل ہوتا تھا اور انہیں مذہبی آزادی بھی ملتی تھی۔

قران[ترمیم]

1910ء میں پہلی دفعہ قران کا ترجمہ آرمینیائی زبان میں شائع ہوا۔ یہ قران کا پہلا ترجمہ تھا جو عربی ک ے علاوہ کسی دوسری زبان میں شائع کیا گیا تھا۔ 1912ء میں فرانسیسی زبان میں قران کا ترجمہ شائع کیا گیا۔ دونوں ترجمہ مغربی آرمینیائی لہجہ میں تھے۔ بعد میں ییروان میں موجود ایران کے سفارتخانہ کے تعاون سے مشرقی آرمینیائی لہجہ میں قران کا ترجمہ شروع ہوا۔ یہ ترجمہ فارسی زبان سے 3 برسوں میں مکمل ہوا۔[8] اس ترجمہ میں عربی دانوں کا ایک گروہ تعاون دے رہا تھا۔ تہران میں واقع مرکز مطالعہ قران نے پورے ترجمہ کی نظر ثانی کی اور منظوری دی۔[9] اس ترجمہ کے 1000 نسخے 2007ء میں شائع کیے گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ter-Ghewondyan, Aram (1976)۔ The Arab Emirates in Bagratid Armenia۔ Trans. Nina G. Garsoïan. Lisbon: Calouste Gulbenkian Foundation.
  2. Vryonis, Speros (1971)۔ The Decline of Medieval Hellenism in Asia Minor and the Process of Islamization from the Eleventh through the Fifteenth Century۔ Berkeley: University of California Press.
  3. Kurkjian, Vahan M.A History of Armenia hosted by The University of Chicago۔ New York: Armenian General Benevolent Union of America, 1958 pp. 173-185[غیر معتبر مآخذ؟]
  4. On the Arab invasions, see also Aram Ter-Ghewondyan (1996)، Հայաստանը VI-VIII դարերում [Armenia in the 6th to 8th centuries]۔ Yerevan: Armenian Academy of Sciences.
  5. Ter-Ghevondyan, Arab Emirates in Bagratid Armenia، pp. 29ff.
  6. Korobeinikov, Dimitri A. (2008)۔ “Raiders and Neighbours: The Turks (1040–1304)،” in The Cambridge History of the Byzantine Empire, c. 500‐1492، ed. Jonathan Shepard۔ Cambridge: Cambridge University Press, pp. 692-727.
  7. https://archive.org/stream/ArmeniaDuringTheSeljukAndMongolPeriods_580/asmp_djvu.txt
  8. The Qur'an is published in the Armenian language آرکائیو شدہ 2007-05-10 بذریعہ وے بیک مشین
  9. Qur'an in Armenian آرکائیو شدہ 2007-02-10 بذریعہ وے بیک مشین