آزادانہ پرورش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آزادانہ پرورش (انگریزی: Free-range parenting) ایک بچوں کی پرورش کا تصور ہے جس میں یہ سوچ حاوی ہوتی ہے کہ نو نہالوں کو آزادانہ طور کام کرنے کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے اور ان پر محدود ماں باپ کی نگرانی ہونا چاہیے، جیسا کہ بچوں کی نشو و نما کی عمر ہو اور جس میں کہ حقیقت پسندانہ ذاتی جوکھموں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس تصور کو کئی بار ہیلی کاپٹری پرورش کی ضد کے طور دیکھا جاتا ہے، جس تصور کو بچوں کے امراض کے ماہر بنجمن اسپوک نے مقبول کیا۔ اس تحریک کے مواد میں قابل لحاظ نوعیت لینور اسکینازی کی کتاب فری رینج کڈز: گیوینگ اَوَر چِلرین دی فریڈم وی ہیڈ وتھ آؤٹ گوئنگ نٹس وتھ وری (2009ء) ہے۔[1]

مجموعی جائزہ[ترمیم]

نفسیاتی تجزیے کو بچوں کے امراض کی دنیا میں مزید مقبول بنانے کے ارادے سے اسپوک نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا دی کامن سینس بک آف بے بی اینڈ چائلڈ کیر لکھی۔ یہ کتاب، جسے 1946ء میں جاری کیا تھا اور جلد ہی بازار میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سے ایک بنی، آزادانہ پرورش کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اس امید میں کہ اس سے بچوں کا پرورش میں فرائڈ کے فلسفے کو نافذ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صحافی لینور اسکینازی نے ضرورت سے زیادہ فکری پرورش اور بچوں کے ضرورت سے زیادہ تحفظ کے بارے میں لکھا ہے جس میں بطور خاص یہ زور دیا گیا ہے کہ بچوں کو آزادی اور ذمے داری کی مناسب سطح حاصل ہونا چاہیے جو ان کی عمر کے مطابق ہو جب کہ انہیں محفوظ بھی رکھا جانا چاہیے۔ اپنی کتاب فری رینج کڈز: گیوینگ اَوَر چِلرین دی فریڈم وی ہیڈ وتھ آؤٹ گوئنگ نٹس وتھ وری[1](p256) اور اس کی متعلقہ ویب سائٹ (اپریل 2008)[2] میں وہ ایسی ہولناکیوں کا میں بیان کرتی ہے جو وہ اسکول تک رسائی، پرورش اور منظم کارروائیوں میں دیکھتی ہے اور اس سے ایسا غیر تحفظ سامنے آتا ہے جو بچوں سے سمجھ دار آزاد بالغ بننے میں مانع ہوتا ہے جس کے لیے غیر ضروری تربیت بھی شامل ہوتی ہے جیسے کہ اسکول سے قبل کے بچوں کے لیے فلیش کارڈ، جس سے نجی نشو و نما کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

ریاستہائے متحدہ امریکا میں قانونی موقف[ترمیم]

رکاوٹیں[ترمیم]

ریاستہائے متحدہ امریکا میں آزادانہ پرورش کئی ریاستوں میں قوانین کی وجہ سے محدود ہے جو بچوں کے آزادیِ عمل سے متعلق ہیں، جیسے کہ ایک بچہ اکیلے اسکول تک چلنے پھرنے کے لیے کتنی عمر کا ہونا چاہیے۔ میساچوسٹس میں ان معاملہ در معاملہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ دیگر ریاستیں جیسے کہ ڈیلاویئر اور کولوراڈو میں یہ ریاست کے بچوں کی مزدوری سے متعلق قانون کے تحت آتا ہے۔ اس میں کسی بھی ایسے بچے کے بارے میں تحقیق کرنا شامل ہے جس کے بارے میں یہ دعوٰی کیا جاتا ہے کہ اسے گھر پر اکیلے چھوڑ دیا گیا ہے۔ صرف تین ریاستیں یہ وضاحت کرتی ہیں کہ کسی بچے کو گھر پر اکیلے چھوڑنے کے لیے کیا عمر ہونا چاہیے۔ اس میں الینوائے ایک ہے جہاں بچے کی عمر 14 سال ہونا چاہیے، میری لینڈ، جہاں یہ عمر 8 سال ہے اور اوریگون جہاں یہ دس سال کی ہے۔[3]

یہ تاثر کہ کیا غفلت ہے ہر ریاستی قانون، بچوں کی عمر اور اس بات پر منحصر ہے کہ کیا فی الواقع کوئی زخم ہوا بھی ہے یا نہیں۔[4]

2014ء اور 2015ء میں میری لینڈ کے والدین پر مقامی بچوں حفاظتی خدمات کی جانب سے یہ تحقیق کی گئی تھی کہ کب ان کے بچے ایک پارک سے اپنے گھر بغیر کسی کی نگرانی چل کر آئے۔[5]

دسمبر 2015ء میں ایک نیا وفاقی قانون میں سینیٹر مائک لی (نمائندہ، یوٹاہ) کی ایک ترمیم شامل ہوئی جس میں کہا گیا تھا:

اس قانون میں سے کچھ بھی... بچوں کو اسکول کا سفر کرنے یا وہاں سے لوٹنے سے روکے گا:... پیادہ پا یا کار، بس یا بائک سے جب اس بچے کے والدین اس کی اجازت دے چکے ہیں؛ یا والدین کو دیوانی یا فوجداری الزمات کا شکار بنائے گا کہ وہ اپنے بچوں کو ذمے داری سے اور با حفاظت اسکول کے لیے یا وہاں سے ان ذرائع کے استعمال سے کروائیں جنہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عمر کے مناسب ہیں۔

ایک شرط شامل کی گئی، "... اس قطعہ نمبر 10 میں ایسا کچھ نہیں ہے جس کا یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ یہ ریاستی یا مقامی قوانین کو بے اثر کرتا ہے۔" [6]

قانونی تحفظ[ترمیم]

2018ء میں یوٹاہ ایسی پہلی ریاست بنی جہاں ایک قانون سازی کے ذریعے کھل کر والدین کے اپنے بچوں کو "کھلے دائروں" میں رکھنے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ [7][8]

کینیڈا میں قانونی موقف[ترمیم]

یہاں کوئی قانونی اتفاق رائے نہیں ہے کہ کب والدین اپنے بچوں کو بغیر کسی نگرانی کینیڈا میں چھوڑ سکتے ہیں۔[9] تاہم کنینڈائی تعزیرات کی شق 218 میں یہ غیر قانونی ہے کہ دس سال سے کم عمر لڑکوں کو بغیر کسی نگرانی کے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے اگر وہ لوگ ایسی صورت حال میں ہوں جب کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔[10] ہر صوبہ اپنے خود کے قانونی دائرۂ عمل کا ذمے دار ہے۔ ریڈ کراس کینیڈا 9 سے 13 سال کی عمر کے بیچ کے بچوں کے لیے ایک تربیتی نصاب (Stay Safe! - محفوظ رہیے!) پیش کرتا ہے تا کہ ان کی اس صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے کہ وہ ہنگامی صورت حال کا سامنا کر سکیں اگر وہ گھر میں اکیلے رہتے ہوں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ والدین اپنی صوابدید کا استعمال کریں جب وہ اپنے خود کے انفرادی کے بارے میں فیصلہ لینا چاہیں۔ ریڈ کراس کا چھوٹے بچوں کی دیکھ ریکھ کرنے کا نصاب 11 سے 15 سال کے بچوں پر مرکوز ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس عمر میں بچے اپنی کم عمر والوں کی نگرانی مؤثر اور محفوظ انداز میں کر سکتے ہیں۔[11]

انٹاریو میں قانون کافی مبہم کہ کس عمر میں بچوں کو اکیلے چھوڑا جا سکتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے 16 سال کی عمر تک ذمے دار ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں وہ لوگ ہمیشہ والدین کی زیر نگرانی رہنا چاہیے۔ جہاں گھر پر اکیلے رہنے کی عمر کی وضاحت نہیں ہے، یہ قابل غور ہے کہ والدین کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ بچوں کو اپنی گاڑیوں میں بغیر کسی نگرانی چھوڑیں۔[12]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Lenore Skenazy۔ Free-Range Kids: Giving Our Children the Freedom We Had Without Going Nuts with Worry۔ John Wiley & Sons۔ آئی ایس بی این 978-0470471944۔ او سی ایل سی 268790698۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Lenore Skenazy۔ "Free Range Kids blog"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Maryland parent investigation raises issue: What age to allow children 'free range' to walk, stay home alone?
  4. Jennissen CA, Evans E, Oral R, Denning G. Child abuse and neglect experts’ determination of when a child being left home alone constitutes child neglect. Injury Epidemiology. 2018;5(S1):55-62.
  5. "What Kind Of Parent Are You? The Debate Over 'Free-Range' Parenting"۔ NPR۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-06-08۔
  6. "President About to Sign First Federal Free-Range Kids Legislation: Parents Can Let Their Kids Walk to School"۔ Free Range Kids۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 16، 2016۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  7. Nicole Pelletiere۔ "Utah passes 'free-range parenting' law, allowing kids to do some things without parental supervision"۔ ABCNews.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مئی 2018۔
  8. "Why Utah now has first 'free-range' parenting law"۔ BBC.com۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مئی 2018۔
  9. Ruiz-Casares, M., & Radic I. (2015). Legal Age for Leaving Children Unsupervised Across Canada. CWRP Information Sheet #144E. Montreal, QC: McGill University, Centre for Research on Children and Families
  10. Legislative Services Branch۔ "Consolidated federal laws of canada, Criminal Code"۔ laws-lois.justice.gc.ca (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-30۔
  11. "Canadian Red Cross"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  12. "Until what age do kids need direct supervision? Well, it depends: Keenan | The Star"۔ thestar.com (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-30۔

بیرونی روابط[ترمیم]