آزاد توکلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رائے گور سر برن توکلی (پیدائش: 1883ء)۔ آپ رائے راج بلی اور توکلی کے بیٹے اور رائے شیام بلی توکلی کے پوتے تھے۔ آپ کے جد مہابلی انور توکلی صاحب دیوان اور شاہان اودھ کے سیاہہ نویس تھے۔ اور خلیل لکھنوی کے تلامذہ میں سے تھے۔ چونکہ آزاد کا خاندان علم و فضل کا دلدادہ اور پرستار تھا لہذا انہوں نے فارسی، ہندی، سنسکرت اور انگریزی کی ابتداءی تعلیم آغوش پدری میں حاصل کی۔ آزاد بچپن سے ہی بلا کے ذہین تھے۔ لکھنؤ اور دکن کے قابل ترین اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 14 سال کی عمر میں فارسی کی کتابیں ختم کر لیں۔ بعد ازاں انگریزی تعلیم کے لیے مدرسہ دہرمونت اور مدرسہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ لیکن بدقسمتی سے باپ کی وفات کی وجہ سے انگریزی تعلیم حسب منشا حاصل نہ کر سکے۔ آزاد کو چونکہ شاعری سے دلی لگاو تھا اور ان کا خاندان شعرا کا خاندان تھا چنانچہ انہوں نے میدان فن شعر گوئی میں چوگان بازی ایام طفولیت ہی میں شروع کر دی تھی ابتدا میں ڈاکٹر کریا شنکر حشم سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ حشم ایک بلند پایہ شاعر اور صاحب دیوان تھے۔ علاوہ ازیں آزاد نے مولانا محمد ضامن کنتوری سے بھی اصلاح سخن لی اور انہی کے اصرار پر اپنا مجموعہ کلام طبع کروایا۔ آزاد نے ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ایک مثنوی اور منتخب رباعیات عمر خیام کااردو ترجمہ منظوم شائع ہو چکا ہے۔ آزاد شاعر بھی اور فلسفی بھی ہیں۔ مولانا محمد ضامن کنتوری آزاد کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں " آزاد ! آزاد ہے ، آزاد کا کلام آزادوں کے دل کی آواز ہے۔عارض نہیں خال نہیں گیسو نہیں کاکل نہیں حقائق کا گنجینہ ہے۔ تعلیم وحدت کا آئینہ ہے۔" آزاد کا مجموعہ کلام جو غزلیات اردو فارسی قصائد اردو فارسی، مخمس فارسی، سہرون قطعات تاریخی، رباعیات و قطعات متفرق نظموں اور مثنوی پر مشتمل ہے۔خم خانہ کے نام سے شمس المطابع مشین پریس نظام شاہی حیدرآباد دکن سے شائع ہو چکا ہے۔ دیگر شعرا کے علاوہ مولانہ محمد ضامن کنتوری نے تاریخ طبع خم خانہ لکھی ہے۔

پئے تاریخ طبع ضامن نے کہہ دیا نظم دلکش آزاد

13 ہجری

انتخاب کلام

حرکت میں سکوں مل گیا جس قلب کو آزاد
حقدار وہی دہر میں ہے ظل ہما کا
جہاں میں کہتے ہیں اکثیر جس کو اے آزاد
کسی کی خاک سر رہگذار ہو جانا
عشق کو کب پاس ناموس عزیز مصر تھا
پارہ پارہ دامن صبر زلیخا کر دیا
دل گم گشتہ کا آزاد اپنے
پتہ پایا کسی کے نقش پا سے
دل نثار ابرو خم دار شد
بودنی بود آنچہ آخر کار شود[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ماہنامہ معلومات لاہور - ناشر مظفر حسین- چوک سنت نگر لاہور - ص 472-473 - ج 13