آسیہ بی بی کا مقدمۂ توہین رسالت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آسیہ بی بی مقدمۂ توہین رسالت
عدالت عدالت عظمیٰ پاکستان
تاریخ فیصلہ اکتوبر 2018
نقول فیصلہ
کیس ہسٹری
مدعی شیخوپورہ ضلعی عدالت
مدعا علیہ عدالت عالیہ لاہور
(کالعدم 16 اکتوبر 2014ء)
نتیجہ عدالت عظمیٰ پاکستان
(نے سزائے موت کو 2015ء میں روک دیا)۔
2018ء کو بری کر دیا
آرا مقدمہ
منصف میاں ثاقب نثار
اتفاق رائے آصف سعید خان کھوسہ
کلیدی الفاظ

آسیہ بی بی پاکستان کی ایک مسیحی خاتون جن پر جون 2009ء میں ان کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کی شان میں نازیبا کلمات ادا کیے ہیں۔[1] 31 اکتوبر 2018ء کو عدم ثبوت کی وجہ سے عدالت عظمیٰ پاکستان نے آسیہ بی بی کو رہا کر دیا۔[1]

حوالہ جات

بیرونی روابط