آشور (ترکی میٹھا)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایشورے [1] یا نوح کی پڈنگ ایک ترک میٹھی ڈش ہے جس میں اناج، پھل، خشک پھل اور گری دار میوے شامل ہوتے ہیں۔ ترکی میں یہ پورا سال بنایا جاتا ہے اور خاص طور پر محرم میں [2] بطور خاص دس محرم کے دن، کیونکہ دس محرم کے دن کو عربی میں "'عاشور" کہا جاتا ہے جس کا مطلب عربی میں "دسواں" کے ہیں۔ ایشورے ان ترکی میٹھوں میں سے ایک ہے جس میں کسی جانور کی مصنوعات شامل نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد اور خون و خرابا کی مخالفت ہے۔ ترکی میں ایلیویز اس پڈنگ کو فروغ دینے کے لیے اہم گروپ ہیں۔ خصوصی طور پر اسے دس محرم کو پکایا جاتا ہے ۔ روایتی طور پر، ایشورے کو بڑی مقدار میں بنایا جاتا  ہے اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، ساتھیوں، ہم جماعتوں کو  بنا مذہب کی تفریق کیے محبت اور امن کے پیغام کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ سرد مہینوں کے  دوران اسے بنایا اور کھایا جاتا ہے۔ یہ ایک کیلوریز سے بھرپور طاقتور غذا ہے اس لیے اس سے پورا سال لطف  اندوز ہوا جاتا ہے۔

علمیات[ترمیم]

ایشورے لفظ، عربی زبان کے لفظ "عاشورا" سے نکلا ہے جس کا مطلب دسواں ہے۔ ترکی  روایت میں یہ ڈش محرم کے 10 ویں روز بنائی جاتی ہے بعض اسلامی روایت میں اور غیر اسلامی روایتوں میں بھی اسے محرم کے مہینے سے منسلک کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ترکی میں، لفظ  "ایش" مخلوط پاؤڈر کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ فارسی لفظ "اشور" سے نکلا ہے جس کے معنی " ملانا" کے ہیں۔ ایلیا سیلیبی نے اپنی سفری کتاب میں آشور کو بیان کیا، "آشور ایک  ایسا دلیہ ہے جو محرم کے دسویں روز پکایا جائے۔"

اجزائے ترکیبی[ترمیم]

ایشورے کو بنانے کے لیے عام طور پر کوئی مخصوص ترکیب نہیں بلکہ سے مختلف تراکیب کے ذریعے بنایا جاتا ہ [3]ے۔

روایتی طور پریہ کہا جاتا ہے کہ کم سے کم سات اجزاء  اسے بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ "دسواں" کے موضوع کے اعتبار سے کم از کم دس اجزاء، جبکہ ایلیس گروہ سے تعلق رکھنے والےہمیشہ  اسے بنانے کے لئےبارہ اجزاءاستعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے گندم، چاول، پھلیاں، چکن مٹر، چینی (یا دیگر مٹھائی)، خشک پھل اور گری دار میوے شامل ہیں۔ انار کے بیج، انار کھنج اور دار چینی گارنش کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں اور کچھ تراکیب میں عرق گلاب بھی شامل کیا جاتا ہے۔

تاریخ اور روایات[ترمیم]

ایک تاریخی روایت میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ جب  حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پہاڑ اراراط میں اتری تھی تو ان کے خاندان نے ایک خاص ڈش بنائی تھی چونکہ اس وقت اجزا کی فراہمی تقریبا ختم تھی تو جو بھی بقایاجات تھے یعنی کہ اناج اور پھل وغیرہ انہیں ساتھ ملا کر بنایا گیا تھا اس ڈش کو ایشورے کہتے ہیں۔ ترک خاندان اس واقعے کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے ایشورے کو بناتے ہیں اور اسےغریبوں کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں، دوستوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایشورےکئی ثقافتی عقائد، اسلامی اور قبل از اسلام  اور بہت سے روحانی واقعات کو یاد رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے جو دس محرم کے دن پیش آئے  مثال کے طور پر، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ: ٭ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی گئی تھی ٭ حضرت  نوح کی کشتی پہاڑ آرارات میں اتری تھی مسافروں کو بچایا گیا تھا ٭ سمندر تقسیم ہوا تھا اورفرعون کی فوج تباہ ہو گئی تھی ٭ یسوع مسیح کو آسمانوں پر اٹھایا گیا تھا ٭ حسین بن علی کی شہادت

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Ashure. Rumi Club."۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-21۔
  2. P. Fieldhouse۔ Food, Feasts, and Faith: An Encyclopedia of Food Culture in World Religions [2 volumes]۔ ABC-CLIO۔ صفحہ 42۔ آئی ایس بی این 978-1-61069-412-4۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 11, 2017۔
  3. "Noah's Pudding. Rumi Club. University of Massachusetts."۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-11-25۔