آصف شیخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آصف شیخ
2009ء میں آصف گند کچرے کے دستی طور صفائی کی مخالف تحریک میں
2009ء میں آصف گند کچرے کے دستی طور صفائی کی مخالف تحریک میں

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اکتوبر 1982ء (عمر 37 سال)
دیواس  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ وکرم  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1997-تا حال
ویب سائٹ
ویب سائٹ dignitymarch.org

garimaabhiyan.org jansahas.org

آصف شیخ (پیدائش 18 اکتوبر 1982) ایک بھارتی سماجی کارکن ہے۔ وہ ہاتھوں سے گند اٹھانے کے رواج کو ختم کرنے کے لیے مہم (راشٹریہ گریما ابھیان) میں اپنے کردار اور جان ساہس کی کئی مہمات کے ذریعے دلت خاص طور پر دلت-مسلمانوں اور عورتوں کی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

نجی زندگی[ترمیم]

آصف شیخ کی پیدائش 18 اکتوبر 1982ء کو مدھیہ پردیش کے شہر دیواس میں ہوئی۔ اس نے وکرم یونیورسٹی، اوجین سے سیاسی سائنس میں اپنی پوسٹ گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔ اس نے اپنی شروعاتی زندگی میں ذات اور دھرم کی بنیاد پر بھید بھاؤ اور بے دخلی کا سامنا کیا۔

سماجی سرگرمی[ترمیم]

اپنے دوستوں کے ساتھ مل کے اس نے 1999ء میں اسٹوڈینٹ ممبر شپ یونین کے ساہسی ایکتا گروپ کا قیام کیا تاکہ طالب علموں کی سماجی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے ان کی حصے داری میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس گروہ نے طالب علموں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور کئی سو بچوں کی مدد کی جو کسی بھی طرح کی تعلیم خاص کرنے سے قاصر تھے، خاص کر کے دلت طالب علموں کو بااختیار کیا۔[1]

اس نے دلتوں کے کاڈر پر مشتمل تنظیم کو ترقی یافتہ کرنے لیے ایک ممبئی کے ادارے یوتھ فار ولنٹری ایکشن (یو یو وی)،[2] سے فیلوشپ حاصل کی۔ فیلوشپ کے وقت کے دوران میں وہ دلت نوجوانوں کا دھیان انسانی حقوق کے مسائل خاص طور پر دلت حقوق پر مرتکز کراتا رہا۔ یہ نوجوان اب منڈل بنا چکے ہیں اور وہ آج بھی انسانی/دلت حقوق اور سماجی ترقی متعلق مسائل پر کام کر رہے ہیں۔

سینٹر فار ایجوکیشن اینڈ ڈاکومینٹیشن، ممبئی کی فیلوشپ کے تحت اس نے مالوا میں دلت سماج کی جانب سے کی گئی جدوجہد اور کبیر بھجن منڈلوں کی تحریک کی دستاویزات مکمل کی۔[3]

دلتوں کو بااختیار بنانے اور سماج سے باہر نکالی گئی برادریوں کے حقوق کے خاطر اس نے اور اس کے کارکن دوستوں نے 2000ء میں ایک انسانی حقوق کی تنظیم جان ساہس بنائی۔[4] سالوں کے دوران میں جان ساہس[5] انسانی حقوق کی وکالت کرتے ہوئے ایک اہم تنظیم کے طور پر ابھری ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Other excluded communities"۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2012۔
  2. "VIGIL INDIA MOVEMENT: JAN SAHAS of Madhya Pradesh and Sr. Dr. Mary Litty jointly shares the M.A. Thomas National Human Rights Award – 2012"۔ Vigilindia.info۔ 2012-08-10۔ مورخہ 21 اکتوبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-01۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  3. "NATIONAL / KARNATAKA : 'Consultations on for Lokayukta appointment'"۔ The Hindu۔ 2012-08-11۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-01۔
  4. "Apartheid funded by the Indian tax-payer"۔ Hindustan Times۔ 2009-05-05۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-01۔
  5. http://www.jansahasindia.org