آغا افتخار حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر آغا افتخار حسین
پیدائش 17 اپریل 1921(1921-04-17)ء
دہلی، برطانوی ہندوستان
وفات 31 مئی 1984(1984-50-31) (عمر  63 سال)
اسلام آباد، پاکستان
قلمی نام آغا افتخار حسین
پیشہ محقق، مؤرخ،ناول نگار، ڈراما نویس، مترجم، سول سرونٹ
زبان اردو
نسل مہاجر قوم
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم پی ایچ ڈی
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
سوربون یونیورسٹی پیرس
اصناف ناول، تاریخ، ڈراما، ترجمہ، تحقیق، فلسفہ
نمایاں کام قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ
یورپ میں تحقیقی مطالعے
یورپ میں اردو
پیرس میں ایک رات
نکتہ چیں ہے غم دل
اہم اعزازات تمغا قائد اعظم

ڈاکٹر آغا افتخار حسین (پیدائش: 17 اپریل، 1921ء - وفات: 31 مئی، 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور محقق، مؤرخ،ناول نگار، ڈراما نویس، سول سرونٹ، مترجم اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وزیٹنگ پروفیسر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آغا افتخار حسین 17 اپریل، 1921ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1][2][3][4]۔ ان کے والد آغا افتخار حسین انجینئر تھے اور ان کا تعلق ایران کی قزلباش فیملی سے تھا۔ ان کے چچا آغا اعجاز حسین اپنے وقت کے مشہور وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ کے معروف کارکن تھے۔ آغا افتخار کی والدہ اردو کے مشہور شاعر اور مصنف علامہ تاجور نجیب آبادی کی بیٹی تھیں۔[2]

ملازمت[ترمیم]

1942ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد آغا افتخار حسین نے برٹش انڈین آرمی میں بطور کمیشنڈ آفیسر شمولیت اختیار کرلی۔ علم اور ادب کے دل دادہ آغا افتخار کو فوجی نظم و ضبط پسند نہ آیا اور وہ جلد ہی فوجی ملازمت سے علاحدہ ہو گئے۔ 1947ء میں وہ حیدر آباد دکن میں پبلک سروس کمیشن کے سیکرٹری بن گئے۔ 1950ء میں وہ نقل مکانی کرکے پاکستان آ گئے اور انہیں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا اسٹنٹ سیکرٹری بنا دیا گیا۔ 1960ء میں انہیں تربیتی کورس پر لندن بھجوایا گیا جہاں سے وہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں مزید تعلیم حاصل کرنے کی خاطر دو سال کے لیے پیرس چلے گئے۔ قیام فرانس کے دوران میں انہوں نے فرانسیسی زبان میں مہارت حاصل کی اور فرانس کے سیاسی اور سماجی نظام کا عمیق مطالعہ کیا۔ ان کی سوچ اور فکر پر انقلاب فرانس نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1967ء میں ایڈمنسٹریٹیو سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے وہ ایک دفعہ پھر سوربون یونیورسٹی پیرس چلے گئے۔ انہوں نے اپنا مقالہ فرانسیسی زبان میں لکھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو انہیں تمغا قائد اعظم دیاگیا۔ وہ ایک دفعہ پھر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے بطور ڈپٹی ڈائر یکٹر منسلک ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں ڈائر یکٹر بنا دیا گیا۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

آغا افتخار کو اوائل عمری ہی سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ 1946ء میں ابھی وہ پچیس سال کے تھے کہ انہوں نے فلسفہ فرہنگکے نام سے مغربی فلسفے کی مختصر تاریخ لکھی۔ اسی سال انہوں نے جارج برناڈشا کے ڈرامے مین اور سپر مین کا' نکتہ چیں ہے غم دل کے عنوان سے اردو ترجمہ کیا۔ 1967ء میں ان کی کتاب یورپ میں تحقیقی مطالعے' چھپی۔ ان کی یہ کتاب ان تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے اپنے قیام یورپ کے دوران میں لکھے تھے۔ 1968ء میں ان کی کتاب یورپ میں اردو شائع ہوئی جس میں انہوں نے یورپ کی لائبیریر یوں میں موجود اردو زبان کے مخطوطوں کاسراغ لگایا اوریورپ کی جن یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں اردو زبان و ادب کی تدریس اور تحقیقی کام ہو رہا تھا ان کی تفصیل بیان کی۔ مخطوطات پیرس ان کی کتاب یورپ میں اردو کی توسیع تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے فرانس کی نیشنل لائبیریری میں موجود اردو، فارسی، پنجابی اور سندھی کے مخطوطوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ آغا افتخار فرانسیسی ادب اور ثقافت سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ انقلاب فرانس ان کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ انقلاب فرانس کے لیے ذہنی فضا پیدا کرنے والے فلسفیوں اور دانشوروں دیدیرو، والٹیئر اور دالمبر کے وہ بہت بڑے مداح تھے۔ ان کے نزدیک فرانسیسی دانشوروں کی یہ جماعت دسویں صدی کے بغداد میں تشکیل پانے والی خفیہ جماعت اخوان الصفا سے متاثر تھے۔ آغا افتخار اخوان الصفا کے بارے میں لکھتے ہیں ستم ظریفی یہ تھی کہ اس جماعت کو دسویں صدی میں خفیہ طور پر یہ اہم علمی کارنامہ انجام دینا پڑا کیونکہ بدقسمتی سے اس دور میں فلسفے اور سائنس کی تعلیم و ترویج پر پابندی تھی اور اہل علم و فن علمی اور سائنسی مشاغل پوشیدہ طور پر ہی جاری رکھ سکتے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اخوان الصفا کی طرح فرانس کے ترقی پسند اور فکر افروز مصنفین نے اٹھارویں صدی کے وسط میں ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کی تھی۔ اس انسائیکلوپیڈیا نے وہ فکری اور ذہنی ماحول پیدا کیا جس میں فرانسیسی عوام نے 1789ء میں فرانسیسی انقلا ب برپا کیا تھا۔ آغا افتخار فرانسیسی انقلا ب سے کس قدر متاثر تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس انقلاب کے بارے میں دو ناول بادشاہ کا خون اور پیرس کی ایک رات لکھے۔[2]

وزٹنگ پروفیسر[ترمیم]

1981ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آغا افتخار حسین قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بطور وزٹنگ پروفیسر منسلک ہو گئے۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کا مطالعہ (تاریخ)
  • فلسفہ فرہنگ (فلسفہ)
  • یورپ میں تحقیقی مطالعے (تحقیق)
  • یورپ میں اردو (تحقیق)
  • مخطوطات پیرس (تحقیق)
  • پیرس میں ایک رات (ناول)
  • بادشاہ کا خون (ناول)
  • نکتہ چیں ہے غم دل (جارج برناڈشا کے ڈرامے مین اور سپر مین کا ترجمہ)

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں تمغا قائد اعظم کا اعزاز عطا کیا گیا۔[3]

وفات[ترمیم]

آغا افتخار حسین 31 مئی، 1984ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]