آغا بابر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آغا بابر
پیدائش سجاد حسین
31 مارچ 1919(1919-03-31)ء
بٹالہ، ضلع گرداسپور، برطانوی ہندوستان
وفات 25 ستمبر 1998(1998-09-25)ء
نیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکا
قلمی نام آغا بابر
پیشہ افسانہ نگار، ڈراما نویس
زبان اردو
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل مہاجر
مادر علمی جامعہ پنجاب
اصناف افسانہ، ڈراما
ادبی تحریک حلقہ ارباب ذوق
نمایاں کام چاک گریباں
لب گویا
اڑن طشتری
کہانی بولتی ہے

آغا بابر (پیدائش: 31 مارچ، 1919ء- وفات: 25 ستمبر، 1998ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور ڈراما نویس تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

آغا بابر 31 مارچ، 1919ء کوبٹالہ، ضلع گرداسپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا صل نام سجاد حسین تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں میں مکالمہ نویس کے طور پر کام کیا اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے اورانٹر سروسز پبلک ریلیشنزکے جریدے مجاہد اور ہلال کے مدیر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور عمر کا باقی حصہ انہوں نے وہیں بسر کیا۔ وہ مشہور افسانہ نگار اور مؤرخ عاشق حسین بٹالوی اور ممتاز قانون دان اعجاز حسین بٹالوی کے بھائی تھے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

آغا بابر اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں چاک گریباں ،لب گویا، اڑن طشتری، کہانی بولتی ہے ، حوا کی کہانی اور پھول کی کوئی قیمت نہیں کے علاوہ ڈراموں کے تن مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہونیش عشق شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری بھی لکھنی شروع کی تھے مگر وہ ان کی وفات کہ وجہ سے ادھوری رہ گئے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  • چاک گریباں
  • لب گویا
  • اڑن طشتری
  • کہانی بولتی ہے
  • پھول کی کوئی قیمت نہیں
  • حوا کی کہانی

ڈرامے[ترمیم]

  • بڑا صاحب
  • سیش فائر
  • گوارا ہونیش عش

وفات[ترمیم]

آغا بابر 25 ستمبر، 1998ء کو نیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکا میں وفات پاگئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ص 825، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء