آغا سید حامد علی شاہ موسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آغا سید حامد علی شاہ موسوی پاکستان کی سب سے بڑی اور فعال شیعہ تنظیم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ ہیں جنہیں مفتی جعفر حسین کے انتقال کے بعد 9-10 فروری 1984 کو اسد آباد دینہ جہلم میں منعقد ہونے والے آل پاکستان شیعہ کنونشن میں 'قائد ملت جعفریہ' منتخب کیا گیا۔اس تاریخی شیعہ کنونش کی صدارت علامہ اظہر حسن زیدی اعلیٰ اللہ مقامہ اور آیۃ اللہ العظمی علامہ ضمیر الحسن نجفی لکھنوی اعلیٰ اللہ مقامہ نے فرمائی تھی [1][2]

آغا سید حامد علی شاہ موسوی اپنے تقوی ، پرہیز گاری اورانسانیت دوستی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں ۔ آپ کے عقیدت مندوں میں بلاتفریق شیعہ و سنی تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں ۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

'

ابتدائی حالات زندگی[ترمیم]

آغا سید حامد علی شاہ موسوی وریامال چکوال کے معروف سادات گھرانے سے تعلق رکھتےہے۔آپ نے 1940 میں گوٹھ خان صاحب تھرپارکر(موجودہ میر پور خاص) سندھ میں آنکھ کھولی جہاں آپ کے خانوادہ کی زرعی زمینیں تھیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مڈل اسکول کریالہ چکوال سے حاصل کی۔ بعد ازاں دینی تعلیم کے لیے معروف دینی درسگاہ دار العلوم محمدیہ تشریف لے گئے ۔ کچھ ہی عرصہ بعد آپ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے۔

اساتذہ کرام[ترمیم]

آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے نجف اشرف میں دنیائے شیعیت کے مرجع اعظم آیۃ اللہ العظمی محسن الحکیم طباطبائی ، آیۃ اللہ العظمی ابو القاسم الخوئی، آیۃ اللہ العظمی روح اللہ موسوی الخمینی، آیۃ اللہ العظمی مفتی الشیعہ، آیۃ اللہ العظمی محمود شاہرودی، آیۃ اللہ العظمی جواد تبریزی جیسی نابغائے روزگار علمی شخصیات سے تعلیم حاصل کی ۔

پاکستان واپسی[ترمیم]

خطہ پوٹھوہار سے تعلق رکھنے والے شیعیان علیؑ نے دنیائے شیعیت کے مرجع اعظم آیۃ اللہ محسن الحکیم سے رابطہ کیا کہ مقامی شیعوں کی راہنمائی کے لیے اپنے نمائندے کا تعین فرمائیں ۔ آیۃ اللہ محسن الحکیم نے پہلے اپنے داماد آیۃ اللہ محمد علی الحکیم کو پاکستان بھیجا اور بعد ازاں اپنے نمائندے کے طور پر آغا سید حامد علی شاہ موسوی کا تعین فرمایا جو حوزہ علمیہ نجف اشرف میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکے ہیں ۔ پاکستان آمد کے بعد آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے علی مسجد سیٹلائیٹ ٹاؤن میں دینی فرائض سر انجام دینا شروع کیے اور دینی درسگاہ جامعۃ المومنین کی بنیاد رکھی ۔

منصب قیادت[ترمیم]

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پہلے سربراہ علامہ مفتی جعفر حسین 29 اگست 1983 کو انتقال فرما گئے۔ تو نومبر1983 میں پاکستان بھر سے شیعہ عمائدین کا وفد آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی خدمت میں پہنچا اور انہیں شیعہ قوم کی قیادت پر قائل کرنے کی کوشش کی وفد کی قیادت علامہ ساجد علی نقوی کر رہے تھے ۔ جب آغاحامد علی شاہ موسوی نے منصب قیادت سنبھالنے سے معذوری کا اظہار کیا تو علامہ ساجد علی نقوی نے آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کی چادر کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے قیادت قبول نہ کی تو بروز محشر ہم امام کی بارگاہ میں شکایت کریں گے ۔ اس پر آغا حامد موسوی نے اس شرط پر قیادت سنبھالنا قبول کیا کہ پوری قوم سے اس کی توثیق لی جائے گی ۔ اس کے نتیجے میں اسد آباد دینہ جہلم کے مقام پر 9-10 فروری کو دوروزہ آل پاکستان شیعہ کنونشن منعقد ہوا جسے پاکستان کے سب سے بڑئے شیعہ اجتماع کی حیثیت حاصل ہے ۔ کنونش کی صدارت آیۃ اللہ ضمیر الحسن نجفی اور خطیب اعظم علامہ اظہر حسن زیدی نے کی ۔ اس کے علاوہ کنونش میں علامہ مرزا یوسف حسین لکھنوی ،فاتح ٹیکسلا علامہ بشیر حسین انصاری ، آیۃ اللہ علامہ بادشاہ حسین پارا چنار، مناظر اعظم علامہ تاج الدین حیدری ،معروف شاعر محسن نقوی شہید، ذاکر ریاض حسین شاہ موچھ، ذاکر خادم حسین شاہ چک 38، علامہ عرفان حیدر عابدی سمیت پاکستان کے طول وعرض سے لاکھوں شیعیان علی نے شرکت کی ۔

ضیاء الحق کی آمریت کا مقابلہ ۔ حسینی محاذ ایجی ٹیشن[ترمیم]

جب آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے قیادت سنبھالی تو پاکستان کو جنرل ضیا ء الحق کی آمریت کا سامنا تھا جس میں انسانی اور سیاسی آزادیاں سلب تھیں اور مکتب تشیع کو بالخصوص شدید تعصب کا سامنا تھا۔ اسی دوران ضیا ء الحق نے پولیس ایکٹ کی دوفعہ تیس (3) میں ترمیم کرتے ہوئے مذہبی جلوسوں پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ اس پابندی کا مطلب عاشورا سمیت عزاداری کے تمام جلوسوں اور میلاد لنبی وغیرہ کے اجتماعات پر پابندی تھی ۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس پابندی کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکتوبر 1984 کو حسینی محاذ ایجی ٹیشن کا اعلان کر دیا اور 10 محرم کے روز جیل بھرو تحریک کا اعلان کر دیا۔ مارشل لائی حکومت نے آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو فوارہ چوک راولپنڈی سے گرفتار کر لیا۔ اور ملک بھر میں شیعہ عوام آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی قیادت میں مذۃبی جلوسوں کی پابندی کے خلاف میدان میں آگئے ۔ شہر شہر پرامن مظاہرے ہونے لگے اور گرفتاریوں کا سلسلہ زور پکڑتا گیا۔ ہر روز 5، جمعرات کو 12 اور جمعہ کو 14 گرفتاریاں پیش کی جاتیں ۔ اس دوران دو افراد صفدر علی نقوی اور اشرف علی رضوی حکومتی تشدد سے شہید ہو گئے جس کے سبب حسینی محاذ ایجی ٹیشن میں مزید قوت پیدا ہو گئی ۔ غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں جب محمد خان جونیجو کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے مذاکرات کا آغاز کر دیا گیااور بالآخر 21 مئی 1985 کو مکتب تشیع اور حکومت کے مابین تاریخی معاہدہ طے پاگیا جسے موسوی جونیجو معاہدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ معاہدے کی رو سے یہ طے پایا کہ عزاداری امام حسین ؑ اور میلاد لانبی ؐ کے جلوس حکومتی پابندی سے مستثنی ہوں گے یوں حسینی محاذ ایجی ٹیشن کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

بیرونی امداد لینے سے انکار[ترمیم]

آغا سید حامد علی شاہ موسوی پاکستان میں لڑی جانے والی پراکسی وار کے خلاف آواز بلند کی اور واضھ کیا کہ بیرونی قوتیں پاکستان میں مختلف مکاتب کو لڑاکر واحد اسلامی نظریاتی ریاست کو کمزور کرنا چاہتی ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو ملنے والی بیرونی امداد کو روکا جائے ۔

فرقہ وارانہ سیاست کی مخالفت[ترمیم]

ضیاء الحق کی آمریت پاکستان میں تعصبات کے بیج بو رہی تھی اسی مقصد کے لیے 80 کی دہائی میں لسانی مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کو انتخابات میں اتارا گیا تاکہ قومی جماعتوں کو فروغ دیا جاسکے ۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اس سازش کے خلاف آواز بلند کی اور موقف اختیار کیا کہ فرقے ، زبان ، نسل علاقے کی بنیاد پر سیاست ملک کے لیے زہر قاتل ہے ۔